السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2401. -- باب: ما جاء في التحلل، وما يحتج به من أجاز الصلح على الإنكار
-- باب: ایک دوسرے کو معاف کروا لینے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے، اور ان دلائل کا بیان جن سے اس شخص نے حجت پکڑی جس نے صلح علی الانکار (انکار کے باوجود صلح کرنے) کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 11358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا؛ فَإِنَّهُ لَيْسَتْ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَتْ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کروائے؛ اس لیے کہ آخرت میں درہم و دینار نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو (مظلوم) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11358]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري 2449۔6534»
الحكم على الحديث: صحيح بخاري 2449
حدیث نمبر: 11359
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسَةً، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَشْيَاءَ قَدْ دُرِسَتْ وَبَادَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ شَيْءٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ بِحُجَّةٍ أَرَاهَا فَاقْتَطَعَ بِهَا مِنْ مَالِ أَخِيهِ ظُلْمًا أَتَى بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي ⦗١٠٩⦘ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ الَّذِي أَطْلُبُ، قَالَ:" لَا، وَلَكِنِ اذْهَبَا فَاسْتَهِمَا وَتَوَخَّيَا، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ انصار کے دو آدمی آئے۔ وہ آپس میں کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو کر مٹ چکی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان صرف ان معاملات میں فیصلہ کرتا ہوں جن کے بارے میں مجھ پر کچھ نازل نہیں ہوا۔ پس جس کے حق میں میں کسی ایسی دلیل کی بنا پر فیصلہ کر دوں جو مجھے درست لگے اور وہ اس کے ذریعے اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ ظلم کے ساتھ لے لے تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن میں آگ کی سلاخ ہو گی۔“ وہ دونوں آدمی رونے لگے اور ہر ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس حق کا میں مطالبہ کر رہا ہوں وہ اس کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن جاؤ اور قرعہ ڈالو اور حق کا ارادہ کرو، پھر تم میں سے ہر ایک دوسرے کو معاف کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11359]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11360
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَزْهَرَ، عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّى يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ".
محارب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّىٰ يَصْطَلِحُوا، فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ» ”مخالفین (جھگڑنے والوں) کو واپس لوٹا دیا کرو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں، اس لیے کہ فیصلہ کن فیصلہ لوگوں کے درمیان کینے (اور دشمنیاں) پیدا کر دیتا ہے۔“ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11360]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، ثنا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رُدُّوا الْخُصُومَ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّهُ أَبْرَأُ لِلصِّدْقِ، وَأَقَلُّ لِلْحِنَاتِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دو تاکہ وہ صلح کر لیں، یہ سچائی کے قریب اور عداوت سے دور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11361]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11362
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ الْجَزَرِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رُدُّوا الْخُصُومَ إِذَا كَانَ بَيْنَهُمْ قَرَابَةٌ؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُوَرِّثُ بَيْنَهُمُ الشَّنَآنَ" هَذِهِ الرِّوَايَاتُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دیا کرو جب ان کے درمیان قرابت ہو، بے شک فیصلے سے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایات منقطع ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11362]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایات منقطع ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11362]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف