السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2425. -- باب: من يجوز إقراره
-- باب: جس شخص کا اقرار کرنا جائز (معتبر) ہے۔
حدیث نمبر: 11449
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا غَيْلَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ ⦗١٣٨⦘ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفَرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ"، فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَاسْتَغْفَرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ"، فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِمَّ أُطَهِّرُكَ؟" قَالَ: مِنَ الزِّنَا، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِهِ جُنُونٌ؟" فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ:" أَشَرِبْتَ خَمْرًا؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَثَيِّبٌ أَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، وَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ، قَائِلٌ يَقُولُ: قَدْ هَلَكَ مَاعِزٌ عَلَى أَسْوَأِ عَمَلِهِ، لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مَنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ، إِنْ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ: اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ، قَالَ: فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ:" اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ"، قَالَ: فَقَالُوا: غَفَرَ اللهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهَا".
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! لوٹ جا اور اللہ سے توبہ و استغفار کر۔“ وہ تھوڑی دور جا کر پھر واپس پلٹ آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! لوٹ جا اور اللہ سے توبہ و استغفار کر۔“ وہ تھوڑی دور جا کر پھر واپس پلٹ آئے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا، جب وہ چوتھی مرتبہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز سے پاک کروں؟“ انہوں نے عرض کی: ”زنا سے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ مجنون تو نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ مجنون نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس نے شراب پی ہے؟“ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے ماعز رضی اللہ عنہ کے منہ کی بو سونگھنے کی کوشش کی لیکن کچھ محسوس نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول!۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں رجم کر دیا گیا۔ اب لوگوں کے دو گروہ بن گئے۔ کچھ یہ کہہ رہے تھے کہ ماعز رضی اللہ عنہ اپنے برے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو گئے اور ان کی غلطی نے انہیں گھیر لیا ہے، جبکہ کچھ لوگ کہہ رہے تھے: ”ماعز رضی اللہ عنہ کی توبہ سے افضل کسی کی توبہ نہیں ہو سکتی، کیونکہ انہوں نے خود آکر اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا اور عرض کی کہ مجھے پتھروں سے رجم کر دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو یا تین دن گزرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماعز کے لیے استغفار کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”اللہ ماعز بن مالک (رضی اللہ عنہ) کو معاف فرمائے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر پوری امت کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11449]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1695»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11450
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ فِي قِصَّةِ الرَّجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انہوں نے خبر دی دو آدمیوں کے قصے کی، وہ دونوں اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس سلمی کو حکم دیا کہ: ”وہ دوسرے آدمی کی بیوی کے پاس جائے، اگر وہ اعتراف کرلے تو اس کو رجم کر دے۔“ پس اس نے اعتراف کر لیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11450]
تخریج الحدیث: «بخاري 6828، مسلم 1698»
الحكم على الحديث: بخاري 6828، مسلم 1698
حدیث نمبر: 11451
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا، أَفُلَانٌ، أَفُلَانٌ؟ ⦗١٣٩⦘ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَبَعَثَ إِلَى الْيَهُودِيِّ، فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کو اس حالت میں پایا گیا کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچلا گیا تھا، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ کس نے یہ کیا، فلاں نے؟ فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا، اس (لونڈی) نے اپنے سر سے اشارہ کیا، اس یہودی کو بلایا گیا، اس نے اعتراف کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11451]
تخریج الحدیث: «بخاري 2413، مسلم 1672»
الحكم على الحديث: بخاري 2413، مسلم 1672
حدیث نمبر: 11452
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيُّ، أَنَّ رَجُلًا أَقَرَّ عِنْدَ شُرَيْحٍ ثُمَّ ذَهَبَ يُنْكِرُ، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ:" شَهِدَ عَلَيْكَ ابْنُ أُخْتِ خَالَتِكَ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ أَنَّ شُرَيْحًا قَالَ لَهُ:" شَهِدَ عَلَيْكَ ابْنُ أُخْتِ خَالَتِكَ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے شریح رحمہ اللہ کے پاس اقرار کیا، پھر انکار کرنے لگا، شریح رحمہ اللہ نے اسے کہا: تیری خالہ کی بہن کے بیٹے نے تیرے بارے میں گواہی دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11452]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن سعد 6/136»
الحكم على الحديث: صحيح