السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2430. -- باب: إقرار الوارث بوارث
-- باب: ایک وارث کا دوسرے وارث (کے وارث ہونے) کا اقرار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11463
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرْقُوبِيُّ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ يَقْبِضَ إِلَيْهِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، قَالَ عُتْبَةُ: إِنَّهُ ابْنِي، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدٌ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ مَعَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلِيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، قَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا أَخِي ابْنُ زَمْعَةَ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَإِذَا هُوَ أَشْبَهُ النَّاسِ ⦗١٤٢⦘ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ"، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ" لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ الْحَكَمِ بْنِ نَافِعٍ.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو لے لینا۔ عتبہ نے کہا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ جب فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سعد رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! میرے بھائی کا بیٹا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔“ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بھائی ہے اور زمعہ کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کی طرف دیکھا، وہ عتبہ بن ابی وقاص کے مشابہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے پاس رہے گا اے عبد بن زمعہ! اس لیے کہ وہ اپنے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سودہ بنت زمعہ! اس سے پردہ کیا کر۔“ عتبہ بن ابی وقاص کے مشابہ ہونے کی وجہ سے (ایسا فرمایا گیا) اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11463]
تخریج الحدیث: «بخاري 2053، مسلم 1457»
الحكم على الحديث: بخاري 2053، مسلم 1457
حدیث نمبر: 11464
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، ح وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: اخْتَصَمَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَخِي عُتْبَةَ أَوْصَانِي فَقَالَ: إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ؛ فَإِنَّهُ ابْنِي، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ" لَفْظُ حَدِيثِ الْحُمَيْدِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ:" هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ". وَهَذِهِ زِيَادَةٌ مَحْفُوظَةٌ، وَقَدْ رَوَاهَا أَيْضًا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی، اس نے کہا تھا: جب تو مکہ آئے تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو تلاش کر کے لے لینا، اس لیے کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، وہ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ عتبہ کے مشابہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عبد بن زمعہ کے پاس رہے گا۔ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور اے سودہ رضی اللہ عنہا! اس سے پردہ کیا کر۔“
(ب) ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”اے عبد! وہ تیرا بھائی ہے۔“
یہ اضافہ محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11464]
(ب) ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”اے عبد! وہ تیرا بھائی ہے۔“
یہ اضافہ محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11464]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: عَهِدَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنْ يَقْبِضَ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، وَقَالَ عُتْبَةُ: إِنَّهُ ابْنِي، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: هَذَا ابْنُ أَخِي، عَهِدَ إِلِيَّ أَبُوهُ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَإِذَا أَشْبَهُ النَّاسِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي ⦗١٤٣⦘ وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ"؛ مِنْ أَجَلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ"؛ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ قَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَذَكَرَ هَذِهِ اللَّفْظَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو لے لینا اور عتبہ نے یہ بھی کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ پس جب فتح مکہ کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے، اس کے باپ نے مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کی طرف دیکھا، وہ عتبہ کے مشابہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد! وہ تیرا بھائی ہے اور تیرے پاس رہے گا؛ اس لیے کہ وہ اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے سودہ! اس سے پردہ کیا کر“؛ اس لیے کہ وہ عتبہ کے مشابہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11465]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11466
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَتْ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَتَّطِئُهَا، وَكَانَ رَجُلٌ يَتْبَعُهَا يَظُنُّ بِهَا، فَمَاتَ زَمْعَةُ وَالْجَارِيَةُ حُبْلَى، فَوَلَدَتْ غُلَامًا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ يُظَنُّ بِهَا، فَسَأَلَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَمَّا الْمِيرَاثُ فَهُوَ لَهُ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكِ بِأَخٍ" فَإِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ لَا يُقَاوِمُ إِسْنَادَ الْحَدِيث الْأَوَّلِ؛ لِأَنَّ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ رُوَاتُهُ مَشْهُورُونَ بِالْحِفْظِ وَالْفِقْهِ وَالْأَمَانَةِ، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُخْبِرُ عَنْ تِلْكَ الْقِصَّةِ كَأَنَّهَا شَهِدَتْهَا، وَالْحَدِيثُ الْآخَرُ فِي رُوَاتِهِ مَنْ نُسِبَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ إِلَى سُوءِ الْحِفْظِ، وَهُوَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَفِيهِمْ مَنْ لَا يُعْرَفُ بِسَبَبٍ يَثْبُتُ بِهِ حَدِيثُهُ، وَهُوَ يُوسُفُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ قِيلَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَوِ الزُّبَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ كَأَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الْقِصَّةَ لِصِغَرِهِ، فَرِوَايَةُ مَنْ شَهِدَهَا، وَجَمِيعِ مَنْ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِهَا حُفَّاظٌ ثِقَاتٌ مَشْهُورُونَ بِالْفِقْهِ وَالْعَدَالَةِ، أَوْلَى بِالَأخْذِ بِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ. ⦗١٤٤⦘ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ، إِنْ كَانَ قَالَهُ:" فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكِ بِأَخٍ شَبَهًا، وَإِنْ كَانَ لَكِ بِحُكْمِ الْفِرَاشِ أَخًا"، فَلَا يَكُونُ قَوْلُهُ:" هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ" مُخَالِفًا؛ فَقَدْ أَلْحَقَهُ بِالْفِرَاشِ حَتَّى حَكَمَ لَهُ بِالْمِيرَاثِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی، وہ اس سے وطی کرتا تھا اور ایک آدمی اس کا پیچھا کرتا تھا جس پر اس لونڈی کے بارے میں شک کیا جاتا تھا۔ زمعہ فوت ہو گیا جبکہ لونڈی حاملہ تھی، اس نے ایک لڑکا جنا جو اس آدمی کے مشابہ تھا جس پر شک کیا جاتا تھا۔ پس سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میراث اس (لڑکے) کی ہے اور تو اس سے پردہ کیا کر، اس لیے کہ وہ تیرا بھائی نہیں ہے“۔
اس حدیث کی سند پہلی حدیث کی سند کا مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ پہلی حدیث کے راوی حفظ، فقہ اور امانت میں مشہور ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتی ہیں گویا وہ اس میں موجود تھیں، جبکہ دوسری حدیث کے راویوں میں ایک ایسا راوی ہے جس کی طرف آخری عمر میں حافظے کی خرابی منسوب کی گئی ہے اور وہ جریر بن عبدالحمید ہے، اور ان میں ایک ایسا راوی بھی ہے جو کسی ایسی وجہ سے معروف نہیں جس سے اس کی حدیث ثابت ہو، اور وہ یوسف بن زبیر ہے، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی کم عمری کی وجہ سے گویا اس واقعہ میں موجود نہیں تھے، لہٰذا اس کی روایت جو واقعہ میں موجود تھیں اور جس کی سند کے تمام راوی فقہ و عدالت میں مشہور ثقہ حفاظ ہیں، اختیار کرنے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔
اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے یہ مراد ہو سکتی ہے کہ شبیہ میں وہ تیرا بھائی نہیں ہے، اگرچہ بستر کے حکم سے وہ تیرا بھائی ہے۔ لہٰذا یہ اس قول کے مخالف نہیں کہ ”اے عبد! وہ تیرا بھائی ہے“۔ پس اس کو ملا دیا بستر والے کے ساتھ جب اس کے لیے میراث کا فیصلہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11466]
اس حدیث کی سند پہلی حدیث کی سند کا مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ پہلی حدیث کے راوی حفظ، فقہ اور امانت میں مشہور ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتی ہیں گویا وہ اس میں موجود تھیں، جبکہ دوسری حدیث کے راویوں میں ایک ایسا راوی ہے جس کی طرف آخری عمر میں حافظے کی خرابی منسوب کی گئی ہے اور وہ جریر بن عبدالحمید ہے، اور ان میں ایک ایسا راوی بھی ہے جو کسی ایسی وجہ سے معروف نہیں جس سے اس کی حدیث ثابت ہو، اور وہ یوسف بن زبیر ہے، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی کم عمری کی وجہ سے گویا اس واقعہ میں موجود نہیں تھے، لہٰذا اس کی روایت جو واقعہ میں موجود تھیں اور جس کی سند کے تمام راوی فقہ و عدالت میں مشہور ثقہ حفاظ ہیں، اختیار کرنے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔
اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے یہ مراد ہو سکتی ہے کہ شبیہ میں وہ تیرا بھائی نہیں ہے، اگرچہ بستر کے حکم سے وہ تیرا بھائی ہے۔ لہٰذا یہ اس قول کے مخالف نہیں کہ ”اے عبد! وہ تیرا بھائی ہے“۔ پس اس کو ملا دیا بستر والے کے ساتھ جب اس کے لیے میراث کا فیصلہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِقْرَارِ/حدیث: 11466]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف