السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2458. -- باب: لا تجوز الإجارة حتى تكون معلومة، وتكون الأجرة معلومة
-- باب: اجارہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ کام معلوم نہ ہو اور اجرت متعین نہ ہو۔
حدیث نمبر: Q11651
اسْتِدْلَالًا بِمَا رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَالِإجَارَاتُ صِنْفٌ مِنَ الْبُيُوعِ، وَالْجَهَالَةُ فِيهَا غَرَرٌ.
اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے جو ہم کتاب البیوع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر چکے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا، اور اجارے بھی بیوع ہی کی ایک قسم ہیں، اور ان میں (کسی چیز کا) نامعلوم ہونا دھوکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: Q11651]
حدیث نمبر: 11651
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُسَاوِمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَايَعُوا بِإِلْقَاءِ الْحَجَرِ، وَمَنِ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَلْيُعْلِمْهُ أَجْرَهُ" كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ، وَكَذَا فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقِيلَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے اور نہ بولی لگائے اور نہ پتھر پھینکنے سے بیع کرے اور جو اجرت پر کسی کو رکھے، اسے مزدوری طے کر لینی چاہیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11651]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11652
وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ، يَعْنِي حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُ أَجْرَهُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗١٩٩⦘ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَهُ. وَهُوَ مُرْسَلٌ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَأَبِي سَعِيدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ مُرْسَلًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مزدور کو اجرت پر رکھنے سے منع فرمایا، یعنی جب تک اس کی اجرت اس کے لیے واضح نہ کر دے۔“
یہ روایت ابراہیم اور ابوسعید کے درمیان مرسل (منقطع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11652]
یہ روایت ابراہیم اور ابوسعید کے درمیان مرسل (منقطع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11652]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11653
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: وَثنا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ، يَعْنِي عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَفِينَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، فَانْطَلَقْتُ أَلْتَمِسُ الْمَعِيشَةَ، فَأَلْفَيْتُ قَوْمًا يُرِيدُونَ يَنْحَرُونَ جَزُورًا لَهُمْ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمْ كَفَيْتُكُمْ نَحْرَهَا وَعَمَلَهَا وَأَعْطُونِي مِنْهَا، فَفَعَلْتُ فَأَعْطَوْنِي مِنْهَا شَيْئًا، فَصَنَعْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَنِي: مِنْ أَيْنَ هُوَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أُسْمِعُكَ قَدْ تَعَجَّلْتَ أَجْرَكَ، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَرَكْتُهَا، قَالَ: ثُمَّ أَبْرَدُونِي فِي فَتْحٍ لَنَا، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَاحِبُ الْجَزُورِ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ: لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ" قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي هَذَا إِنَّ الْأُجْرَةَ كَانَتْ مَجْهُولَةً، وَفِي الذِّمَّةِ مُعَلَّقَةً بِعَيْنٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جنگ کی اور ہمارے امیر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے اور ہم میں سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ ہمیں شدت کی بھوک لگی۔ میں چلا کہ کوئی کام تلاش کروں۔ میں نے ایک قوم کو پایا وہ اونٹ ذبح کرنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا: اگر تم چاہو تو میں تمہارا یہ کام کر دیتا ہوں اور مجھے اس سے کچھ دے دینا۔ میں نے ایسا کیا تو انہوں نے مجھے اس میں سے کچھ دیا، میں نے اسے پکایا۔ پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے سوال کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ میں نے بتایا تو انہوں نے کہا: تو نے اجرت میں جلدی کی ہے اور کھانے سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی بات کہی اور کھانے سے انکار کر دیا۔ میں نے یہ دیکھ کر اسے چھوڑ دیا، کہتے ہیں: پھر ہمیں ایک فتح ملی تو انہوں نے مجھے اس کی خبر دے کر قاصد بنا کر بھیجا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ والے تم ہو“ اور مجھے کچھ نہ کہا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں یہ بات ہے کہ اجرت مجہول تھی اور ذمہ میں تھی جو ایک معین چیز سے متعلق تھی، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11653]
شیخ فرماتے ہیں: اس میں یہ بات ہے کہ اجرت مجہول تھی اور ذمہ میں تھی جو ایک معین چیز سے متعلق تھی، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11653]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11654
وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ الْقَاضِي، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا:" أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ، وَأَعْلِمْهُ أَجْرَهُ وَهُوَ فِي عَمَلِهِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عِمْرَانَ الْقَطَّانُ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْوَرْدِ الْمَقْدِسِيُّ بِإِسْفَرَائِينَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زَيْدٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ فَذَكَرَهُ، وَهَذَا ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مزدور کو اس کا حق پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو اور جب وہ کام میں لگا ہو تو اسے اس کی مزدوری بتا دو۔“
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11654]
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11654]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11655
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" نَشَأْتُ يَتِيمًا، وَهَاجَرْتُ مِسْكِينًا، وَكُنْتُ أَجِيرًا لِابْنِ عَفَّانَ وَابْنَةِ غَزْوَانَ عَلَى طَعَامِ بَطْنِي وَعُقْبَةِ رِجْلِي، أَحْتَطِبُ لَهُمْ إِذَا نَزَلُوا، وَأَحْدُو بِهِمْ إِذَا سَارُوا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الدِّينَ قِوَامًا، وَأَبَا هُرَيْرَةَ إِمَامًا" ⦗٢٠٠⦘ فَلَيْسَ فِي هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ بِهِ فَأَقَرَّهُمْ عَلَى ذَلِكَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا مُوَاضَعَةً بَيْنَهُمْ عَلَى سَبِيلِ التَّرَاضِي لَا عَلَى سَبِيلِ التَّعَاقُدِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی اور میں نے مسکینی کی حالت میں ہجرت کی، اور میں ابن عفان اور بنت غزوان کے ہاں اپنے پیٹ کے کھانے اور (سواری پر) اپنی باری کے عوض مزدور تھا۔ جب وہ پڑاؤ ڈالتے تو میں ان کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرتا اور جب وہ چلتے تو میں ان کے لیے حدی خوانی کرتا۔
اب تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کو مضبوطی بخشی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔
اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جان لینے کے بعد بھی برقرار رہنے دیا اور احتمال ہے کہ یہاں دونوں کے درمیان رضامندی تھی نہ کہ عقد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11655]
اب تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کو مضبوطی بخشی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔
اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جان لینے کے بعد بھی برقرار رہنے دیا اور احتمال ہے کہ یہاں دونوں کے درمیان رضامندی تھی نہ کہ عقد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11655]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه 247»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11656
وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَدْفَعَ الرَّجُلَ إِلَى الرَّجُلِ الثَّوْبَ فَيَقُولُ:" بِعْهُ بِكَذَا وَكَذَا، فَمَا زِدْتَ فَهُوَ لَكَ" وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِذَلِكَ. وَهَذَا أَيْضًا يَكُونُ عَلَى سَبِيلِ الْمُرَاضَاةِ لَا عَلَى سَبِيلِ الْمُعَاقَدَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی کسی دوسرے آدمی کو کپڑا دے اور کہے: ”اسے اتنے اتنے میں بیچ دو، جو زیادہ ملے وہ تمہارا ہے۔“
یہ بھی دونوں کی رضامندی سے ہوگا نہ کہ (عقد) لازم کرنے سے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11656]
یہ بھی دونوں کی رضامندی سے ہوگا نہ کہ (عقد) لازم کرنے سے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11656]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف