السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2473. -- باب: من زرع في أرض غيره بغير إذنه أو بإذنه على سبيل المزارعة
-- باب: جس شخص نے کسی دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر، یا اس کی اجازت سے مزارعت کے طور پر کھیتی باڑی کی۔
حدیث نمبر: 11742
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، ح وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ فِي الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ: يَرْفَعُهُ، وَقَالَ:" فَلَهُ نَفَقَتُهُ، وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر مزارعت کی اس کے لیے زراعت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور اسے صرف اس کا خرچ دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11742]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11743
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11743]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11744
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَاضِي، بِهُرَاةَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَرَوِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ بُكَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا أَخَذَهَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِي زَرْعَهُ فَسَأَلَهُ:" لِمَنْ هَذَا؟" فَقَالَ: الزَّرْعُ لِي، وَهِيَ أَرْضُ بَنِي فُلَانٍ أَخَذْتُهَا، لِيَ الشَّطْرُ وَلَهُمُ الشَّطْرُ، قَالَ: فَقَالَ:" انْفُضْ يَدَكَ مِنْ غُبَارِهَا، وَرُدَّ الْأَرْضَ إِلَى أَهْلِهَا، وَخُذْ نَفَقَتَكَ"، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخَذَ نَفَقَتَهُ وَرَدَّ إِلَيْهِمْ أَرْضَهُمْ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انھوں نے بنی فلاں کی زمین میں زراعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں کھیتوں کو پانی دے رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کس کے کھیت ہیں؟“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: کھیت میرے ہیں اور زمین بنی فلاں کی ہے، میں نے اس سے نصف پر لی ہے اور نصف اس کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے غبار سے اپنے ہاتھوں کو جھاڑ لے اور زمین مالک کو دے دے اور اپنا خرچہ لے لے۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا، میں نے ان کو خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور اپنا خرچ لیا اور ان کو ان کی زمین لوٹا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11744]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ قَالَ: بَعَثَنِي عمي أَنَا وَغُلَامًا لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: شَيْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِي حَدِيثٍ، فَأَتَاهُ، فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ فَقَالَ:" مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ"، فَقَالُوا: لَيْسَ لِظُهَيْرٍ، قَالَ:" ⦗٢٢٦⦘ أَلَيْسَ أَرْضَ ظُهَيْرٍ؟" قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ، قَالَ:" فَخُذُوا زَرْعَكُمْ وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ"، قَالَ رَافِعٌ: فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا، وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ. قَالَ سَعِيدٌ: أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكِرْهُ بِالدَّرَاهِمِ. ظَاهِرُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الزَّرْعَ يَتْبَعُ الْأَرْضَ، وَفُقَهَاءُ الْأَمْصَارِ عَلَى أَنَّ الزَّرْعَ يَتْبَعُ الْبَذْرَ، وَلَوْ ثَبَتَ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِي خِلَافِهَا حُجَّةٌ، إِلَّا أَنَّ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ يَنْفَرِدُ بِهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ لَا يَرْوِي عَنْهُ، وَيُضَعِّفُ حَدِيثَهُ جِدًّا، ثُمَّ هُوَ مُرْسَلٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ: الْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَلْقَ عَطَاءً رَافِعًا.
ابو جعفر خطمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے میرے چچا نے اپنے ایک غلام کے ساتھ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف بھیجا، ہم نے ان سے پوچھا کہ زراعت کے بارے میں آپ سے ہمیں کچھ خبر ملی ہے تو انہوں نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ ان کو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث ملی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارثہ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہیر کی زمین میں زراعت دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنی اچھی کھیتی ہے ظہیر کی۔“ انہوں نے کہا: یہ کھیتی ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: زمین ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی زراعت لے لو اور خرچ لوٹا دو۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور خرچہ لوٹا دیا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: اپنے بھائی کو دے دو یا درہموں کے بدلے کرایہ پر دے دو۔
ان احادیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کھیتی زمین کے تابع ہے، جبکہ بڑے شہروں کے فقہاء اس پر ہیں کہ کھیتی بیج کے تابع ہے۔ اگر یہ احادیث ثابت ہوتیں تو کسی کے لیے ان کی مخالفت میں کوئی دلیل نہ ہوتی، مگر پہلی حدیث کو بیان کرنے میں شریک بن عبداللہ اور قیس بن ربیع منفرد ہیں۔ قیس بن ربیع اہل علم حدیث کے نزدیک ضعیف ہے اور شریک بن عبداللہ مختلف فیہ ہے، یحییٰ بن سعید قطان اس سے روایت نہیں کرتے تھے اور اس کی حدیث کو سخت ضعیف قرار دیتے تھے، پھر یہ مرسل بھی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب البویطی میں فرمایا: یہ حدیث منقطع ہے؛ کیونکہ عطاء کی رافع سے ملاقات نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11745]
ان احادیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کھیتی زمین کے تابع ہے، جبکہ بڑے شہروں کے فقہاء اس پر ہیں کہ کھیتی بیج کے تابع ہے۔ اگر یہ احادیث ثابت ہوتیں تو کسی کے لیے ان کی مخالفت میں کوئی دلیل نہ ہوتی، مگر پہلی حدیث کو بیان کرنے میں شریک بن عبداللہ اور قیس بن ربیع منفرد ہیں۔ قیس بن ربیع اہل علم حدیث کے نزدیک ضعیف ہے اور شریک بن عبداللہ مختلف فیہ ہے، یحییٰ بن سعید قطان اس سے روایت نہیں کرتے تھے اور اس کی حدیث کو سخت ضعیف قرار دیتے تھے، پھر یہ مرسل بھی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب البویطی میں فرمایا: یہ حدیث منقطع ہے؛ کیونکہ عطاء کی رافع سے ملاقات نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11745]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 3401»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11746
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ عَطَاءً عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ مُرْسَلٌ، حَتَّى تَبَيَّنَ لِي أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ أَيْضًا عَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلٌ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ قِيمَةُ نَفَقَتِهِ" قَالَ يُوسُفُ: غَيْرُ حَجَّاجٍ لَا يَقُولُ عَبْدَ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ الشَّيْخُ: أَبُو إِسْحَاقَ كَانَ يُدَلِّسُ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يَقُولُونَ: عَطَاءٌ عَنْ رَافِعٍ مُنْقَطِعٌ. وَقَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَا يَثْبُتُ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُوسَى بْنِ هَارُونَ الْحَمَّالِ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ وَيُضَعِّفُهُ وَيَقُولُ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ غَيْرُ شَرِيكٍ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ غَيْرُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ شَيْئًا، قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ عُقْبَةُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَعُقْبَةُ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، ⦗٢٢٧⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ رَافِعٍ فَبُكَيْرٌ وَإِنِ اسْتَشْهَدَ بِهِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الثَّالِثُ فَرَوَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْخَطْمِيُّ، وَلَمْ أَرَ الْبُخَارِيَّ وَلَا مُسْلِمًا احْتَجَّا بِهِ فِي حَدِيثٍ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِيَ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَعْنَاهُ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر زراعت کی، اس کے لیے زراعت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور اسے اس کے خرچ کی قیمت دے دی جائے گی۔“
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا تھا کہ عطاء کی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، یہاں تک کہ مجھ پر واضح ہوا کہ ابو اسحاق کی عطاء سے روایت بھی مرسل ہے۔ یوسف کہتے ہیں: حجاج کے علاوہ کوئی عبدالعزیز (بن رفیع) کا ذکر نہیں کرتا، وہ کہتے ہیں: ابو اسحاق سے، وہ عطاء سے۔ ابو اسحاق تدلیس کرتے تھے اور اہل علم حدیث کہتے ہیں: عطاء کی رافع سے روایت منقطع ہے۔ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ماہرینِ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں ہے؛ موسیٰ بن ہارون حمال اس حدیث کا انکار کرتے اور اسے ضعیف قرار دیتے تھے اور کہتے تھے: اسے ابو اسحاق سے شریک کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء سے ابو اسحاق کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسے عقبہ بن اصم نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، لیکن عقبہ ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں لی جاتی۔ رہی بکیر بن عامر بجلی کی ابن ابی نعم سے، رافع رضی اللہ عنہ سے روایت، تو بکیر سے اگرچہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں استشہاد کیا ہے، لیکن یحییٰ بن سعید قطان، حفص بن غیاث، احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور تیسری حدیث کو ابو جعفر عمیر بن یزید خطمی نے روایت کیا ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ امام بخاری یا امام مسلم نے کسی حدیث میں اس سے حجت لی ہو، واللہ اعلم۔ اور رفاعہ بن رافع بن خدیج سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11746]
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا تھا کہ عطاء کی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، یہاں تک کہ مجھ پر واضح ہوا کہ ابو اسحاق کی عطاء سے روایت بھی مرسل ہے۔ یوسف کہتے ہیں: حجاج کے علاوہ کوئی عبدالعزیز (بن رفیع) کا ذکر نہیں کرتا، وہ کہتے ہیں: ابو اسحاق سے، وہ عطاء سے۔ ابو اسحاق تدلیس کرتے تھے اور اہل علم حدیث کہتے ہیں: عطاء کی رافع سے روایت منقطع ہے۔ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ماہرینِ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں ہے؛ موسیٰ بن ہارون حمال اس حدیث کا انکار کرتے اور اسے ضعیف قرار دیتے تھے اور کہتے تھے: اسے ابو اسحاق سے شریک کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء سے ابو اسحاق کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسے عقبہ بن اصم نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، لیکن عقبہ ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں لی جاتی۔ رہی بکیر بن عامر بجلی کی ابن ابی نعم سے، رافع رضی اللہ عنہ سے روایت، تو بکیر سے اگرچہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں استشہاد کیا ہے، لیکن یحییٰ بن سعید قطان، حفص بن غیاث، احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور تیسری حدیث کو ابو جعفر عمیر بن یزید خطمی نے روایت کیا ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ امام بخاری یا امام مسلم نے کسی حدیث میں اس سے حجت لی ہو، واللہ اعلم۔ اور رفاعہ بن رافع بن خدیج سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11746]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح