السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2478. -- باب: ما جاء في قطع السدرة
-- باب: بیری کا درخت کاٹنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11758
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُبْشِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ".
سیدنا عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بیری کا درخت کاٹا اللہ اس کا سر آگ میں ڈالیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11758]
تخریج الحدیث: «ابو داؤد 5241»
الحكم على الحديث: ابو داؤد 5241
حدیث نمبر: 11759
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِ رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نصر بن علی نے ابوداؤد کی روایت کی طرح بیان کیا ہے، صرف یہاں سے سند مختلف ہے: «عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”ابن جبیر بن مطعم سے، وہ عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11759]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 11760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الصِّلْحِيُّ بِفَمِ الصِّلْحِ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: هَكَذَا كَتَبْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَسْعَدَةَ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَهُوَ خَطَأٌ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ. قَوْلُهُ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَصَارَتْ رِوَايَةُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ بِهَذَا مَعْلُولَةً، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو أُسَامَةَ رَوَاهُ عَلَى الْوَجْهَيْنِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بیری کا درخت کاٹا، اللہ اس کا سر آگ میں ڈالیں گے۔“
ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ہم نے اسے مسعدہ کی حدیث سے اسی طرح لکھا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی اور یہ غلطی ہے، ابن جریج نے تو اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور ابو اسامہ نے بھی اسے ابن جریج سے (اسی طرح) روایت کیا ہے۔ چنانچہ نصر بن علی کی ابو اسامہ سے اس سند والی روایت معلول ہو گئی، اور یہ احتمال ہے کہ ابو اسامہ نے اسے دونوں طرح روایت کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11760]
ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ہم نے اسے مسعدہ کی حدیث سے اسی طرح لکھا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی اور یہ غلطی ہے، ابن جریج نے تو اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور ابو اسامہ نے بھی اسے ابن جریج سے (اسی طرح) روایت کیا ہے۔ چنانچہ نصر بن علی کی ابو اسامہ سے اس سند والی روایت معلول ہو گئی، اور یہ احتمال ہے کہ ابو اسامہ نے اسے دونوں طرح روایت کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11760]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 11761
وَقَدْ رَوَاهُ مَعْمَرٌ كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِي الَّذِي يَقْطَعُ السِّدْرَ، قَالَ:" يُصَبُّ ⦗٢٣١⦘ عَلَيْهِ الْعَذَابُ"، أَوْ قَالَ:" يُصَوَّبُ رَأْسُهُ فِي النَّارِ"، قَالَ: فَسَأَلْتُ بَنِي عُرْوَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عُرْوَةَ قَطَعَ سِدْرَةً كَانَتْ فِي حَائِطٍ فَجَعَلَ بَابًا لِحَائِطٍ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ مِنْ ثِقِيفٍ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیری کے متعلق حدیثِ مرفوع بیان کرتے ہیں: ”اس پر عذاب پیش کیا جائے گا“ یا فرمایا: ”اس کا سر آگ میں پھینکا جائے گا۔“ راوی ثقیف کہتے ہیں: مجھے عروہ رحمہ اللہ کے بیٹوں نے خبر دی کہ عروہ رحمہ اللہ نے بیری کو کاٹا جو باغ میں تھی، اس سے باغ کے لیے دروازہ بنایا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11761]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11762
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الَّذِينَ يَقْطَعُونَ السِّدْرَ يَصُبُّهُمُ اللهُ عَلَى رُءُوسِهِمْ فِي النَّارِ صَبًّا" أَبُو عُثْمَانَ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَكِّيُّ، وَهَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْهُ مُرْسَلًا.
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ بیری کاٹتے ہیں اللہ ان کو سر کے بل آگ میں ڈالے گا۔“
یہ ابو عثمان محمد بن شریک مکی ہیں، اور ان سے محفوظ یہی ہے کہ یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11762]
یہ ابو عثمان محمد بن شریک مکی ہیں، اور ان سے محفوظ یہی ہے کہ یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11762]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11763
وَقَدْ رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الَّذِينَ يَقْطَعُونَ السِّدْرَ يُصَبُّونَ فِي النَّارِ عَلَى رُءُوسِهِمْ صَبًّا" أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: مَا أُرَاهُ حَفِظَهُ عَنْ وَكِيعٍ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ، يَعْنِي الْقَاسِمَ، وَالْمَحْفُوظُ رِوَايَةُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ، وَمَنْ تَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ بیری کاٹتے ہیں ان کو سروں کے بل آگ میں ڈالا جائے گا۔“
ابو علی فرماتے ہیں: میرا خیال نہیں کہ اس (قاسم بن ابی شیبہ) نے اسے وکیع سے صحیح یاد رکھا ہو، اور (محدثین نے) اس پر کلام کیا ہے۔ محفوظ ابو احمد زبیری اور ان کی متابعت کرنے والوں کی روایت ہے جو محمد بن شریک سے، وہ عمرو بن دینار سے، وہ عمرو بن اوس سے، وہ عروہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11763]
ابو علی فرماتے ہیں: میرا خیال نہیں کہ اس (قاسم بن ابی شیبہ) نے اسے وکیع سے صحیح یاد رکھا ہو، اور (محدثین نے) اس پر کلام کیا ہے۔ محفوظ ابو احمد زبیری اور ان کی متابعت کرنے والوں کی روایت ہے جو محمد بن شریک سے، وہ عمرو بن دینار سے، وہ عمرو بن اوس سے، وہ عروہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11763]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 11764
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ شَيْخًا مِنْ ثَقِيفٍ قَدْ أَفْسَدَ السِّدْرُ زَرْعَهُ، فَقُلْتُ: أَلَا تَقْطَعُهُ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِلَّا مِنْ زَرْعٍ"؟ فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ إِلَّا مِنْ زَرْعٍ صُبَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ صَبًّا"، فَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أَقْطَعَهُ مِنَ الزَّرْعِ وَمِنْ غَيْرِهِ" فَهَذَا إِسْنَادٌ آخَرُ لِعَمْرِو بْنِ أَوْسٍ سِوَى رِوَايَتِهِ عَنْ عُرْوَةَ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ.
عمرو بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے بنی ثقیف کے ایک بزرگ کو دیکھا کہ بیری کے درخت نے اس کے کھیتوں کو خراب کر دیا تھا۔ میں نے کہا: تم اسے کاٹ کیوں نہیں دیتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتی کے علاوہ کاٹنے سے منع کیا ہے۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ”جس نے بیری کو کھیتی کے علاوہ کاٹا اس پر عذاب برسایا جائے گا“، میں ناپسند کرتا ہوں کہ اسے کھیتی سے کاٹوں یا اس کے علاوہ سے۔
یہ عروہ سے ان کی روایت کے علاوہ عمرو بن اوس کی ایک اور سند ہے، اگر ابراہیم بن یزید نے اسے صحیح یاد رکھا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11764]
یہ عروہ سے ان کی روایت کے علاوہ عمرو بن اوس کی ایک اور سند ہے، اگر ابراہیم بن یزید نے اسے صحیح یاد رکھا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11764]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11765
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَكِيعٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الضَّبِّيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢٣٢⦘ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:" قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْرُجْ فَأَذِّنْ فِي النَّاسِ مِنَ اللهِ لَا مِنْ رَسُولِهِ: لَعَنَ اللهُ قَاطِعَ السِّدْرَةِ" هَكَذَا قَالَهُ شَيْخُنَا فِي غَرَائِبِ الشُّيُوخِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں اعلان کر دو اللہ کی طرف سے نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کہ اللہ بیری کے درخت کاٹنے والے پر لعنت کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11765]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ خُزَيْمَةَ الدِّينَوَرِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَكَذَا قَالَ لَنَا هَذَا الشَّيْخُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ فِي إِسْنَادِهِ وَهْمٌ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ جُرَيْجٍ فِي إِسْنَادِهِ وَهُوَ الصَّوَابُ. وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ مُرْسَلًا، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْخُوزِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَسُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِلَّا مِنْ زَرْعٍ" قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ مُضْطَرِبٌ، وَإِبْرَاهِيمُ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ.
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ: ”کھیتی کے علاوہ۔“
ابو علی فرماتے ہیں: اس شیخ نے ہمیں اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند میں ابن جریج (کا ذکر) وہم ہے، ابراہیم بن منذر نے اسے ہشام بن سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم بن یزید سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن جریج کا ذکر نہیں کیا اور یہی درست ہے۔ ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ابراہیم بن یزید کی حدیث مضطرب ہے اور ابراہیم ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11766]
ابو علی فرماتے ہیں: اس شیخ نے ہمیں اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند میں ابن جریج (کا ذکر) وہم ہے، ابراہیم بن منذر نے اسے ہشام بن سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم بن یزید سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن جریج کا ذکر نہیں کیا اور یہی درست ہے۔ ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ابراہیم بن یزید کی حدیث مضطرب ہے اور ابراہیم ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11766]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11767
كَمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" اخْرُجْ يَا عَلِيُّ فَقُلْ عَنِ اللهِ لَا عَنْ رَسُولِ اللهِ: لَعَنَ اللهُ مَنْ يَقْطَعُ السِّدْرَ" قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: كُلُّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ وَضَعِيفٌ، إِلَّا حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي هَلْ سَمِعَ سَعِيدٌ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبَشِيٍّ أَمْ لَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولًا إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا.
سیدنا ابوجعفر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرضِ وفات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے علی! جاؤ، اللہ کی طرف سے اعلان کرو، نہ کہ رسول کی طرف سے کہ اللہ لعنت کرے اس پر جو بیری کاٹے۔“
یہ سب روایات منقطع اور ضعیف ہیں، سوائے ابن جریج کی حدیث کے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ سعید نے عبداللہ بن حبشی سے سنا ہے یا نہیں، اور احتمال ہے کہ انہوں نے سنا ہو، واللہ اعلم۔ اور یہ ایک دوسری متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے، اگر وہ محفوظ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11767]
یہ سب روایات منقطع اور ضعیف ہیں، سوائے ابن جریج کی حدیث کے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ سعید نے عبداللہ بن حبشی سے سنا ہے یا نہیں، اور احتمال ہے کہ انہوں نے سنا ہو، واللہ اعلم۔ اور یہ ایک دوسری متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے، اگر وہ محفوظ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11767]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف