🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2503. -- باب: من قال: لا حبس عن فرائض الله عز وجل
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا کہ اللہ عزوجل کے مقرر کردہ فرائض (وراثت) سے روکنے کے لیے کوئی وقف نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11906
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَمَّنْ سَمِعَ عِكْرِمَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَتِ الْفَرَائِضُ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَبْسَ بَعْدَ سُورَةِ النِّسَاءِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سورہ النساء میں فرائض کے احکام نازل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ نساء کے بعد روکنا جائز نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11906]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11907
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا عِيسَى بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ وَفُرِضَ فِيهَا الْفَرَائِضُ، يَقُولُ:" لَا حَبْسَ بَعْدَ سُورَةِ النِّسَاءِ".
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، سورہ نساء نازل ہونے اور اس میں فرائض کے حصے مقرر کیے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ نساء کے بعد روکنا جائز نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11907]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11908
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ مُوسَى ⦗٢٦٩⦘ الصَّدَفِيُّ بِمِصْرَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى بْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَبْسَ عَنْ فَرَائِضِ اللهِ" قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ أَخِيهِ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا اللَّفْظُ إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ قَوْلِ شُرَيْحٍ الْقَاضِي.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے فرائض سے روک لینا جائز نہیں ہے۔“
اسے ابن لہیعہ کے سوا کسی نے اپنے بھائی سے مسند بیان نہیں کیا، اور وہ دونوں ضعیف ہیں۔ یہ الفاظ دراصل قاضی شریح کے قول کے طور پر معروف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11908]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11909
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ: أَتَيْتُ شُرَيْحًا فِي زَمَنِ بِشْرِ بْنِ مَرْوَانَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَاضٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَيَّةَ أَفْتِنِي، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّمَا أَنَا قَاضٍ وَلَسْتُ بِمُفْتٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي وَاللهِ مَا جِئْتُ أُرِيدُ خُصُومَةً، إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْحِيِّ جَعَلَ دَارَهُ حَبْسًا، قَالَ عَطَاءٌ: فَدَخَلَ مِنَ الْبَابِ الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ دَخَلَ وَتَبِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُهُ لِحَبِيبٍ الَّذِي يُقَدِّمُ الْخُصُومَ إِلَيْهِ:" أَخْبِرِ الرَّجُلَ أَنَّهُ لَا حَبْسَ عَنْ فَرَائِضِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں بشر بن مروان کے زمانہ میں شریح کے پاس آیا اور وہ ان دنوں قاضی تھے، میں نے کہا: اے ابوامیہ! مجھے فتویٰ دو۔ انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں قاضی ہوں، مفتی نہیں۔ میں نے کہا: میں لڑائی کے ارادے سے نہیں آیا، قبیلے کے ایک آدمی نے گھر روک لیا ہے۔ عطاء نے کہا: وہ مسجد والے دروازے سے داخل ہوئے، میں نے سنا جب وہ داخل ہوئے اور ان کے پیچھے ہو لیا، وہ حبیب سے کہہ رہے تھے جو جھگڑا لے کر آیا تھا کہ آدمی کو بتا دو: اللہ کے فرائض سے روکنا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11909]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11910
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ:" جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْعِ الْحَبْسِ".
شریح رحمہ اللہ نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم حبس (روکنے) کی ممانعت لے کر آئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11910]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 29031»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: قَالَ مَالِكٌ:" الْحَبْسُ الَّذِي جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِطْلَاقِهِ هُوَ الَّذِي فِي كِتَابِ اللهِ {مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ} [المائدة: ١٠٣] " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: كَلَّمَ بِهِ مَالِكٌ أَبَا يُوسُفَ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: وہ حبس جسے ختم کرنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں وہی ہے جو اللہ کی کتاب میں ہے ﴿مَا جَعَلَ اللَّـهُ مِن بَحِيرَةٍ﴾ [سورة المائدة: 103] ”اللہ نے بحیرہ مقرر نہیں کیا (جس اونٹنی کا کان کاٹ دیا جائے) اور نہ سائبہ (وہ جانور جو سن رسیدہ ہو جائے) اور نہ وصیلہ (اوپر تلے بچے دینے والی مادہ) اور نہ حام (جب اونٹ خاص حالت کو پہنچ جاتا تو اس پر سواری نہ کرتے اور نہ سامان لادتے)۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے اس بارے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے امیر المومنین کے سامنے گفتگو کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11911]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: اجْتَمَعَ مَالِكٌ وَأَبُو يُوسُفَ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَتَكَلَّمَا فِي الْوُقُوفِ وَمَا يَحْبِسُهُ النَّاسُ، فَقَالَ يَعْقُوبُ: هَذَا بَاطِلٌ، قَالَ شُرَيْحٌ: جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِطْلَاقِ الْحَبْسِ، فَقَالَ مَالِكٌ: إِنَّمَا جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى الله عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ بِإِطْلَاقِ مَا كَانُوا يَحْبِسُونَهُ لِآلِهَتِهِمْ مِنَ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ، فَأَمَّا الْوُقُوفُ فَهَذَا وَقْفُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا" وَهَذَا وَقْفُ الزُّبَيْرِ. فَأَعْجَبَ الْخَلِيفَةَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَبَقِيَ يَعْقُوبُ.
محمد بن عبداللہ بن حکم فرماتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے: امام مالک اور امام ابو یوسف امیر المؤمنین کے پاس جمع ہوئے۔ وہ دونوں وقف اور لوگ جو روکتے ہیں اس بارے میں باتیں کرنے لگے۔ یعقوب نے کہا: یہ باطل ہے، شریح نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم حبس کو توڑنے آئے ہیں۔ مالک نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحیرہ، سائبہ جن کو لوگ روک لیتے ہیں اسے توڑنے آئے ہیں۔ رہا وقف کرنا یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وقف ہے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصل کو روک لے اور اس کا پھل اللہ کے راستے میں وقف کر دے“ اور یہ زبیر کا وقف ہے، خلیفہ کو تعجب ہوا اور یعقوب باقی رہ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11912]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11913
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ⦗٢٧٠⦘ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَائِطِي هَذَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ قِوَامَ عَيْشِنَا،" فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُمَا ابْنُهُمَا بَعْدُ" هَذَا مُرْسَلٌ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ، وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، كُلُّهُنَّ مَرَاسِيلُ، وَالْحَدِيثُ وَارِدٌ فِي الصَّدَقَةِ الْمُنْقَطِعَةِ، وَكَأَنَّهُ تَصَدَّقَ بِهِ صَدَقَةَ تَطَوُّعٍ، وَجَعَلَ مَصْرَفَهَا إِلَى اخْتِيَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبَوَيْهِ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جنہیں اذان خواب میں سنائی گئی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ باغ صدقہ ہے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ پھر ان کے والدین آئے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے گزر بسر کا ذریعہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کی طرف لوٹا دیا، پھر وہ دونوں فوت ہو گئے۔ اس کے بعد ان کے بیٹے وارث بن گئے۔
یہ روایت مرسل ہے، ابوبکر بن حزم نے عبداللہ بن زید کو نہیں پایا، اور یہ عبداللہ بن زید سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے اور وہ سب مرسل ہیں۔ یہ حدیث غیر دائمی صدقے کے بارے میں وارد ہوئی ہے، گویا کہ انہوں نے نفلی صدقہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خرچ کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے والدین پر صدقہ کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11913]
تخریج الحدیث: «الدارقطني 4/ 202»

الحكم على الحديث: الدارقطني 4/ 202
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں