🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2511. -- باب: اتخاذ المسجد والسقايات وغيرها
-- باب: مسجد، پانی پلانے کی جگہیں (سبیلیں) اور ان جیسی دیگر اشیاء بنانے کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11931
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ الْخَوْلَانِيَّ يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٢٧٦⦘ يَقُولُ:" مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا"، قَالَ بُكَيْرٌ: أَحْسِبُهُ قَالَ:" يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللهِ بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
عبید اللہ خولانی رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی باتوں کے وقت سنا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد بنا رہے تھے کہ تم نے (باتیں) زیادہ کی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی“—بکیر راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی رضا کی خاطر—اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11931]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11932
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ وَأَرَادُوا أَنْ يَدَعَهُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى الله لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا اور انہوں نے چاہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے (پہلے کی طرح) رہنے دیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کا گھر مسجد بنائے گا تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11932]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، أنبأ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ حُوصِرَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ، وَلَا أَنْشُدُ إِلَّا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَفَرَ بِئْرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ"، فَحَفَرْتُهَا؟ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ"، فَجَهَّزْتُهُمْ؟ فَصَدَّقُوهُ بِمَا قَالَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ.
ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ چھت پر چڑھ کر گئے اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو قسم دیتا ہوں۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «بِئْرَ رُومَةَ» ”بئرِ رومہ“ کھودے گا، اس کے لیے جنت ہے۔“ پس میں نے اسے کھودا۔ کیا تم جانتے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «جَيْشَ الْعُسْرَةِ» ”جیش العسرہ“ (تنگی والا لشکر، جنگ تبوک) کو تیار کرے گا، اس کے لیے جنت ہے۔“ پس میں نے اس کو تیار کیا۔ انہوں نے آپ کی تصدیق کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11933]
تخریج الحدیث: «بخاري 2778»

الحكم على الحديث: بخاري 2778
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُحِيطَ بِدَارِهِ أَشْرَفَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءَ فَقَالَ:" اسْكُنْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ"؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ:" مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً؟" وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ مُعْسِرُونَ مَجْهُودُونَ، فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ، فَابْتَعْتُهَا بِمَالِي فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ فِي أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا.
حضرت ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا اور ان کے گھر کو گھیر لیا گیا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرا، ٹھہر جا! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید ہے“؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔
پھر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ تبوک میں فرمایا: ”کون خرچ کرے گا اور یہ خرچ قبول کیا جائے گا؟“ اور لوگ اس دن تنگی میں تھے، میں نے اپنے مال سے لشکر کا ایک تہائی خرچ برداشت کیا۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا: میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس دن پانی خرید کر پیا جاتا تھا تو میں نے بئرِ رومہ خرید کر سب کے لیے غنی، فقراء اور مسافر کے لیے وقف کر دیا؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا، کتنی ہی چیزیں گنوائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11934]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11935
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ ⦗٢٧٧⦘ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَهَا هُنَا عَلِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَا هُنَا طَلْحَةُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَا هُنَا الزُّبَيْرُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَا هُنَا سَعْدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللهُ لَهُ"، فَابْتَعْتُهُ، قَالَ: أَحْسِبُ أَنَّهُ قَالَ: بِعِشْرِينَ أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهُ، قَالَ:" اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا، وَأَجْرُهُ لَكَ"؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللهُ لَهُ"، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ، قَالَ:" اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ، وَأَجْرُهَا لَكَ"؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَقَالَ:" مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللهُ لَهُ"، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ خِطَامًا وَلَا عِقَالًا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللهُمُ اشْهَدِ، اللهُمَّ اشْهَدِ، اللهُمُ اشْهَدْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے قصہ بیان کیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو پوچھا: کیا یہاں علی (رضی اللہ عنہ) ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر طلحہ (رضی اللہ عنہ) کا پوچھا: انہوں نے کہا: ہاں، پھر پوچھا: زبیر (رضی اللہ عنہ) یہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر پوچھا: سعد (رضی اللہ عنہ) یہاں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بنی فلاں کا کھلیان خریدے گا اللہ اسے معاف فرمائے گا“، تو میں نے اسے خرید لیا، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: بیس یا پچیس ہزار میں، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں نے اسے خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو اور اس کا اجر تجھے ملے گا“؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بئرِ رومہ خریدے گا اللہ اسے معاف فرمائیں گے“، میں نے اس کو خریدا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے کہا: میں نے بئرِ رومہ خریدا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دو اور اس کا اجر تجھے ملے گا“، انہوں نے ہاں میں جواب دیا، پھر کہا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ تبوک والے لشکر کے چہروں کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”جو اس لشکر کو تیار کرے گا اللہ اسے معاف فرمائے گا“۔ میں نے ان کو تیار کیا، یہاں تک کہ وہ کوئی نکیل یا رسی بھی کم نہ پاتے تھے، انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہنا، تین دفعہ یہ الفاظ کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11935]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 511»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ وَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَيْسَ فِيهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ فَقَالَ:" مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَكُونُ دَلْوُهُ فِيهَا مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟" فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، قَالَ: وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟" فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي، أَوْ قَالَ: مِنْ صُلْبِ مَالِي، فَزِدْتُهَا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَجْهِيزِ جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَقِصَّةِ ثَبِيرٍ.
ثمامہ بن حزن قشیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں گھر میں گیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ تھے، انہوں نے کہا: میں تم کو اسلام اور اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو «بِئْرَ رُومَةَ» کے علاوہ کہیں بھی میٹھا پانی نہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «بِئْرَ رُومَةَ» خریدے گا اور اس کا ڈول بظاہر مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ ہوگا، لیکن جنت میں اس کے لیے بہتر ہوگا۔“ میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خریدا، لیکن آج تم مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو! یہاں تک کہ میں سمندر کا پانی پیتا ہوں، انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا: میں تم کو اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ مسجد تنگ تھی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آلِ فلاں کا گھر خریدے گا، اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہوگا۔“ پس میں نے اپنے مال سے اس کو خریدا اور میں نے مسجد میں اضافہ کیا، لیکن آج تم مجھے اسی مسجد میں نماز پڑھنے سے روکتے ہو! انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11936]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ الترمذي 3703»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11937
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَرَّاحِ الْغَزِّيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ رُزَيْقٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَزِيدَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَتْ زِيَادَتُهُ عَلَى دَارِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعَوِّضَهُ مِنْهَا، فَأَبَى وَقَالَ: قَطِيعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاخْتَلَفَا فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ ⦗٢٧٨⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَأَتَيَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، وَكَانَ يُسَمَّى سَيِّدَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَمَرَ لَهُمَا بِوِسَادَةٍ فَأُلْقِيَتْ لَهُمَا، فَجَلَسَا عَلَيْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَذَكَرَ عُمَرُ مَا أَرَادَ، وَذَكَرَ الْعَبَّاسُ قَطِيعَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أُبَيٌّ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ عَبْدَهُ وَنَبِيَّهُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ يَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا، قَالَ: أَيْ رَبِّ، وَأَيْنَ هَذَا الْبَيْتُ؟ قَالَ: حَيْثُ تَرَى الْمَلَكَ شَاهِرًا سَيْفَهُ، فَرَآهُ عَلَى الصَّخْرَةِ، وَإِذَا مَا هُنَاكَ يَوْمَئِذٍ أَنْدَرٌ لِغُلَامٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَتَاهُ دَاوُدُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَبْنِيَ هَذَا الْمَكَانَ بَيْتًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ الْفَتَى: آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَهَا مِنِّي بِغَيْرِ رِضَايَ؟ قَالَ: لَا، فَأَوْحَى اللهُ إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ فِي يَدِكَ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَأَرْضِهِ، فَأَتَاهُ دَاوُدُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ بِرِضَاكَ، فَلَكَ بِهَا قِنْطَارٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ يَا دَاوُدُ، وَهِيَ خَيْرٌ أَمِ الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: بَلْ هِيَ خَيْرٌ، قَالَ: فَأَرْضِي، قَالَ: فَلَكَ بِهَا ثَلَاثُ قَنَاطِيرَ، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يُشَدِّدُ عَلَى دَاوُدَ حَتَّى رَضِيَ مِنْهُ بِتِسْعِ قَنَاطِيرَ" قَالَ الْعَبَّاسُ: اللهُمَّ لَا آخُذُ لَهَا ثَوَابًا وَقَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَى جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَبِلَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهُ فَأَدْخَلَهَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جگہ کا اضافہ کریں تو زیادتی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر تک پہنچ گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد میں داخل کریں اور ان کو معاوضہ دے دیں، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ زمین ہے۔“ دونوں میں اختلاف ہو گیا، انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو اپنے درمیان فیصلہ کرنے والا مان لیا۔ وہ دونوں ان کے گھر میں آئے اور ان کا نام سید المسلمین تھا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے لیے گدا بچھانے کا حکم دیا۔ وہ دونوں سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو ارادہ کیا تھا وہ ذکر کیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا قطعہ ہے، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے (حدیث بیان کرتے ہوئے) کہا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی داؤد (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اس کا گھر بنائے۔ داؤد (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے رب! کہاں گھر بناؤں؟ اللہ نے فرمایا: جہاں تو فرشتے کو تلوار سونتے ہوئے دیکھے۔ داؤد (علیہ السلام) نے اسے چٹان پر دیکھا اور اس وقت وہاں بنی اسرائیل کے ایک لڑکے کا کھلیان تھا۔
داؤد (علیہ السلام) اس کے پاس آئے اور کہا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اس جگہ پر اللہ کا گھر بناؤں۔ نوجوان نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ میری رضا کے بغیر اسے مجھ سے لے لیں؟ داؤد (علیہ السلام) نے کہا: نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ میں نے تیرے ہاتھ میں زمین کے خزانے دیے ہیں، پس تو اس کو راضی کر۔ داؤد (علیہ السلام) اس کے پاس آئے اور کہا: مجھے تمہیں راضی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے بدلے تمہارے لیے سونے کا ایک قنطار ہے۔ اس نے کہا: اے داؤد! میں نے قبول کیا، لیکن وہ (جگہ) بہتر ہے یا قنطار؟ داؤد (علیہ السلام) نے کہا: وہ بہتر ہے، اس نے کہا: پس آپ مجھے راضی کر دیں، داؤد (علیہ السلام) نے کہا: تیرے لیے تین قنطار ہیں۔ وہ مسلسل داؤد (علیہ السلام) پر شدت کرتا رہا یہاں تک کہ وہ نو قنطار پر راضی ہوا۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ! میں اس کا کوئی نفع نہ لوں گا اور میں نے وہ مسلمانوں کی جماعت پر صدقہ کر دیا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11937]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن عساكر 26/ 369»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11938
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ كَامِلٍ الْعَطَّارُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ لِلْعَبَّاسِ دَارٌ إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ فِي الْمَدِينَةِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بِعْنِيهَا أَوْ هَبْهَا لِي؛ حَتَّى أُدْخِلَهَا فِي الْمَسْجِدِ" فَأَبَى، فَقَالَ: اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَضَى لِلْعَبَّاسِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَأَ عَلَيَّ مِنْكَ، فَقَالَ أُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ: أَوْ أَنْصَحَ لَكَ مِنِّي، ثُمَّ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا بَلَغَكَ حَدِيثُ دَاوُدَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَهُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَأَدْخَلَ فِيهِ بَيْتَ امْرَأَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِهَا، فَلَمَّا بَلَغَ حُجَزَ الرِّجَالِ مَنَعَهُ اللهُ بِنَاءَهُ، قَالَ دَاوُدُ: أَيْ رَبِّ، إِنْ مَنَعْتَنِي بِنَاءَهُ، فَاجْعَلْهُ فِي خَلَفِي. فَقَالَ الْعَبَّاسُ:" أَلَيْسَ قَدْ قَضَيْتَ لِي بِهَا وَصَارَتْ لِي؟" قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُهَا لِلَّهِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا گھر مدینہ میں مسجد کی جانب تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے بیچ دو یا ہبہ کر دو تاکہ میں (اسے) مسجد میں داخل کرلوں۔“ انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: ”میرے اور اپنے درمیان اصحابِ نبی میں سے کسی کو فیصل بنا لو۔“ انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو فیصل مان لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے مجھ پر آپ سے زیادہ جرأت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کا زیادہ خیر خواہ ہوں، پھر کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو داؤد کی حدیث ملی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر بیت المقدس بنانے کا حکم دیا تو داؤد نے ایک عورت کا گھر بغیر اجازت کے داخل کر لیا۔ جب (عمارت) آدمیوں کی کمر کے برابر پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے گھر بنانے سے منع کر دیا۔ داؤد نے کہا: ”اے میرے رب! اگر مجھے روک دیا ہے تو میرے بعد کس کو گھر بنانے کا حکم دے دینا۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ نے میرے حق میں فیصلہ نہیں کیا اور وہ میرا ہو گیا؟“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیوں نہیں!“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ گھر اللہ کے لیے وقف کر دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11938]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں