🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2630. -- باب: المرض الذي يجوز فيه الأعطية
-- باب: اس بیماری کا بیان جس میں عطیات دینا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12656
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: عَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ (انہوں نے فرمایا): ”حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی بیماری میں میری عیادت کے لیے تشریف لائے جس سے میں موت کے کنارے پہنچ گیا تھا۔“ پھر انہوں نے اپنی وصیت کے بارے میں (پوری) حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: Q12656]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12656
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ:" رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي طَعْنِهِ، قَالَ:" فَاحْتُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ، فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ"، قَالَ:" فَقَائِلٌ يَقُولُ: لَا بَأْسَ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: نَخَافُ عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ مَيِّتٌ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ وَفِي أَمْرِ الشُّورَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (زخمی ہونے سے پہلے) دیکھا، پھر مدینہ میں ان کو نیزہ مارے جانے والی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب انہیں گھر لایا گیا تو ہم بھی ان کے ساتھ تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا: کوئی حرج نہیں، اور ایک نے کہا: ہمیں ڈر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس نبیذ لائی گئی اور آپ کو پلائی گئی، تو وہ زخم سے باہر نکل آئی۔ پھر دودھ پلایا گیا، وہ بھی زخم سے باہر نکل آیا، تو انہوں نے پہچان لیا کہ وہ وفات پا جائیں گے، پھر عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے شوریٰ کے معاملہ والی وصیت کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12656]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3700»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں