السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2652. جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل
باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 12759
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْمَاجِشُونِ قَالَ: أَخْبَرَنِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ: يَا عَمَّاهُ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، وَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَدُورُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُمَا: أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ، فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ:" أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟" فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟" قَالَا: لَا، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ:" كِلَاكُمَا قَتَلَهُ"، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَكَانَا مُعَاذَ ابْنَ عَفْرَاءَ وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو انصار کے دو نو عمر لڑکے تھے، میں نے خواہش کی کہ کاش میں کسی بڑی عمر والے آدمی کے ساتھ ہوتا، پس ان میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا اور کہا: اے چچا! کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں اور اے بھتیجے! تجھے اس کی کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے علیحدہ نہیں ہوں گا، حتیٰ کہ ہم میں سے پہلے فوت ہونے والا فوت ہو جائے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، اتنے میں دوسرے نے بھی ایسی ہی بات کہی، تھوڑی ہی دیر میں میں نے ابوجہل کو دیکھا، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا، میں نے ان سے کہا: وہ ہے، جس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے تھے، وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف دوڑے، ان دونوں نے اس کو مارا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کرلی ہیں؟“ دونوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا تو فرمایا: ”دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے“ اور اس (ابوجہل) کے سلب کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ کے حق میں کیا اور وہ دونوں معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہما تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3141۔ مسلم 1752»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَالِاحْتِجَاجُ بِهَذَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ غَيْرُ جَيِّدٍ؛ فَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِنَا هَذَا كَيْفَ كَانَتْ حَالُ الْغَنِيمَةِ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ، وَإِنَّمَا الْحُجَّةُ فِي إِعْطَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَاتِلِ السَّلَبَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ وَغَيْرِهِ.
اس حدیث سے اس مسئلہ میں دلیل لینا صحیح نہیں ہے۔ ہماری اس کتاب میں گزر چکا ہے کہ بدر کے دن غنیمت کا کیا حال تھا یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی، اس مسئلہ کی دلیل تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگِ بدر کے بعد قاتل کو سلب دینا ہے اور یہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی حدیث میں واضح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٩٩⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ ح وَأنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟" فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَاهَا اللهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ؛ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ" قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَنِيهِ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ مَالِكٌ: الْمَخْرَفُ: النَّخْلُ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے دن نکلے، جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان شکست میں تھے، میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے (ایک) آدمی پر غلبہ پا رہا ہے، (قتادہ کہتے ہیں) میں واپس پھرا، میں اس کے پیچھے سے آیا، میں نے اس کی گردن پر ضرب لگائی، وہ میری طرف لپکا، اس نے مجھے دبوچ لیا، میں نے اس سے اپنی روح قبض ہوتی پائی، پھر وہ فوت ہو گیا، اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ملا، میں نے پوچھا: مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ والا معاملہ ہے، پھر لوگ فتح پر لوٹ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی قتل کرے پھر اس پر گواہ بنا لے تو اس کے لیے مقتول کا سامان ہے،“ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا: کون میری گواہی دے گا؟ (جب کوئی نہ کھڑا ہوا) تو میں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دفعہ پھر کہا، میں پھر کھڑا ہوا، میں نے کہا: کون میری گواہی دے گا؟ (جب کوئی نہ اٹھا) تو میں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری بار وہی بات کہی، میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوقتادہ! تجھے کیا ہے؟“ میں نے سارا قصہ بیان کیا، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے سچ کہا اور اس کا مال میرے پاس ہے، آپ قتادہ کو راضی کر دیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ ہرگز ایسا نہ کریں گے، اللہ کے شیر کے بارے میں جو اللہ کی طرف سے لڑا ہے کہ تجھے اس کا سلب دے دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، پس تو وہ قتادہ کو دے دے،“ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (شخص) نے وہ سامان مجھے دے دیا، میں نے اس زرہ کو بیچ دیا، اس کی قیمت سے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا، وہ میرا پہلا مال تھا جو مجھے اسلام میں حاصل ہوا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12762
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْكَجِّيُّ يَعْنِي أَبَا مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا؛ يُكْثِرُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ، فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عِبَادَ اللهِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ"، فَهَزَمَ اللهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ يُضْرَبْ بِسَيْفٍ، وَلَمْ يُطْعَنْ بِرُمْحٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" ⦗٥٠٠⦘ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَأَخَذَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ: فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، فَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ عَجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذَ سَلَبَهُ، فَانْظُرْ مَعَ مَنْ فَأَعْطِنِيهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللهِ لَا يُفِيئُهَا اللهُ تَعَالَى عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" صَدَقَ عُمَرُ"، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: إِنْ دَنَا مِنِّي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَبْعَجُ بَطْنَهُ، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا الطُّلَقَاءَ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ" أَخْرَجَ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ آخِرَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن حنین کے دن عورتوں، بچوں، اونٹوں اور بکریوں کو لے آئے، انہوں نے سب کچھ صفوں میں کھڑا کر دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں زیادہ تھے۔ مسلمانوں اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا، مسلمان واپس پلٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اے انصار کی جماعت! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور نہ تلوار چلائی گئی اور نہ کوئی نیزہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: ”جو کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سلب (مال) قاتل کا ہوگا، پس وہ اسے پکڑ لے“۔ ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا، پس بیس کا سلب لیا۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کی گردن پر ضرب لگائی تھی، اس پر ایک درع تھی، مجھے جلدی میں اس کا سلب لینے کا موقع نہ ملا، دیکھیں وہ کس کے پاس ہے، وہ مجھے دے دیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں نے اسے پکڑا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے راضی کر دیں اور وہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا تو دے دیتے یا خاموش رہتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ اپنے شیروں میں سے کسی شیر کے سلب کو نہیں لوٹائیں گے کہ وہ تجھے دے دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”عمر نے سچ کہا ہے“۔ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے، ان کے پاس خنجر تھا، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام سلیم! یہ تیرے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میرے قریب مشرکوں کا کوئی آدمی آیا تو اسے پیٹ میں ماروں گی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے علاوہ طلقاء (جو بھاگنے والے ہیں) انہیں بھی قتل کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور اس نے ہم پر احسان کیا ہے“۔
یہ (حدیث) امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12762]
یہ (حدیث) امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12762]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1809»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12763
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان قاتل کے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12763]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَجَلَسَ فَتَحَدَّثَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ". قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ زَادَ الْبِرْتِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکوں کا ایک جاسوس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے، وہ بیٹھ گیا، صحابہ سے باتیں کرنے لگا، پھر وہ بھاگ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑو اور قتل کر دو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سبقت لے گیا، میں نے اسے قتل کردیا اور میں نے اس کا سامان لے لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12765
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى، عَامَّتُنَا مُشَاةٌ فِينَا ضَعْفٌ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ؛ فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ، ثُمَّ مَالَ إِلَى الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى ضَعْفَهُمْ أَطْلَقَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى ⦗٥٠١⦘ نَاقَةٍ وَرْقَاءَ مِنْ ظَهْرِ الْقَوْمِ، فَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْبَعِيرِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ، فَلَمَّا صَارَتْ رُكْبَتُهُ بِالْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَأَضْرِبُهُ، فَنَدَرَ رَأْسُهُ، فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهُ، وَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ مُقْبِلًا فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟" قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" لَهُ السَّلَبُ أَجْمَعُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ..
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ہوازن کیا، ہم ناشتہ کر رہے تھے، ہم میں کمزور اور پیدل چلنے والے بھی تھے۔ ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر آیا۔ اس نے ایک تسمہ اونٹ کی کمر سے کھینچا۔ پھر اس سے اسے باندھ دیا۔ پھر قوم میں آیا، جب ان کی کمزوری کو دیکھا تو اونٹ کا تسمہ کھولا۔ پھر اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہو کر بھاگ گیا، قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے ایک خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا۔ میں بھی دوڑتا ہوا نکلا، پس میں نے اسے پا لیا جبکہ (اسلمی کی) اونٹنی کا سر اس کے اونٹ کے پچھلے حصے کے پاس تھا، پھر میں آگے بڑھا۔ میں نے اس کے اونٹ کی لگام کو پکڑا اور اسے بٹھایا، جب اس کے گھٹنے زمین پر لگ گئے تو میں نے اپنی تلوار نکالی، اسے ماری اور اس کا سر علیحدہ کر دیا، پھر میں اس کی اونٹنی اور جو اس پر تھا لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کس نے قتل کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہما نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے سارا سامان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ وَمَا عَلَيْهَا وَسِلَاحَهُ.
عکرمہ بن عمار نے حدیث ذکر کی کہ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی سواری اور جو اس پر اسلحہ وغیرہ تھا دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12767
وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" لَقِينَا الْعَدُوَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَعَنْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَمْدُونَ الْأَعْمَشُ مِنْ أَصْلِهِ الْعَتِيقِ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ فَذَكَرَهُ. وَهَذَا غَرِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمن سے ملے، میں نے ایک آدمی کو نیزہ مارا اور میں نے اسے قتل کر دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا سامان دیا۔
یہ اس سند کے ساتھ غریب ہے، اور ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12767]
یہ اس سند کے ساتھ غریب ہے، اور ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12767]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" خَرَجْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَقِينَا الْعَدُوَّ، فَشَدَدْتُ عَلَى رَجُلٍ فَطَعَنْتُهُ فَقَطَرْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ، فَنَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں گیا، ہم دشمن سے ملے، میں نے ایک آدمی کو سختی سے پکڑا، اسے نیزہ مارا اور اس کا خون بہا دیا اور اس کا سامان لے لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12768]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره