🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2658. -- باب: الوجه الثالث من النفل
-- باب: نفل کی تیسری صورت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12816
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْأَنْفَالِ، فَقَالَ: فِينَا أَصْحَابَ بَدْرٍ نَزَلَتْ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ الْتَقَى النَّاسُ بِبَدْرٍ" نَفَّلَ كُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ" ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نُزُولِ الْآيَةِ وَالْقِسْمَةَ بَيْنَهُمْ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ فِي أَوَّلِ هَذَا الْكِتَابِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا بَعَثَ الْإِمَامُ سَرِيَّةً وَجَيْشًا فَقَالَ لَهُمْ قَبْلَ اللِّقَاءِ: مَنْ غَنِمَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ بَعْدَ الْخُمُسِ، فَذَلِكَ لَهُمْ عَلَى بَعْضِ مَا شَرَطَ؛ لِأَنَّهُمْ عَلَى ذَلِكَ غَزَوْا وَبِهِ رَضُوا، وَذَهَبُوا فِي هَذَا إِلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ" وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْخُمُسِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَلَمْ أَعْلَمْ شَيْئًا يَثْبُتُ عِنْدَنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ الشَّيْخُ: الَّذِي رُوِيَ فِي هَذَا مَا ذَكَرَهُ. وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يُخَالِفُهُ فِي لَفْظِهِ.
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم اصحابِ بدر کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، جب لوگ (بدر میں) کافروں سے ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو وہ دے دیا تھا جو اس کو جنگ سے ملا تھا، پھر عبادہ رضی اللہ عنہ نے نزولِ آیت اور ان کے درمیان تقسیم وغیرہ کا ذکر کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے کہا: جب امام کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرے اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے سے پہلے ان سے کہے: جو کوئی غنیمت میں کچھ حاصل کرے گا وہ خمس کے بعد اسی کا ہوگا، تو یہ ان کی شرط کے مطابق انہیں ملے گا، کیونکہ انہوں نے اسی شرط پر جہاد کیا اور اسی پر راضی ہوئے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: ”جو کوئی چیز پکڑے وہ اسی کی ہے“ اور یہ حکم خمس کے نزول سے پہلے کا ہے، واللہ اعلم، اور میں نہیں جانتا کہ ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ ثابت ہو۔
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: اس بارے میں جو روایت کی گئی ہے وہ وہی ہے جو انہوں نے ذکر کی، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے الفاظ کے خلاف بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12816]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12817
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُعْتَمِرٌ قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدَ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، وَأَتَى مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا". فَتَسَارَعَ إِلَيْهِ الشُّبَّانُ، وَثَبَتَ الشِّيُوخُ عِنْدَ الرَّايَاتِ، فَلَمَّا فُتِحَ لَهُمْ جَاءَ الشَّبَابُ يَطْلُبُونَ مَا جَعَلَ لَهُمْ، وَقَالَ الْأَشْيَاخُ: لَا تَذْهَبُوا بِهِ دُونَنَا؛ فَقَدْ كُنَّا رِدْءًا لَكُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: ”کس نے یہ یہ کیا اور فلاں فلاں جگہ پر آئے۔ پس اس کے لیے اتنا اتنا ہے۔“ پس نوجوانوں نے بڑھ کر حصہ لیا اور بوڑھے نشانات کے پاس ٹھہرے رہے، جب ان کو فتح مل گئی تو نوجوان آئے اور وہ طلب کرنے لگے، جو ان کے لیے بنایا گیا تھا اور بوڑھوں نے کہا: تم ہمارے علاوہ نہیں لے جاؤ گے، پس ہم تمہارے پیچھے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12817]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12818
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا، وَمَنْ أَسَرَ أَسِيرًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا" قَالَ: ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، وَهَذَا بِخِلَافِ الْأَوَّلِ فِي كَيْفِيَّةِ الشَّرْطِيَّةِ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي غَنِيمَةِ بَدْرٍ أَنَّهَا كَانَتْ قَبْلَ نُزُولِ الْخُمُسِ، ثُمَّ نَزَلَ قَوْلُهُ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} [الأنفال: ٤١] الْآيَةَ، فَصَارَ الْأَمْرُ إِلَيْهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: ”جس نے کسی کو قتل کیا اس کے لیے یہ اور یہ ہے اور جس نے قیدی بنایا اس کے لیے یہ اور یہ ہے“ اور یہ خمس سے پہلے کی بات ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] تو حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12818]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12819
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح، وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَنَا فِي رَكْبٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: وَكَانَ الْفَيْءُ إِذْ ذَاكَ:" مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ" ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي بَعْثِهِ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَحْشٍ الْأَسَدِيَّ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ أَمِيرٍ أُمِّرَ فِي الْإِسْلَامِ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْآيَةِ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ کیا اور سعد رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور اس میں کہا: ”اور مال جو بھی پکڑے گا اس کے لیے وہی ہو گا۔“ پھر انہوں نے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے قافلے کی حدیث بیان کی اور وہ اسلام کے پہلے امیر تھے۔
اور یہ اس بات پر دلالت ہے کہ یہ آیت غنیمت اور فئی کے بارے میں نزول سے پہلے کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12819]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں