🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2660. -- باب: ما جاء في من الإمام على من رأى من الرجال البالغين من أهل الحرب
-- باب: دار الحرب کے بالغ مردوں میں سے امام کا جسے مناسب سمجھے احسان کر کے چھوڑ دینے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا فَأَعْتَقَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ} [الفتح: ٢٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ کے اسی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب پر جبلِ تنعیم سے فجر کی نماز کے وقت اترے تاکہ آپ کو قتل کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکڑ لیا اور قیدی بنا لیا، پھر ان کو آزاد کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ﴾ [سورة الفتح: 24] ”اللہ وہ ذات ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12832]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1808»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12833
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا ثَلَاثُونَ شَابًّا عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ، فَثَارُوا فِي وُجُوهِنَا، فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ اللهُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُمْنَا إِلَيْهِمْ فَأَخَذْنَاهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ جِئْتُمْ فِي عَهْدِ أَحَدٍ، وَهَلْ جَعَلَ لَكُمْ أَحَدٌ أَمَانًا؟" قَالُوا: اللهُمَّ لَا، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ، وَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا} [الفتح: ٢٤] .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ اسی دوران تیس نوجوان اسلحہ کے ساتھ ہم پر چڑھ آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی ختم کردی، پھر ہم نے ان کو پکڑ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تم کسی عہد میں آئے ہو یا کسی نے تم کو امان دی ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾ [سورة الفتح: 24] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12833]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 16923»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12834
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي ⦗٥١٩⦘ سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ فِيهَا سَيْفَهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، فَأَجَبْنَاهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللهُ، فَقَالَ ثَانِيَةً: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللهُ، فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ"، فَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصَّغَانِيِّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی ساتھ تھے، ایک دن ایک خاردار درختوں والی وادی میں قیلولہ کا وقت آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور لوگ بھی درختوں کے سایہ میں پھیل گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم سو گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تو ہم نے جواب دیا (گئے) تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے میری تلوار مجھ پر ہی سونت ڈالی ہے، میں اٹھا ہوں تو وہ اس کے ہاتھ میں ہے بغیر میان کے۔ اس نے کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ! اس نے دوسری دفعہ کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔“ پس اس نے تلوار میان میں رکھ دی اور بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بدلہ نہ لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12834]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 843»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12835
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟" قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ قَالَ لَهُ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟" قَالَ: قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ". فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلِيَّ، وَاللهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلِيَّ، وَاللهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلِيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ. فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ: صَبَوْتَ يَا ثُمَامَةُ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعید بن ابی سعید نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ نجد کی طرف بھیجا، وہ بنی حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ لائے، جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا، اہل یمامہ کا سردار، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”ثمامہ! تیرا کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بہتری ہے، اگر تم مجھے قتل کرو گے تو خون والے کو قتل کرو گے (جس کا بدلہ لیا جاتا ہے) اور اگر تم احسان کرو گے تو ایک قدر دان پر احسان کرو گے اور اگر آپ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو سوال کریں، جتنا آپ چاہیں گے آپ کو دیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے، اگلے دن پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ثمامہ! کیسے ہو؟“ اس نے کہا: میں نے آپ سے کہا تھا، اگر احسان کرو گے تو ایک قدر دان پر احسان کرو گے اور اگر قتل کرو گے تو خون والے کو قتل کرو گے، اگر مال چاہیے تو جتنا مانگو گے اتنا ہی دیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو چھوڑ دو۔“ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گیا، اس نے غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! میرے نزدیک آپ کی زمین سے زیادہ بغض والی کوئی زمین نہ تھی، پس آپ کا شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے اور میرے نزدیک زمین کا کوئی چہرہ اتنا بغض والا نہ تھا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، لیکن آپ کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا اور اللہ کی قسم! کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ بغض والا نہ تھا، لیکن آپ کا دین سب سے زیادہ محبوب بن گیا اور جب آپ کے لشکر نے مجھے پکڑا تو میرا ارادہ عمرہ کرنے کا تھا پس آپ کا کیا خیال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کا حکم دیا، جب وہ مکہ میں آیا تو ایک کہنے والے نے کہا: اے ثمامہ! تو بے دین ہو گیا ہے؟ ثمامہ نے کہا: نہیں، بلکہ میں مسلمان ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! اب تمہارے پاس (یمامہ سے) ایک دانہ بھی نہ آئے گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دے دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12835]
تخریج الحدیث: «بخاري 4372»

الحكم على الحديث: بخاري 4372
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12836
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. إِلَّا أَنَّهُ زَادَ: حَتَّى كَانَ بَعْدُ الْغَدِ قَالَ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟" فَذَكَرَ مِثْلَ كَلَامِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ اللَّيْثِ.
شعیب بن لیث کے والد سے پچھلی حدیث کی طرح منقول ہے، صرف یہ الفاظ زائد ہیں: یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے دن کے بعد (یعنی تیسرے دن) کہا: ”اے ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟“ اور اس نے پہلے جیسی بات ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12836]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12837
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُسَارَى بَدْرٍ:" لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَخَلَّيْتُهُمْ لَهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ..
محمد بن جبیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان بدبوداروں کی بات کرتا تو میں ان کو آزاد کر دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12837]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3139»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12838
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فِي هَؤُلَاءِ لَأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ" يَعْنِي أُسَارَى بَدْرٍ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَتْ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدٌ، وَكَانَ أَجْزَى النَّاسِ بِالْيَدِ.
اس روایت میں الفاظ ہیں کہ ”ان کے بارے میں گفتگو کرتا تو میں ان کو چھوڑ دیتا“ یعنی بدر کے قیدیوں کو۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا احسان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ احسان کی جزا دینے والے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12838]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 313»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الشَّامِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو عَزَّةَ يَوْمَ بَدْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْتَ أَعْرَفُ النَّاسِ بِفَاقَتِي وَعِيَالِي، وَإِنِّي ذُو بَنَاتٍ، قَالَ: فَرَقَّ لَهُ وَمَنَّ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ، وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ بِلَا فِدَاءٍ، فَلَمَّا أَتَى مَكَّةَ هَجَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَرَّضَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُسِرَ يَوْمَ أُحُدٍ، أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ" هَذَا إِسْنَادٌ فِيهِ ضِعْفٌ، وَهُوَ مَشْهُورٌ عِنْدَ أَهْلِ الْمَغَازِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو عزہ نے بدر کے دن کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگوں میں میرا فاقہ، تنگدستی اور میری بیٹیاں ہیں، آپ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور اس پر احسان کیا اور اس سے درگزر کیا، وہ مکہ بغیر فدیہ کے چلا گیا، جب مکہ گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی اور مشرکوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ابھارا، پس احد کے دن پھر اسے قیدی بنا لیا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔“
اس سند میں ضعف ہے، اور یہ (واقعہ) اہل مغازی کے ہاں مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12839]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12840
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ:" وَكَانَ مِمَّنْ تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُسَارَى بَدْرٍ بِغَيْرِ فِدَاءٍ الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيُّ، وَكَانَ مُحْتَاجًا، فَلَمْ يُفَادَ، فَمَنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو عَزَّةَ الْجُمَحِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَنَاتِي فَرَحِمَهُ فَمَنَّ عَلَيْهِ، وَصَيْفِيُّ بْنُ عَابِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، أَخَذَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِ".
ابن اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں میں سے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر فدیہ کے چھوڑا ان میں مطلب بن حنطب مخزومی تھا اور وہ محتاج تھا، اس نے فدیہ نہ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر احسان کیا اور ابو العزہ الجمحی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری بیٹیاں ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شفقت کی اور احسان کیا اور صیفی بن عائز مخزومی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ لیا لیکن اس نے پورا نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12840]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12841
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ أَبُو عَزَّةَ الْجُمَحِيُّ أُسِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّنِي ذُو بَنَاتٍ وَحَاجَةٍ، وَلَيْسَ بِمَكَّةَ أَحَدٌ يَفْدِينِي، وَقَدْ عَرَفْتَ حَاجَتِي، فَحَقَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهُ وَأَعْتَقَهُ، وَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَعَاهَدَهُ أَنْ لَا يُعِينَ عَلَيْهِ بِيَدٍ وَلَا لِسَانٍ، وَامْتَدَحَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَفَا عَنْهُ. فَذَكَرَ الشِّعْرَ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهُ مَعَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيِّ، وَإِشَارَةَ صَفْوَانَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ مَعَهُ فِي حَرْبِ أُحُدٍ وَتَكَفُّلَهُ بَنَاتِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَطَاعَهُ، فَخَرَجَ فِي الْأَحَابِيشِ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، قَالَ: فَأُسِرَ أَبُو ⦗٥٢١⦘ عَزَّةَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنْعِمْ عَلَيَّ، خَلِّ سَبِيلِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَحَدَّثُ أَهْلُ مَكَّةَ أَنَّكَ لَعِبْتَ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ"، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ.
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو عزہ الجمحی بدر میں قیدی بنایا گیا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بیٹیوں والا ہوں اور محتاج ہوں اور مکہ میں میرا کوئی ایسا نہیں جو میرا فدیہ دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری حالت پہچانتے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون محفوظ کیا اور اسے آزاد کر دیا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وعدہ لیا کہ وہ ہاتھ اور زبان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مدد نہیں کرے گا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ (پھر ابن اسحاق نے اس کے اشعار ذکر کیے۔) پھر صفوان بن امیہ جمحی کے ساتھ اس کا قصہ ذکر کیا کہ صفوان نے اسے احد کی جنگ میں اپنے ساتھ نکلنے کا مشورہ دیا اور اس کی بیٹیوں کی کفالت کا ذمہ لیا اور وہ اسے مسلسل کہتا رہا یہاں تک کہ اس نے اس کی بات مان لی اور بنی کنانہ کے احابیش کے ساتھ نکلا۔ پھر ابو عزہ احد کے دن قیدی بنا لیا گیا، جب اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس نے کہا: ”میرے اوپر انعام کریں، میرا راستہ چھوڑ دیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تاکہ مکہ والے باتیں نہ کریں کہ تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ دو دفعہ کھیلا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12841]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں