السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2676. -- باب: من دخل أجيرا يريد الجهاد أو لم يرده
-- باب: اس شخص کا بیان جو مزدور بن کر شامل ہوا، خواہ اس کی نیت جہاد کی ہو یا نہ ہو
حدیث نمبر: 12906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الثَّقَفِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ بِالرِّيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِمِصْرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُنْيَةَ قَالَ: أَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغَزْوِ وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ لَيْسَ لِي خَادِمٌ، فَالْتَمَسْتُ أَجِيرًا وَأُجْرِي لَهُ سَهْمَهُ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا، فَلَمَّا دَنَا الرَّحِيلُ أَتَانِي فَقَالَ: مَا أَدْرِي مَا السُّهْمَانُ، وَمَا يَبْلُغُ سَهْمِي، فَسَمِّ لِي شَيْئًا كَانَ السَّهْمُ أَوْ لَمْ يَكُنْ، فَسَمَّيْتُ لَهُ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْ غَنِيمَةٌ أَرَدْتُ أَنْ أُجْرِيَ لَهُ سَهْمَهُ، فَذَكَرْتُ الدَّنَانِيرَ، فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ أَمْرَهُ، فَقَالَ:" مَا أَجِدُ لَهُ فِي غَزْوَتِهِ هَذِهِ فِي الدُّنْيَا - أَظُنُّهُ قَالَ: وَالْآخِرَةِ - إِلَّا دَنَانِيرَهُ الَّتِي سَمَّى".
سیدنا یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوے کا اعلان کیا، میں بوڑھا تھا، میرا کوئی خادم بھی نہ تھا، پس میں نے کوئی مزدور تلاش کیا اور سوچا اسے اجرت دے دوں گا، پس میں نے ایک آدمی کو پایا۔ جب وہ غزوے پر جانے کے وقت میرے پاس آیا تو اس نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ حصہ کتنا ہو گا اور مجھے کتنا ملے گا، پس میرے لیے کچھ مقرر کر دو کہ حصہ ہو یا نہ ہو مجھے وہ مل جائے گا۔“ میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دیے، جب غنیمت آئی تو میں نے ارادہ کیا کہ اسے اس کا حصہ دے دوں۔ مجھے دنانیر یاد آئے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کے لیے اس غزوے میں دنیا میں (اور راوی کا خیال ہے آخرت کا لفظ بھی بولا) اور آخرت میں صرف اس کے مقرر کردہ دینار پاتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12906]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن