السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2679. -- باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة
-- باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 12916
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، فَذَكَرَ قُدُومَهُمْ عَلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالْحَبَشَةِ، قَالَ:" فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، قَالَ: فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا، أَوْ قَالَ: أَعْطَانَا مِنْهَا، وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، فَقَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَهَؤُلَاءِ إِنْ حَضَرُوا قَبْلَ أَنْ يَنْقَطِعَ الْحَرْبُ، أَوْ قَبْلَ حِيَازَةِ الْغَنِيمَةِ، فَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا فَهِيَ فِي مَسْأَلَتِنَا، وَإِنْ حَضَرُوا بَعْدَ ذَلِكَ، وَعَلَيْهِ يَدُلُّ:.
حضرت ابو موسیٰ نے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے پاس حبشہ میں آنے کا ذکر کیا اور کہا: ہم ان کے ساتھ تھے حتیٰ کہ ہم سب اس وقت آئے جب خیبر فتح ہوا اور ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی حصہ دیا اور اس کے لیے تقسیم نہ کیا جو فتح خیبر سے غیر حاضر تھا، مگر اس کو دیا جو وہاں موجود تھا، مگر اصحابِ سفینہ جو جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھیوں کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3136۔ مسلم 3502»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12917
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ:" قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا، وَلَمْ يُسْهَمْ لِأَحَدٍ، يَعْنِي لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ، غَيْرَنَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حَفْصٍ. وَرَوَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى عَنْ حَفْصٍ، وَقَالَ: بَعْدَمَا افْتَتَحَهَا بِثَلَاثٍ، فَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَعْطَاهُمْ مِنْ سَهْمِ الْمَصَالِحِ، أَوْ أَشْرَكَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ بِرِضَا الْغَانِمِينَ، وَقَدْ رُوِيَ فِي قِصَّةِ جَعْفَرٍ وَغَيْرِهِ بِإِسْنَادٍ آخَرَ أَنَّهُ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُشْرِكُوهُمْ فِي مَقَاسِمِ خَيْبَرَ، فَفَعَلُوا، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ فِي قِصَّةِ قُدُومِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم فتحِ خیبر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حصہ دیا اور کسی کو نہ دیا، یعنی ہمارے علاوہ جو خیبر کی فتح میں حاضر نہ تھا۔ احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالح کے اعتبار سے ان کو شریک کیا ہو یا غنیمت لینے والوں کی رضامندی سے ان کو غنیمت میں شریک کیا ہو۔ ایک سند یہ بھی منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے سوال کیا تھا کہ ان کو بھی فتحِ خیبر کی تقسیم میں شریک کریں، پس انہوں نے ایسا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12917]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12918
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ خَيْبَرَ بَعْدَمَا افْتَتَحُوهَا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْهِمَ لِي مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ، فَقَالَ ابْنُ سَعِيدٍ:" وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَانٍ، يَنْعَى عَلَيَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللهُ عَلَى يَدِيَّ، وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ" قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَحْفَظُهُ أَنَّهُ قَالَ: أَسْهَمَ لَهُ أَوْ لَمْ يُسْهِمْ. قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْهُ، وَأَنَا حَاضِرٌ..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آیا، اس وقت جب انہوں نے خیبر فتح کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے لیے بھی غنیمت سے حصہ رکھا جائے۔ بنی سعید کے کسی شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے حصہ نہ دیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ابن قوقل کا قاتل ہے۔ سعید کے بیٹے نے کہا: کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آگیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا الزام مجھ پر لگاتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12918]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2827»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12919
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ سُفْيَانَ، وَزَادَ: قَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ أَيْضًا، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَاسْمُ السَّعِيدِيِّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَجَدُّهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَيُذْكَرُ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سعید سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔ وہ اپنے دادا سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں۔ سعیدی کا نام عمرو بن یحییٰ بن سعید بن العاص ہے، دادا کا نام سعید بن عمرو ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12919]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12920
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا، وَإِنَّ حِزَمَ خَيْلِهِمْ لِيفٌ، فَقَالَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ: اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: لَا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِهَا وَبَرٌ تَحَدَّرَ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ يَا أَبَانُ"، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، وَهُوَ فِيمَا ذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: لَمْ يُقِمِ ابْنُ عُيَيْنَةَ، يَعْنِي مَتْنَهُ، وَالْحَدِيثُ حَدِيثُ الزُّبَيْدِيِّ.
عنبسہ بن سعید نے خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سعید بن عاص سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید رضی اللہ عنہ کو کسی سریہ پر مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا، پھر ابان اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر فتح ہونے کے بعد آئے، ان لوگوں کے گھوڑے کمزور تھے۔ ابان نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں بھی کچھ دیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے لیے حصہ نہ رکھیں۔“ ابان نے کہا: ”اے «وَبْر» ! تیری حیثیت تو یہ ہے کہ ضان کی چوٹی سے تو ہمارے پاس آیا ہے“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابان! بیٹھ جا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ نہ نکالا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12920]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4238»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12921
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ" أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَتَحَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، ثُمَّ جَاءَهُ أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فِي خَيْلٍ لَهُ فَسَأَلَهُ أَنْ يُسْهِمَ لَهُ وَلِأَصْحَابِهِ، فَلَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَانَتْ حِزَمَ خَيْلِهِمُ اللِّيفُ" فَهَذَا يُوَافِقُ رِوَايَةَ الزُّبَيْدِيِّ فِي مَتْنِهِ، وَيُخَالِفُهُ فِي إِسْنَادِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ: الْحَدِيثَانِ مَحْفُوظَانِ؛ حَدِيثُ عَنْبَسَةَ مِنْ حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ، وَحَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح خیبر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ آئے، انہوں نے اپنے لیے اور اپنے ساتھیوں کے لیے حصہ کا سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان لوگوں کے گھوڑے تنگ حال تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12921]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12922
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا إِلَّا قَسَمَ لِي، إِلَا خَيْبَرَ؛ فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً" وَكَانَ أَبُو مُوسَى وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَبَيْنَ خَيْبَرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غنیمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے بھی دیا مگر خیبر کے علاوہ، اس لیے کہ وہ خاص اہل حدیبیہ کے لیے تھی اور سیدنا ابوموسیٰ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما خیبر اور حدیبیہ کے درمیان آئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12922]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ، عَنْ ⦗٥٤٤⦘ أَبِيهِ، عَنْ نَفَرٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، قَالُوا: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَقَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ يُقَالُ لَهُ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" فَوَجَدْنَاهُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ صَلَاتِنَا أَتَيْنَا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ فَزَوَّدَنَا تَمْرًا، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَتَحَ خَيْبَرَ، وَكَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشْرَكونَا فِي سُهْمَانِهِمْ" وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: فَاسْتَأْذَنَ النَّاسَ أَنْ يَقْسِمَ لَنَا مِنَ الْغَنَائِمِ، فَأَذِنُوا لَهُ، فَقَسَمَ لَنَا..
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف چلے گئے اور بنی غفار کا آدمی مدینہ پر نائب مقرر تھا، اسے سباغ بن عرفطہ کہا جاتا تھا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اسے صبح کی نماز کے وقت پایا، نماز سے فارغ ہو کر ہم اس کے پاس آئے، اس نے کھجوروں سے ہماری ضیافت کی، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور خیبر فتح ہو چکا تھا اور مسلمانوں نے بات کی، پس انہوں نے ہمیں اپنے حصوں میں شریک کیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اجازت طلب کی کہ ”ہمیں بھی غنیمت سے دیا جائے“، انہوں نے اجازت دے دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12923]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12924
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، فَذَكَرَهُ. الرِّوَايَاتُ فِي قُدُومِهِ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ أَصَحُّ، ثُمَّ رِوَايَةُ مَنْ رَوَى أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ، أَرَادَ قِسْمَةَ مَنْ شَهِدَهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ أَشْرَكَهُمْ فِي سُهْمَانِهِمْ بِرِضَاهُمْ كَمَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
وہ روایات جو فتح خیبر کے بعد ان کا آنا بتاتی ہیں، وہ زیادہ صحیح ہیں اور اسے حصہ نہ دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ ”تقسیم اس کے لیے ہے جو اس میں حاضر ہو“ اور احتمال ہے کہ ان کو حصوں میں لوگوں کی رضامندی سے شریک کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12924]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12925
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَقْسِمْ لِغَائِبٍ فِي مَغْنَمٍ لَمْ يَشْهَدْهُ إِلَّا يَوْمَ خَيْبَرَ قَسَمَ لِغَائِبِ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَانَ أَعْطَى خَيْبَرَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ {وَعَدَكُمُ اللهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ} [الفتح: ٢٠] ، وَكَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ مَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ، وَمَنْ غَابَ، وَلِمَنْ شَهِدَ مِنَ النَّاسِ غَيْرِهِمْ" وَعَنْ يُونُسَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: بَلَغَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ قَسَمَ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَجَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بَشِيرًا بِوَقْعَةِ بَدْرٍ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَبْرِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْفِنُهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَا غَائِبَيْنِ بِالشَّامِ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّهُ لَمْ يَغِبْ عَنْ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ إِلَّا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ، وَأَمَّا قِسْمَتُهُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَغَيْرِهِ مِنْ غَنَائِمَ بَدْرٍ فَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ فِي هَذَا الْكِتَابِ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُهَا حَيْثُ أَرَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّمَا صَارَتِ الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ بَعْدَ قِسْمَةِ بَدْرٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے حصہ نہ رکھا جو غنیمت کے وقت موجود نہ تھا، سوائے فتحِ خیبر کے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ خیبر کا مال اہل حدیبیہ کے لیے تقسیم کیا، اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ﴾ [سورة الفتح: 20] کی وجہ سے۔ پس وہ غنیمت اہل حدیبیہ کے لیے تھی، جو ان میں سے حاضر تھا یا غائب، ان لوگوں کے علاوہ جو وہاں حاضر تھے اور یہ بھی منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے حصہ تقسیم کیا تھا، حالانکہ وہ اپنی بیوی کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہے تھے (سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا) بیماری نے ان کو روکا تھا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ واقعہ بدر کی خوشخبری لے کر آئے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا کو قبر میں دفن کر رہے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اور ہمیں یہ بات بھی پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ بن عبیداللہ اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کے لیے بھی حصہ تقسیم کیا، حالانکہ وہ دونوں شام میں غائب تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابن اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ والوں میں سے خیبر میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور غائب نہ تھا اور بدر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے تقسیم اس بنیاد پر تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مقرر کیا تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے چاہا اور بدر کے بعد غنیمت اس کے لیے تھی جو واقعہ میں حاضر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12925]
شیخ فرماتے ہیں: ابن اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ والوں میں سے خیبر میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور غائب نہ تھا اور بدر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے تقسیم اس بنیاد پر تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مقرر کیا تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے چاہا اور بدر کے بعد غنیمت اس کے لیے تھی جو واقعہ میں حاضر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12925]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف