السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2681. -- باب: التسوية في الغنيمة والقوم يهبون الغنيمة
-- باب: مالِ غنیمت کی تقسیم میں برابری کرنے اور لوگوں کے اپنا مالِ غنیمت ہبہ کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 12931
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَخَالِدٍ، ⦗٥٤٧⦘ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقِينَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ يَعْرِضُ فَرَسًا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِمَا أُمِرْتَ؟ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولَوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ نُقَاتِلُ؟ قَالَ:" هَؤُلَاءِ الْيَهُودُ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ، وَهَؤُلَاءِ النَّصَارَى الضَّالُّونَ"، قُلْتُ: فَمَا تَقُولُ فِي الْغَنِيمَةِ؟ قَالَ:" لِلَّهِ خُمُسُهَا، وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِلْجَيْشِ"، قُلْتُ: فَمَا أَحَدٌ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ:" لَا، وَلَا السَّهْمُ تَسْتَخْرِجُهُ مِنْ جَنْبِكَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ".
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بلقین کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑا پیش کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» ”اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں“، جب وہ یہ کہیں گے تو انہوں نے اپنا خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کر لیے سوائے حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سے لڑنے والے کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی جن پر غضب ہوا اور عیسائی جو گمراہ ہیں۔“ میں نے کہا: آپ غنیمت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے لیے خمس ہے اور باقی چار حصے لشکر کے ہیں۔“ میں نے کہا: کون دوسرے سے زیادہ بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ وہ تیر جسے تو اپنے پہلو سے نکالے، اس کا بھی تو اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12931]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12932
قَالَ: وَثنا يُوسُفُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقِينَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" فَإِنْ رَمَيْتَ بِسَهْمٍ فِي جَنْبِكَ فَاسْتَخْرَجْتَهُ فَلَسْتَ بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ". وَفِي ذَلِكَ بَيَانُ مَا رُوِّينَا، وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَخَذَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، أَوْ قَالَ: يَوْمَ خَيْبَرَ، وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ".
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین یا خیبر کے دن اونٹ کی اون کو پکڑا اور فرمایا: ”اے لوگو! میرے لیے اس میں سے اتنا بھی حلال نہیں ہے جو اللہ نے تم پر لوٹایا ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر ہی لوٹایا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12932]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12933
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ، فَلَمَّا أَصَابَ مِنْ هَوَازِنَ مَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَسَبَايَاهُمْ أَدْرَكَ وَفْدُ هَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَةِ وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَنَا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ، وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ، فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِسَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ أَمْ أَمْوَالُكُمْ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَبَيْنَ أَمْوَالِنَا، أَبْنَاؤُنَا وَنِسَاؤُنَا أَحَبُّ إِلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ، وَإِذَا أَنَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ فَقُومُوا وَقُولُوا: إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا، فَسَأُعْطِيكُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَسْأَلُ لَكُمْ". فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ قَامُوا فَقَالُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ⦗٥٤٨⦘ فَهُوَ لَكُمْ"، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: فَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا، وَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا، فَقَالَتْ بَنُو سُلَيْمٍ: بَلْ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ فَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَمْسَكَ مِنْكُمْ بِحَقِّهِ فَلَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ فَيْءٍ نُصِيبُهُ"، فَرَدُّوا إِلَى النَّاسِ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ يَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا، حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى شَجَرَةٍ فَانْتُزِعَتْ عَنْهُ رِدَاءُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ لَكُمْ عَدَدُ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ مَا أَلْفَيْتُمُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ وَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً فَجَعَلَهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللهِ مَا لِي مِنْ فَيْئِكُمْ وَلَا هَذِهِ الْوَبَرَةِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ؛ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ؛ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِكُبَّةٍ مِنْ خُيُوطِ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخَذْتُ هَذَا لِأَخِيطَ بِهِ بَرْذَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا حَقِّي مِنْهَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا إِذَا بَلَغَ الْأَمْرُ هَذَا فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا، فَرَمَى بِهَا مِنْ يَدِهِ.
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہوازن کے مالوں اور قیدیوں میں سے جو حاصل کرنا تھا حاصل کر لیا تو ہوازن کے وفد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جعرانہ میں پا لیا اور وہ مطیع ہو چکے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے اصل ہے اور قبیلہ ہے اور ہمیں وہ مصیبت آئی ہے جو آپ پر مخفی نہیں ہے، پس آپ ہم پر احسان کریں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں تمہاری بیویاں اور اولاد زیادہ محبوب ہے یا تمہارا مال؟“ تو انھوں نے کہا: آپ نے ہمیں ہماری (عورتوں) اور مالوں میں اختیار دیا ہے، تو ہمیں ہماری اولاد اور ہماری بیویاں زیادہ محبوب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس قدر میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے تو وہ میں تم کو دے چکا ہوں، اور جب میں لوگوں کو نماز پڑھاؤں تو تم کھڑے ہو جانا اور کہنا کہ ہم اپنی اولاد اور اپنی عورتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کے پاس اور مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفارشی بناتے ہیں۔ پس میں تم کو اس وقت دے دوں گا اور میں تمہارے لیے سفارش کروں گا۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے وہی کہا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارے لیے ہے۔“ یہ سن کر مہاجرین رضی اللہ عنہم نے بھی کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں، اور انصار رضی اللہ عنہم نے کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو تمیم اس میں شامل نہیں، اور سیدنا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو سلیم بھی اس میں شامل نہیں ہیں۔ (تب) بنو سلیم نے کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ سیدنا عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو فزارہ اس میں شامل نہیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تم میں سے اپنا حق روکا ہے تو اس کے لیے چھ اونٹ ہیں، پہلے مالِ فئی میں سے ہم اس کو اس کا حصہ دیں گے، پس ان لوگوں کو ان کی عورتیں اور اولاد لوٹا دو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے ہمارا مال تقسیم کر دیں، یہاں تک کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر کر ایک درخت کی طرف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک آپ سے الگ ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! میری چادر مجھ پر لوٹاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تہامہ کے درختوں کے برابر بھی جانور ہوں تو میں وہ تم میں تقسیم کر دوں گا، پھر تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاؤ گے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس کی کوہان سے بال پکڑے، اسے اپنی ہتھیلی میں رکھا اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے مالِ غنیمت میں سے میرے لیے کچھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ بال، سوائے خمس کے اور خمس بھی تمہیں ہی لوٹا دیا جائے گا۔“ پھر فرمایا: ”اے لوگو! سوئی اور دھاگا بھی دے دو، کیونکہ مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن شرم، آگ اور ننگ ہوگی۔“ انصار کا ایک آدمی بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اسے درست کرنے کے لیے پکڑا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حق بھی تیرے لیے ہے۔“ اس آدمی نے کہا: جب یہ بات ہے تو مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور اسے پھینک دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12933]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 2/ 184»
الحكم على الحديث: حسن