السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2684. -- باب: سهم ذي القربى من الخمس
-- باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبٍ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَابْنِ يُوسُفَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، وَزَادَ قَالَ: وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ.
جبیر بن مطعم اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اور عثمان بن عفان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے بنی مطلب کو دیا اور ہم کو چھوڑ دیا اور ہم اور وہ ایک جیسے ہی ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی مطلب اور بنی ہاشم ایک ہی چیز ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12951]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3140»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12952
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ لَمَّا قَسَمَ فَيْءَ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا، وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ شَيْءٌ وَاحِدٌ" وَقَالَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: لَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ الْكِتَابِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ جُبَيْرٍ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بات کرنے آئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا مال بنی ہاشم اور بنی مطلب میں تقسیم کیا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنی مطلب میں تقسیم کر دیا ہے اور ہمیں کچھ نہیں دیا، حالانکہ ہماری رشتہ داری ان کی رشتہ داری جیسی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ» ”ہاشم اور مطلب ایک ہی چیز ہیں۔“
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خمس میں سے بنی عبدِ شمس اور بنی نوفل کو کچھ نہ دیا، جیسے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12952]
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خمس میں سے بنی عبدِ شمس اور بنی نوفل کو کچھ نہ دیا، جیسے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12952]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12953
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ إِخْوَانُكَ بَنُو هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي جَعَلَكَ اللهُ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ ⦗٥٥٥⦘ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ"، ثُمَّ شَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا فِي الْأُخْرَى.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر سے بنی ہاشم اور بنی مطلب میں رشتہ داروں کو حصہ دیا تو میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنی ہاشم سے آپ کے بھائی ہیں۔ ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے، اس مقام کی وجہ سے جو اللہ نے آپ کو دیا ہے، لیکن بنی مطلب میں سے ہمارے بھائیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، آپ نے ان کو دے دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے اور ہم اور وہ ایک ہی طرح کے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں نہیں چھوڑا۔ جاہلیت میں اور اسلام میں بے شک بنی ہاشم اور بنی مطلب ایک ہی چیز ہیں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12953]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12954
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَتَيْتُهُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ. إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" لَمْ يُفَارِقُونَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ" فَقَالَ:" إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ هَكَذَا"، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. ثُمَّ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ حَدِيثَ يُونُسَ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنَاهُ مَعْمَرٌ كَمَا وَصَفْتَ، فَلَعَلَّ ابْنَ شِهَابٍ رَوَاهُ عَنْهُمَا مَعًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَ ذَلِكَ.
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ داروں میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو حصہ دیا تو میں اور عثمان رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ پھر اسی معنی کی حدیث بیان کی، مگر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ذکر نہیں کیا: ”انہوں نے ہمیں جاہلیت اور اسلام میں نہیں چھوڑا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ہاشم اور بنو مطلب اس طرح ایک ہی چیز ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12954]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12955
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَفُلَانٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ إِلَيْكَ بِمَنْزِلٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ" إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ ضَعِيفَانِ، وَفِي رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ جُبَيْرٍ كِفَايَةٌ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور فلاں آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے بنو مطلب کو دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے، حالانکہ وہ اور ہم آپ کے نزدیک ایک ہی درجے میں ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں“۔
ابراہیم بن اسماعیل اور مطرف بن مازن دونوں ضعیف ہیں، اور زہری سے، ابن مسیب کے واسطے سے، جبیر سے جماعت کی روایت کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12955]
ابراہیم بن اسماعیل اور مطرف بن مازن دونوں ضعیف ہیں، اور زہری سے، ابن مسیب کے واسطے سے، جبیر سے جماعت کی روایت کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12955]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12956
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبِ بْنِ فُضَيْلٍ التَّاجِرُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ ⦗٥٥٦⦘ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينُ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفِيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحَبَائِلِ، وَشَارِفَايَ مُنَاخَتَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرَجَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ ما جَمَعْتُ وَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنِي حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، فَقُلْتُ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ فَقَالُوا: فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا:.
حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جنگ بدر کی غنیمت میں سے مجھے ایک اونٹنی ملی تھی اسی جنگ کی غنیمت میں سے۔ خمس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اونٹنی دی تھی، جب میرا ارادہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا تو میں نے ایک سنار سے جو بنی قینقاع کا تھا، اس سے بات کی کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخر لائیں تاکہ اس گھاس کو سناروں کے ہاتھ بیچ دوں اور اس کی قیمت ولیمہ کی دعوت میں لگاؤں گا، میں ابھی اپنی اونٹنی کے پالان، ٹوکرے اور رسیاں جمع کر رہا تھا، اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے حجرے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں انتظام پورا کر کے جب آیا تو دیکھا کہ ان کی کوہان کسی نے کاٹ دیے ہیں اور کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ ابھی اسی حجرے میں انصار کے ساتھ شراب نوشی میں شریک تھے، ان کے پاس ایک گانے والی ہے اور ان کے دوست احباب ہیں، گانے والی نے جب یہ مصرع پڑھا، ہاں اے حمزہ! یہ عمدہ اور فربہ اونٹنیاں ہیں اور وہ صحن میں باندھی ہوئی ہیں تو حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار تھامی اور ان دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے سے پریشانی کو پہچان لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج جیسی تکلیف کی بات کبھی پیش نہ آئی تھی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں کو پکڑ کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے ہیں اور ان کی کوکھ چیر ڈالی ہے اور وہ وہیں ایک گھر میں شراب کی مجلس میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اوڑھ کر چل پڑے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ جب اس گھر کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کیا تھا اس پر تنبیہ کی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ شراب کے نشے میں مست تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھائی۔ پھر ذرا اور اوپر اٹھائی اور آپ کے گھٹنوں پر دیکھنے لگے۔ پھر نظر اٹھائی اور آپ کے چہرے پر دیکھنے لگے، پھر کہنے لگے: تم سب میرے ماں باپ کے غلام ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ وہ بے ہوش ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً الٹے پاؤں اس گھر سے باہر نکل آئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12956]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2089»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12957
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، وَثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ، فَأَخَذَ منهِ جَارِيَةً، فَأَصْبَحَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، قَالَ خَالِدٌ لِبُرَيْدَةَ: أَلَا تَرَى مَا يَصْنَعُ هَذَا؟ قَالَ: وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا بُرَيْدَةُ، أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَحِبَّهُ؛ فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ" ⦗٥٥٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ بُنْدَارٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ. هَذَا مَا بَلَغَنَا عَنْ سَيِّدِنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى، فَأَمَّا الْإِمَامَانِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ عَنْهُمَا فِي ذَلِكَ.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تاکہ خمس لائیں۔ انہوں نے اس سے ایک لونڈی لی۔ صبح ہوئی تو علی رضی اللہ عنہ کے سر سے قطرے گر رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے دیکھا ہے اس نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: میں علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہوں، میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بریدہ! کیا تو علی سے بغض رکھتا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی سے محبت کرو، اس کے لیے خمس میں اس سے بھی زیادہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12957]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4350»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12958
فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ح وَثنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ قَالَ: أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنَ الْخُمُسِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا وقرابتهم وَاحِدَةٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُوُ الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ" قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمْ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ. قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ مِنْهُ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِيهِمْ مِنْهُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ.
جبیر بن مطعم اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کرنے آئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے بنی مطلب سے ہمارے بھائیوں کو حصہ دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہمارے رشتہ دار اور ان کے رشتہ دار ایک ہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی ہاشم اور بنی مطلب ایک ہی چیز ہیں۔“ جبیر کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو خمس سے کچھ نہ دیا جیسا کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح خمس تقسیم کرتے تھے، اس کے علاوہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو نہ دیتے تھے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خمس سے دیتے تھے، اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12958]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12959
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ:" اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَائِلُونَ: سَهْمُ ذَوِي الْقُرْبَى لِقَرَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ قَائِلُونَ: لِقَرَابَةِ الْخَلِيفَةِ، وَقَالَ قَائِلُونَ: سَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ فِي الْخَيْلِ وَالْعُدَّةِ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَكَانَا عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا".
حسن بن محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دو حصوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگوں میں اختلاف ہو گیا، بعض نے کہا: رشتہ داروں والا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کا ہے اور بعض نے کہا: خلیفہ کے رشتہ داروں کا ہے، اور بعض نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کا حصہ خلیفہ کا ہے، ان کی رائے اس پر جمع ہوئی کہ دونوں حصوں کو اللہ کے راستے میں گھوڑوں اور جنگی سامان پر صرف کر دیں، دونوں خلافتِ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما میں اسی پر صرف ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12959]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12960
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَعْنِي الْبَاقِرَ: كَيْفَ صَنَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؟ قَالَ:" سَلَكَ بِهِ طَرِيقَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا". قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ وَأَنْتُمْ ⦗٥٥٨⦘ تَقُولُونَ مَا تَقُولُونَ؟ قَالَ:" أَمَا وَاللهِ مَا كَانُوا يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَتَعَلَّقَ عَلَيْهِ خِلَافُ أَبِي بَكْرِ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ الْوَهْبِيِّ قَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا كَانَ أَهْلُ بَيْتِهِ يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ، وَلَكِنْ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُدَّعَى عَلَيْهِ خِلَافُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ ضَعَّفَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ رَأَى غَيْرَ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَنْ لَمْ يَجْعَلْ لِلْعَبِيدِ فِي الْقِسْمَةِ شَيْئًا، وَرَأَى غَيْرَ رَأْيِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّسْوِيَةِ بَيْنَ النَّاسِ، وَفِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَخَالَفَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْجَدِّ، وَقَوْلُهُ: سَلَكَ بِهِ طَرِيقَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، جُمْلَةٌ تَحْتَمِلُ مَعَانِيَ، قَالَ: وَقَدْ أُخْبِرْنَا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَسَنًا وَحُسَيْنًا وَابْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ سَأَلُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَصِيبَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ، فَقَالَ: هُوَ لَكُمْ حَقٌّ، وَلَكِنِّي مُحَارِبٌ مُعَاوِيَةَ، فَإِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَخْبَرْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: صَدَقَ، هَكَذَا كَانَ جَعْفَرٌ يُحَدِّثُهُ، فَمَا حَدَّثَكَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: مَا أَحْسِبُهُ إِلَّا عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: وَجَعْفَرٌ أَوْثَقُ وَأَعْرَفُ بِحَدِيثِ أَبِيهِ مِنِ ابْنِ إِسْحَاقَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مُرْسَلٌ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ مُرْسَلَةٌ، وَأَمَّا رِوَايَةُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَلَمْ أَعْلَمْ بَعْدُ أَنَّ الَّذِي جُعِلَ فِي آخِرِهَا مِنْ قَوْلِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ فَيَكُونُ مَوْصُولًا، أَوْ مِنْ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَوِ الزُّهْرِيِّ فَيَكُونُ مُرْسَلًا. وَقَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يُونُسَ، فَمَيَّزَ فِعْلَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، فَهُوَ إِذًا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِثْلُ قَوْلِنَا.
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں نے ابوجعفر (یعنی باقر) سے سوال کیا کہ رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں علی رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: علی، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما والے طریقے پر چلے تھے، میں نے کہا: تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: وہ اپنی رائے سے کام کرتے تھے لیکن وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف چلیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، کیونکہ علی رضی اللہ عنہ نے غلاموں کو تقسیم میں کچھ نہ دینے کے معاملے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مختلف رائے رکھی، لوگوں میں برابری کرنے اور امہات الاولاد کی بیع کے معاملے میں عمر رضی اللہ عنہ سے مختلف رائے رکھی اور دادا (کی میراث) کے بارے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی، اور ان کا یہ قول کہ ”وہ ابوبکر اور عمر کے طریقے پر چلے“ ایک ایسا جملہ ہے جس میں کئی معانی کا احتمال ہے۔
محمد بن علی کی ابوبکر، عمر اور علی رضی اللہ عنہم سے روایت مرسل ہے، اور اسی طرح حسن بن محمد بن حنفیہ کی روایت بھی مرسل ہے۔ رہی یونس کی زہری سے روایت، تو مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ اس کے آخر میں جو بات رکھی گئی ہے وہ جبیر بن مطعم کا قول ہے تو یہ موصول ہوگی، یا ابن مسیب یا زہری کا قول ہے تو یہ مرسل ہوگی۔ محمد بن یحییٰ ذہلی نے اسے ابوصالح سے، انہوں نے لیث بن سعد سے، انہوں نے یونس سے روایت کیا ہے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کو الگ کر کے ابن شہاب زہری کا قول بنایا ہے، لہٰذا یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12960]
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، کیونکہ علی رضی اللہ عنہ نے غلاموں کو تقسیم میں کچھ نہ دینے کے معاملے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مختلف رائے رکھی، لوگوں میں برابری کرنے اور امہات الاولاد کی بیع کے معاملے میں عمر رضی اللہ عنہ سے مختلف رائے رکھی اور دادا (کی میراث) کے بارے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی، اور ان کا یہ قول کہ ”وہ ابوبکر اور عمر کے طریقے پر چلے“ ایک ایسا جملہ ہے جس میں کئی معانی کا احتمال ہے۔
محمد بن علی کی ابوبکر، عمر اور علی رضی اللہ عنہم سے روایت مرسل ہے، اور اسی طرح حسن بن محمد بن حنفیہ کی روایت بھی مرسل ہے۔ رہی یونس کی زہری سے روایت، تو مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ اس کے آخر میں جو بات رکھی گئی ہے وہ جبیر بن مطعم کا قول ہے تو یہ موصول ہوگی، یا ابن مسیب یا زہری کا قول ہے تو یہ مرسل ہوگی۔ محمد بن یحییٰ ذہلی نے اسے ابوصالح سے، انہوں نے لیث بن سعد سے، انہوں نے یونس سے روایت کیا ہے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کو الگ کر کے ابن شہاب زہری کا قول بنایا ہے، لہٰذا یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12960]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن