السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2698. -- باب: ما لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب، ومن اختار أن يكون وقفا للمسلمين كما فعل عمر بن الخطاب رضي الله عنه بأرض العراق وغيرها، إما بأن كانت فيئا فتركها وقفا، وإما بأن كانت غنيمة فاستطاب أنفس من كان ظهر عليها كما استطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أنفس أهل
-- باب: وہ مال جس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے گئے (بغیر لڑائی کے ملا ہو)، اور جس نے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرنے کو ترجیح دی جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق وغیرہ کی زمین کے ساتھ کیا، یا تو وہ مالِ فے تھا تو اسے وقف چھوڑ دیا، یا وہ مالِ غنیمت تھا تو انہوں نے ان لوگوں کی خوشنودی حاصل کی جنہیں اس پر غلبہ حاصل ہوا تھا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں کی خوشنودی حاصل کی تھی
حدیث نمبر: Q13043
بَ كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ وَغَيْرِهَا، إِمَّا بِأَنْ كَانَتْ فَيْئًا فَتَرَكَهَا وَقْفًا، وَإِمَّا بِأَنْ كَانَتْ غَنِيمَةً فَاسْتَطَابَ أَنْفُسَ مَنْ كَانَ ظَهَرَ عَلَيْهَا كَمَا اسْتَطَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفُسَ أَهْلِ سَبْيِ هَوْازِنَ حَتَّى تَرَكُوا حُقُوقَهُمْ.
... جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق وغیرہ کی زمین کے ساتھ کیا، یا تو اس طرح کہ وہ مالِ فے تھی تو انہوں نے اسے وقف کے طور پر (مسلمانوں کے لیے) چھوڑ دیا، اور یا اس طرح کہ وہ مالِ غنیمت تھی تو انہوں نے ان لوگوں کی رضامندی حاصل کر لی جنہوں نے اس پر غلبہ پایا تھا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں (کو پانے والوں) کی رضامندی حاصل کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: Q13043]
حدیث نمبر: 13043
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْطَى بَجِيلَةَ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذُوهُ سِنِينَ، ثُمَّ وَفَدَ جَرِيرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْؤُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، فَأَرَى أَنْ تَرُدَّهُ"، فَرَدَّهُ وَأَجَازَهُ بِثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بجیلہ کو سواد (عراق کی زرعی زمین) کا چوتھائی دیا، چند سال انہوں نے اسے رکھا، پھر جریر رضی اللہ عنہ وفد بن کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا جس سے (اس تقسیم کے بارے میں) سوال کیا جائے گا تو تم اسی پر رہتے جو تمہارے لیے تقسیم کیا گیا ہے، لیکن میرے خیال میں آپ اسے لوٹا دیں، پس انہوں نے اسے لوٹا دیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی دینار انعام دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13043]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13044
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيَّانِ أَنَّ لَيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمَا قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: زَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَنِسَائَهَمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلِيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ"، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنَّ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَفِيءُ اللهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ"، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ" فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ بِأَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عروہ رحمہ اللہ کو گمان ہے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ہوازن کا وفد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان کے اموال اور ان کی عورتیں انہیں لوٹا دی جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو میرے ساتھ کتنے اور لوگ ہیں اور سچی بات مجھے زیادہ محبوب ہے، اس لیے تم ایک چیز پسند کر لو: مال یا قیدی۔ میں نے تمہاری وجہ سے تاخیر کی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہو کر دس سے زائد راتیں ان کا انتظار کیا تھا، جب ان پر واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”تمہارے بھائی توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے ہے کہ ان کے قیدی واپس کر دیے جائیں۔ اس لیے جو شخص اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے، یہ بہتر ہے اور جو اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہیں، ان کا حق قائم رہے گا، وہ یوں کر لیں کہ اس کے بعد جو سب سے پہلے اللہ ہمیں غنیمت عطا فرمائے گا، اس میں سے ہم ان کو اس کا بدلہ دے دیں گے تو وہ ان کے قیدی واپس کر دیں۔“ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم خوشی سے واپس کرنا چاہتے ہیں“، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح ہمیں علم نہیں ہو گا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں۔ اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے بڑے لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں“، چنانچہ سب واپس آ گئے، ان کے بڑوں نے ان سے گفتگو کی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”سب نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔“ یہی وہ حدیث ہے جو قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13044]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2308»
الحكم على الحديث: صحيح