🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2715. -- باب: من قال: لا يخرج صدقة قوم منهم من بلدهم وفي بلدهم من يستحقها
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: کسی قوم کا صدقہ ان کے شہر سے باہر نہیں نکالا جائے گا جبکہ ان کے شہر میں اس کے مستحق موجود ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13136
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَهِيمَ، أنبأ وَكِيعٌ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ ⦗١٣⦘ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُوسَى عَنْ وَكِيعٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! تو اہل کتاب کے پاس جا رہا ہے، سب سے پہلے ان کو اللہ کی وحدانیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی دعوت دینی ہے۔ اگر وہ اس کو قبول کر لیں تو پھر ان کو بتانا کہ اللہ پاک نے ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اس بات کو بھی قبول کر لیں تو پھر ان کو یہ بتانا ہے کہ اللہ پاک نے تم پر تمہارے مالوں میں سے صدقہ فرض کیا ہے، جو مال دار لوگوں سے لیا جائے گا اور غریب لوگوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو پھر ان کے قیمتی مال سے بچنا ہے اور مظلوم کی بددعا سے بھی بچ؛ کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13136]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13137
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ هَذَا" الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدُ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ:" سَلْ مَا بَدَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟، فَقَالَ:" اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللهَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِصَوْمِ هَذَا الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتُقْسَمَ عَلَى فُقَرَائِنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ" ⦗١٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک آدمی اونٹ پر آیا، اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا پھر اس کو باندھ دیا۔ پھر ان لوگوں کو کہا کہ تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، ہم نے اس کو کہا کہ یہ سفید آدمی جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ پھر اس آدمی نے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں جواب دیا ہے۔“ اس آدمی نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تم سے کچھ سوال کروں گا، دوران سوال اگر آپ کو کوئی بات گراں گزرے تو برا محسوس نہ کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی سوال کرنا ہے کرو۔“ اس نے کہا کہ میں تجھے تیرے رب اور جو تجھ سے پہلے لوگوں کے رب ہیں کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے تم کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بالکل۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں پڑھیں؟ فرمایا: ”ہاں بالکل۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال میں ایک مہینے کے روزے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال دار لوگوں سے صدقہ وصول کریں اور غریبوں میں تقسیم کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو آخر کار اس نے کہا کہ میں اس چیز پر ایمان لے آیا ہوں، جو چیز آپ لے کر آئے ہیں اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو یہ پیغام دوں گا اور میں ضمام بن ثعلبہ بنو سعد بن بکر کا بھائی ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13137]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 63»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13138
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بُعِثَ إِلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالُوا لَهُ: أَيْنَ الْمَالُ؟ قَالَ:" وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتُمُونِي أَخَذْنَاهَا مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعْنَاهَا حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهَا".
عطاء بن ابی میمونہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو صدقہ کے لیے بھیجا گیا۔ جب وہ لوٹے تو لوگوں نے کہا کہ مال کہاں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ مال کے لیے تم نے مجھے بھیجا تھا؟ وہ تو ہم نے ان سے لیا جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لیتے تھے اور ان کو دے دیا جن کو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13138]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13139
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقَرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا سَاعِيًا، فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَوَضَعَهَا فِي فُقَرَائِنَا وَأَمَرَ لِي بِقَلُوصٍ هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِأَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ لینے والے کو بھیجا تو اس نے مال دار لوگوں سے صدقہ لیا اور فقیر لوگوں میں تقسیم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹنی دینے کا حکم دیا۔
یہ حدیث اشعث بن سوار کے واسطے سے معروف ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13139]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13140
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ ابْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَيَقْسِمَهَا فِي فُقَرَائِنَا، وَكُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا لَا مَالَ لِي فَأَعْطَانِي مِنْهَا قَلُوصًا".
ابن ابی جحیفہ اپنے والد سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والے کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا تو اسے حکم دیا کہ ”وہ مال دار لوگوں سے صدقہ لے اور غریب لوگوں میں تقسیم کرے“ اور میں یتیم لڑکا تھا، میرے پاس مال نہیں تھا، تو اس نے مجھے اس (صدقے) میں سے ایک جوان اونٹنی دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13140]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13141
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأنبأ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى" أَيُّمَا رَجُلٍ انْتَقَلَ مِنْ مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ إِلَى غَيْرِ مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ، فَعُشْرُهُ وَصَدَقَتُهُ إِلَى مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ".
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ جو آدمی اپنے قبیلے کے ضلع سے کسی دوسرے ضلع کی طرف منتقل ہو جائے تو اس کا عشر اور صدقہ اس کے قبیلے کے ضلع ہی کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13141]
تخریج الحدیث: «الام للشافعي 2/ 72»

الحكم على الحديث: الام للشافعي 2/ 72
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13142
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" لَا تَخْرُجُ الزَّكَاةُ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ، إِلَّا لِذِي قَرَابَةٍ" مَوْقُوفٌ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قریبی رشتہ داروں کے سوا (کسی اور کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر زکاۃ منتقل نہیں کی جائے گی۔)“
یہ موقوف ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13142]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں