السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2722. -- باب: لا يكتم منها شيء
-- باب: اس (صدقہ) میں سے کوئی چیز نہ چھپائی جائے
حدیث نمبر: 13172
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدُ آبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ ⦗٢٥⦘ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا، فَمَا فَوْقَهُ، فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَامَ رَجُلٌ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: تَحَمَّلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ قَالَ:" وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ، فَلْيَأْتِنَا بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُعْطِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى".
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے ہمارے ساتھ کوئی کام کیا، پھر اس نے اگر ایک سوئی بھی چھپالی یا اس سے بڑی کوئی چیز تو وہ خائن ہے، وہ قیامت والے دن آئے گا اور وہ چیز اس کے ساتھ (ہوگی)۔“ ایک سیاہ رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، جو انصار میں سے تھا، راوی کہتا ہے: گویا میں اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں، اس نے کہا: اپنا کام مجھ سے واپس لے لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے کہا کہ ابھی آپ نے اس کے بارے میں وعید سنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس کو ہم نے کسی کام پر عامل بنایا وہ چھوٹی اور بڑی سب چیزیں لے کر آئے، جو اس کو دیا جائے اس کو لے لے اور جس چیز سے روکا جائے اس سے رک جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13172]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13173
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أُرَاهُ، فَقَالَ: دُونَكَ عَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنِ الْفَضْلِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اسی حدیث کی مثل ہے جو پیچھے گزری۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13173]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13174
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَ الْعَامِلُ حِينَ قَدِمَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، فَنَظَرْتَ إِنْ كَانَ يُهْدَى لَكَ أَمْ لَا؟"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً عَلَى الْمِنْبَرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ" فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِيَنَا، فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ لِي، فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَقْبَلُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ وَلَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا وَلَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ" قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَاسْأَلُوهُ ⦗٢٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو صدقے پر عامل بنایا، جب عامل آیا تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے لیے ہے، یہ میرے لیے جو مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھا رہتا تو کیا تجھے یہ تحفے دیے جاتے یا نہ؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کو منبر پر کھڑے ہوئے اور نماز کے بعد تشہد پڑھا اور اللہ کی تعریف اور ثنا بیان کی جو اس کے لائق تھی، پھر آپ نے فرمایا: ”عاملوں (صدقے لینے والوں) کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم ان کو صدقوں پر مقرر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے تحفے ہیں اور یہ صدقے کا مال ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا، پھر دیکھتا کہ کیا اس کو تحفے دیے جاتے ہیں یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی قبول کرے گا وہ قیامت والے دن اس کو لے کر آئے گا، اگر وہ اونٹ ہوں گے تو اس نے اپنے کندھوں پر اس کو اٹھایا ہوا ہو گا اور اس کی بلبلانے کی آواز ہو گی اور اگر وہ گائے ہو گی تو اس کے بولنے کی آواز آ رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہو گی تو وہ اس کو بھی لے کر آئے گا اور اس کی منمنانے کی آواز ہو گی، بے شک میں نے یہ تمام باتیں تم کو بتا دی ہیں۔“
ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ (اتنا) بلند کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ رہے تھے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سنا تو تم انہیں سے پوچھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13174]
ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ (اتنا) بلند کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ رہے تھے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سنا تو تم انہیں سے پوچھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13174]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم1832»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13175
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَدْخُلُ صَاحِبُ مَكْسٍ الْجَنَّةَ"، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: يَعْنِي الْعَشَّارَ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَالْمَكْسُ: هُوَ النُّقْصَانُ، فَإِذَا كَانَ الْعَامِلُ فِي الصَّدَقَاتِ يَنْتَقِصُ مِنْ حُقُوقِ الْمَسَاكِينِ، وَلَا يُعْطِيهِمْ إِيَّاهَا بِالتَّمَامِ، فَهُوَ حِينَئِذٍ صَاحِبُ مَكْسٍ يُخَافُ عَلَيْهِ الْإِثْمُ وَالْعُقُوبَةُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”(ظلماً) ٹیکس لینے والا جنت میں کبھی بھی داخل نہ ہوگا۔“
ٹیکس سے مراد وہ نقصان ہے جو عامل مساکین کے حقوق میں کمی کرتا ہے اور انہیں ان کے پورے حقوق نہیں دیتا، (جب وہ یہ کام کرے گا) تو وہ صاحبِ ٹیکس ہوگا۔ اس پر جو گناہ ہے اور اس کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13175]
ٹیکس سے مراد وہ نقصان ہے جو عامل مساکین کے حقوق میں کمی کرتا ہے اور انہیں ان کے پورے حقوق نہیں دیتا، (جب وہ یہ کام کرے گا) تو وہ صاحبِ ٹیکس ہوگا۔ اس پر جو گناہ ہے اور اس کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13175]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف