السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2780. -- باب: استباحة قتل من سبه أو هجاه امرأة كان أو رجلا
-- باب: آپ ﷺ کو گالی دینے یا آپ کی ہجو (برائی) کرنے والے کو قتل کرنے کے مباح ہونے کا بیان، خواہ وہ عورت ہو یا مرد
حدیث نمبر: 13375
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدِ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ، فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا، فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَذَكَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَعَتْ فِيهِ قَالَ: فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِعْوَلِ، فَأَخَذْتُهُ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا قَالَ: فَوَقَعَ طِفْلَاهَا بَيْنَ رِجْلَيْهَا مُتَضَمِّخَانِ بِالدَّمِ فَأَصْبَحْتُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسُ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللهِ رَجُلًا رَأَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَعَلَ مَا فَعَلَ، إِلَّا قَامَ قَالَ: فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَعْنِي الْقَاتِلَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ فَذَكَرَ كَلِمَةً قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ: ذَهَبَتْ عَنِّي فَقَالَ وَإِنْ كَانَتْ لِرَفِيقَةٍ لَطِيفَةٍ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ، فَذَكَرْتُكَ فَوَقَعَتْ فِيكَ فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِعْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کی ام ولد (لونڈی جس سے اس کی اولاد تھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بدگوئی کرتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی، وہ اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ اسے ڈانٹتا مگر وہ نہ رکتی، ایک رات اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی کی، (وہ آدمی) کہتا ہے: مجھ سے صبر نہ ہو سکا، میں اٹھ کر کدال کی طرف گیا، اسے لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ دیا، پھر اس پر اپنا بوجھ ڈالا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔ کہتے ہیں: اس کے دو بچے اس کی ٹانگوں کے درمیان خون میں لت پت گر پڑے۔ صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: ”میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے یہ کام کیا ہے، اگر وہ سمجھتا ہے کہ نبی کا اس پر حق ہے تو کھڑا ہو جائے۔“ تو وہ نابینا، یعنی قاتل، کانپتا ہوا آگے آیا اور اس نے ایک بات کہی (راوی ابو الحسین کہتے ہیں: وہ بات مجھے یاد نہیں رہی) اور کہا: وہ میری بڑی نرم خو اور اچھی ساتھی تھی، لیکن وہ آپ کی بہت بدگوئی کرتی اور آپ کو گالیاں دیتی تھی، میں اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی، میں اسے ڈانٹتا مگر وہ نہ رکتی، گزشتہ رات میں نے آپ کا ذکر کیا تو اس نے آپ کی بدگوئی کی، مجھ سے صبر نہ ہو سکا، میں اٹھ کر کدال کی طرف گیا اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13375]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 4361»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا".
ایک یہودیہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتی تھی، تو ایک آدمی نے اس کا گلا دبا دیا اور اس کو مار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13376]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13377
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، عَنْ ⦗٩٧⦘ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ رَجُلًا، سَبَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ:" أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا لَيْسَتْ هَذِهِ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ایک آدمی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی تو راوی کہتا ہے کہ کیا میں اس کو قتل نہ کر دوں اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی اور کے لائق نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13377]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13378
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو الْأَحْوَصِ الْعُكْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا يُقْتَلُ أَحَدٌ بِسَبِّ أَحَدٍ، إِلَّا بِسَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِيَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی کسی کو گالی دینے کی وجہ سے قتل نہ کرے، سوائے اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے۔
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن اسماعیل کے واسطے سے پہچانی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13378]
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن اسماعیل کے واسطے سے پہچانی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13378]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن