السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2790. -- باب: ما أبيح له من الحكم لنفسه، وقبول قول من شهد له بقوله، وإن جاز ذلك جاز أن يحكم لولده وولد ولده
-- باب: آپ ﷺ کے لیے اپنے حق میں فیصلہ کرنے اور آپ کی بات کی گواہی دینے والے کی بات قبول کرنے کے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو آپ کے لیے اپنی اولاد اور ان کی اولاد کے حق میں فیصلہ کرنا بھی جائز ہو گیا
حدیث نمبر: 13404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ فَاسْتَتْبَعَهُ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، وَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ، فَسَاوَمُوهُ بِالْفَرَسِ، وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ ابْتَاعَهُ حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمُ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا زَادَهُ نَادَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ أَوْ لَأَبِيعَنَّهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّى أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ:" أَوَلَسْتُ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ؟" فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا وَاللهِ مَا بِعْتُكَ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَى قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ"، فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ، وَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ، فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقُولُ إِلَّا حَقًّا، حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ فَاسْتَمَعَ مَا يُرَاجِعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُرَاجِعُ الْأَعْرَابِيُّ وَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ:" هَلُمَّ شُهَدَاءُ يَشْهَدُونَ أَنِّي بَايَعْتُكَ قَالَ خُزَيْمَةُ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ قَالَ:" بِمَا تَشْهَدُ؟" قَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمارہ بن خزیمہ رحمہ اللہ اپنے چچا (جو کہ صحابی ہیں) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہاتی سے گھوڑا خریدا اور اسے اپنے پیچھے آنے کو کہا تاکہ گھوڑے کی قیمت کا معاملہ حل ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی چلے اور اس نے سست روی کی تو لوگ دیہاتی کے پاس آ کر اس گھوڑے کی قیمت کا بھاؤ کرنے لگے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں، ان میں سے بعض نے گھوڑے کی قیمت اس قیمت سے زیادہ لگا دی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خریدا تھا۔ جب دیہاتی نے قیمت زیادہ دیکھی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی: اگر آپ اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں وگرنہ میں اس کو ضرور بیچ دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز سن کر ٹھہر گئے اور جب دیہاتی آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”کیا میں نے تجھ سے خرید نہیں لیا؟“ دیہاتی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ کو نہیں بیچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں! میں تجھ سے خرید چکا ہوں۔“ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیہاتی کے گرد جمع ہو گئے۔ دیہاتی نے کہا: کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے آپ کو بیچا ہے۔ بعض مسلمانوں نے دیہاتی سے کہا: تیرا ستیاناس ہو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف سچ بات کہہ رہے ہیں، یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اور دیہاتی کی بات سنی، دیہاتی کہہ رہا تھا: کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑا بیچا ہے۔ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”تو کس دلیل کی بنا پر گواہی دیتا ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کی تصدیق کی بنا پر، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے قائم مقام قرار دیا۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13404]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 2228»
الحكم على الحديث: صحيح