السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2792. -- باب: تركه الإنكار على من شرب بوله ودمه
-- باب: آپ ﷺ کا اپنا پیشاب اور خون پینے والے پر انکار نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13406
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ الْعَطَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمَيْمَةَ، أُمِّهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ فِي قَدَحٍ مِنْ عِيدَانٍ ثُمَّ وَضَعَ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَبَالَ، فَوَضَعَ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَجَاءَ فَأَرَادَهُ، فَإِذَا الْقَدَحُ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، فَقَالَ لِامْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بَرَكَةٌ كَانَتْ تَخْدُمُهُ لِأُمِّ حَبِيبَةَ جَاءَتْ مَعَهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ:" أَيْنَ الْبَوْلُ الَّذِي كَانَ فِي هَذَا الْقَدَحِ؟" قَالَتْ: شَرِبْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ".
حضرت امیمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی کے بنے ہوئے ایک پیالے میں پیشاب کرتے، پھر اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اسے چارپائی کے نیچے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اسے (باہر) پھینکنے کا ارادہ کیا تو پیالہ خالی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکہ نامی عورت سے کہا، جو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھی اور حبشہ سے آئی تھی: ”اس پیالے میں جو پیشاب تھا وہ کدھر گیا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے پی لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13406]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13407
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ، ثنا هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَانِي دَمَهُ، وَقَالَ:" ⦗١٠٧⦘ اذْهَبْ فَوَارِهِ لَا يَبْحَثُ عَنْهُ سَبُعٌ أَوْ كَلْبٌ أَوْ إِنْسَانٌ" قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَشَرِبْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا صَنَعْتَ؟" قُلْتُ: صَنَعْتُ الَّذِي أَمَرْتَنِي قَالَ:" مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ شَرِبْتَهُ" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" مَاذَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْكَ؟" قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَزَادَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: فَيَرَوْنَ أَنَّ الْقُوَّةَ الَّتِي كَانَتْ فِي ابْنِ الزُّبَيْرِ مِنْ قُوَّةِ دَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَنْ سَلْمَانَ فِي شُرْبِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ دَمَهُ وَرُوِيَ عَنْ سَفِينَةَ أَنَّهُ شَرِبَهُ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور اس کا خون مجھے دیا اور فرمایا: ”اس کو جلدی سے لے جاؤ (اور کہیں دفن کر دو) تاکہ درندے، کتے اور انسان کو پتہ نہ چلے۔“ وہ کہتے ہیں: میں چلا تو (راستے میں) میں نے وہ خون پی لیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے (اس خون کا) کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: جیسے آپ نے حکم دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے خیال میں تو نے پی لیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کو تجھ سے کیا کچھ پیش آئے گا!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13407]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13408
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْبَاطٍ قَالَا: ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا بُرَيْهُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِي:" خُذْ هَذَا الدَّمَ فَادْفِنْهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطَّيْرِ"، أَوْ قَالَ: النَّاسُ وَالدَّوَابُّ شَكَّ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: فَتَغَيَّبْتُ بِهِ، فَشَرِبْتُهُ قَالَ: ثُمَّ سَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي شَرِبْتُهُ فَضَحِكَ".
بریہ بن عمر بن سفینہ اپنے دادا سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، پھر مجھ سے فرمایا: ”یہ خون لو اور اس کو جانوروں اور پرندوں سے چھپا دو“ یا فرمایا: ”لوگوں اور جانوروں سے چھپا دو۔“ (ابن ابی فدیک کو شک ہے)، کہتے ہیں: میں آنکھوں سے اوجھل ہو گیا اور اسے پی لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تو میں نے بتایا کہ پی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13408]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً