السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2889. -- باب: ما يستدل به على قصر الآية على ما نزلت فيه أو نسخها
-- باب: اس بات پر دلالت کرنے والی روایات کا بیان کہ یہ آیت اپنے شانِ نزول تک محدود ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 13870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْعُقَيْلِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ حَمَّادٌ: قَالَ أَحَدُهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ:" يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدِي بِنْتَ عَمٍّ لِي جَمِيلَةً، وَأَنَّهَا لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ قَالَ:" طَلِّقْهَا" قَالَ: لَا أَصْبِرُ عَنْهَا قَالَ:" فَأَمْسِكْهَا إِذًا"، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ مُرْسَلًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نکاح میں میرے چچا کی خوبصورت بیٹی ہے، لیکن وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ رد نہیں کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلاق دے دو۔“ اس نے کہا: میں اس کے بغیر صبر نہ کر سکوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روکے رکھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13870]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13871
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُّ الْوَزَّانُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ" قَالَ:" غَرِّبْهَا" قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي قَالَ:" فَاسْتَمْتِعْ بِهَا إِذًا"، لَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ" إِذًا".
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر کہا: میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو رد نہیں کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جدا کر دو۔“ کہنے لگا: مجھے ڈر ہے کہ میرا دل اس کا پیچھا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب فائدہ اٹھاؤ۔“ ابوداؤد کی روایت میں «إِذًا» کے لفظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13871]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13872
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي هَاشِمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ" قَالَ:" طَلِّقْهَا" قَالَ: إِنَّهَا تُعْجِبُنِي قَالَ:" تَمَتَّعْ بِهَا".
ابو زبیر، بنو ہاشم کے ایک غلام رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ میری عورت چھونے والے ہاتھ کو واپس نہیں کرتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلاق دے دو۔“ کہنے لگا: مجھے اچھی لگتی ہے، فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13872]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13873
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ الصَّائِغُ، ثنا أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِيَ امْرَأَةً وَهِيَ لَا تَدْفَعُ يَدَ لَامِسٍ" قَالَ:" طَلِّقْهَا" قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا وَهِيَ جَمِيلَةٌ قَالَ:" فَاسْتَمْتِعْ بِهَا"، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو واپس نہیں کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلاق دے دو۔“ اس نے کہا: خوبصورت ہے، میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فائدہ اٹھاؤ۔“ اس طرح معقل بن عبیداللہ عن ابی الزبیر عن جابر بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13873]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13874
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى التَّوَّزِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ:" إِنَّ لِي امْرَأَةً لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ" قَالَ:" فَارِقْهَا" قَالَ: إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنْهَا قَالَ:" فَاسْتَمْتِعْ بِهَا"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آ کر کہا کہ میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو نہیں روکتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جدا کر دو۔“ کہنے لگا: اس کے بغیر صبر نہ کر سکوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13874]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13875
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَهَا ابْنَةٌ مِنْ غَيْرِهِ، وَلَهُ ابْنٌ مِنْ غَيْرِهَا، فَفَجَرَ الْغُلَامُ بِالْجَارِيَةِ فَظَهَرَ بِهَا حَبَلٌ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَّةَ رُفِعَ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا، ⦗٢٥١⦘ فَجَلَدَهُمَا عُمَرُ الْحَدَّ، وَحَرَصَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَأَبَى الْغُلَامُ".
عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی، اس کی بیٹی دوسرے خاوند سے تھی اور اس مرد کا بیٹا کسی دوسری بیوی سے تھا، بچے نے بچی سے زنا کر لیا تو حمل ظاہر ہو گیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکہ آئے تو ان کے سامنے معاملہ پیش ہوا۔ جب ان دونوں سے پوچھا گیا تو دونوں نے اعتراف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو حد لگائی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تمنا تھی کہ دونوں کو جمع کر دیا جائے، لیکن بچے نے انکار کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13875]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13876
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ جَارِيَةً فَجَرَتْ فَأُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدُّ، ثُمَّ إِنَّهُمْ أَقْبَلُوا مُهَاجِرِينَ، فَتَابَتِ الْجَارِيَةُ، فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا وَحَالُهَا فَكَانَتْ، تُخْطَبُ إِلَى عَمِّهَا، فَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا حَتَّى يُخْبِرَ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا، وَجَعَلَ يَكْرَهُ أَنْ يُفْشِيَ عَلَيْهَا ذَلِكَ فَذَكَرَ أَمْرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ:" زَوِّجْهَا كَمَا تُزَوِّجُوا صَالِحِي فَتَيَاتِكُمْ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ بِكْرٍ افْتَضَّ امْرَأَةً وَاعْتَرَفَا، فَجَلَدَهُمَا مِائَةً ثُمَّ زَوَّجَ أَحَدَهُمَا مِنَ الآخَرِ مَكَانَهُ وَنَفَاهُمَا سَنَةً.
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی نے زنا کیا تو اس پر حد قائم کی گئی، پھر وہ لوگ ہجرت کر کے آئے تو اس بچی نے توبہ کی، اس کی توبہ اچھی تھی اور اس کا حال بھی درست تھا۔ اس کے چچا کے پاس اس کے لیے نکاح کے پیغام آتے، لیکن وہ اس کے معاملے کی خبر دیے بغیر اس کی شادی کرنا پسند نہ کرتا تھا اور اس کے راز کو ظاہر کرنا بھی پسند نہ کرتا تھا۔ اس نے اس بچی کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے چچا سے کہا: ”آپ اس کی شادی کریں جیسے اپنی نیک بچیوں کی شادی کرتے ہیں۔“
(ب) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ایک کنوارے مرد کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اس نے کسی عورت سے زنا کر لیا، انہوں نے اعتراف کر لیا تو دونوں کو سو سو کوڑے لگائے، پھر دونوں کی شادی اسی جگہ کر دی اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13876]
(ب) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ایک کنوارے مرد کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اس نے کسی عورت سے زنا کر لیا، انہوں نے اعتراف کر لیا تو دونوں کو سو سو کوڑے لگائے، پھر دونوں کی شادی اسی جگہ کر دی اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13876]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 866»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13877
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ فَجَرَ بِامْرَأَةٍ أَيَنْكِحُهَا؟ فَقَالَ:" نَعَمْ ذَلِكَ حِينَ أَصَابَ الْحَلَالَ".
عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی کے بارے میں پوچھا جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے، کیا اس عورت سے اس کی شادی کر دی جائے؟ وہ فرمانے لگے: ہاں، اس وقت وہ جائز طریقے سے مجامعت کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13877]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن منصور 886»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا بَعْدُ قَالَ:" كَانَ أَوَّلَهُ سِفَاحٌ، وَآخِرَهُ نِكَاحٌ، وَأَوَّلَهُ حَرَامٌ، وَآخِرَهُ حَلَالٌ".
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے پھر اس سے شادی کر لیتا ہے، فرمانے لگے: پہلا زنا تھا اور دوسرا نکاح ہے اور پہلا حرام تھا اور دوسرا حلال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13878]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13879
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" فِيمَنْ فَجَرَ بِامْرَأَةٍ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا قَالَ: أَوَّلُهُ سِفَاحٌ، وَآخِرُهُ نِكَاحٌ لَا بَأْسَ بِهِ".
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے کسی عورت سے زنا کیا پھر اس سے شادی کرلی، فرماتے ہیں: ”پہلے زنا تھا پھر نکاح کرلیا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13879]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح