🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2898. -- باب: ما جاء في قول الله تعالى: وأن تجمعوا بين الأختين
-- باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور (یہ بھی حرام کیا گیا ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13923
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ⦗٢٦٣⦘ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، وَأُمُّهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ انْكِحْ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي" قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ:" بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟" قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" وَاللهِ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ،" فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" قَالَ عُرْوَةُ: ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ، كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا، فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ فِي النَّوْمِ بِشَرِّ حِيبَةٍ، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا لَقِيتَ؟ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ رَخَاءً غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ مِنِّي بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ، وَأَشَارَ إِلَى النَّقِيرَةِ الَّتِي بَيْنَ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا مِنَ الْأَصَابِعِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت ابی سلمہ، جن کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام سلمہ ہیں رضی اللہ عنہما، نے انہیں خبر دی کہ سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن زینب بنت ابی سفیان سے شادی کرلو۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے؟“ کہتی ہیں: میں نے کہا: ہاں، میں بخل کرنے والی نہیں اور مجھے پسند ہے کہ بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہوجائے۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ کہتی ہیں کہ ہمیں تو بیان کیا گیا کہ آپ درۃ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”بنت ام سلمہ؟“ کہتی ہیں: میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری گود میں پرورش پانے والی بچی نہ بھی ہوتی تب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے کہ ثوبیہ نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور مجھے دودھ پلایا تھا تو میرے اوپر اپنی بیٹیاں اور بہنیں نہ پیش کیا کرو۔“ سیدنا عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی، ابولہب نے اس کو آزاد کردیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابولہب فوت ہوگیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اس کو خواب میں بری حالت میں دیکھا، اس نے کہا: تجھے کیا ملا؟ تو ابولہب نے کہا: مجھے تمہارے بعد کبھی نرمی نہیں ملی سوائے اس کے کہ ثوبیہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے مجھے اس (جگہ) سے پلایا جاتا ہے۔ اور اس نے اس نقیرہ کی طرف اشارہ کیا جو اس کے انگوٹھے اور دوسری انگلیوں کے درمیان تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13923]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1449»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13924
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" قَالَتْ: نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي" قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟" قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي؛ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ،" فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن ابوسفیان کی بیٹی سے شادی کر لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے؟“ کہتی ہیں: ہاں، میں آپ کے لیے بخل کرنے والی نہیں ہوں اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میری بہن میری بھلائی میں شریک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں تو معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنتِ ام سلمہ؟“ کہنے لگی: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری گود میں پرورش پانے والی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے حلال نہ تھی؛ کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے؛ کیونکہ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، تو میرے اوپر اپنی بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13924]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں