السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2935. جماع أبواب العيب في المنكوحة -- باب: ما يرد به النكاح من العيوب
یہ جامع ابواب ہیں جن میں منکوحہ (جس عورت سے نکاح کیا جائے) میں عیب پائے جانے کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14219
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بُكَيْرٍ يَعْنِي النَّخَعِيَّ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ الطَّائِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ رَأَى بِكَشْحِهَا وَضَحًا فَرَدَّهَا إِلَى أَهْلِهَا" وَقَالَ:" دَلَّسْتُمْ عَلَيَّ"،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غفار کی ایک عورت سے شادی کی، جب وہ آپ پر داخل کی گئی تو اس کے پہلو پر برص کی بیماری تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو واپس کر دیا اور فرمایا: ”تم نے میرے ساتھ دھوکا کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14219]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 14220
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو بُكَيْرٍ النَّخَعِيُّ وَاسْمُ أَبِي بُكَيْرٍ الْوَلِيدُ بْنُ بَكْرٍ، كُوفِيٌّ عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَذَكَرَهُ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غفار کی ایک عورت سے شادی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14220]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً، تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً، تقدم قبله
حدیث نمبر: 14221
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيِّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ رَأَى بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَنَاءَ عَنْهَا وَقَالَ: أَرْخِي عَلَيْكِ"، فَخَلَّى سَبِيلَهَا، وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَجَمِيلُ بْنُ زَيْدٍ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَاضْطَرَبَ الرُّوَاةُ عَنْهُ لِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا. وَكَذَلِكَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ. وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ كَعْبٍ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ كَعْبِ بْنِ زَيْدٍ، أَوْ زَيْدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غفار کی ایک عورت سے شادی کی، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر داخل کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پہلو پر سفیدی کے داغ دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور کر دیا اور فرمایا: ”اپنے اوپر پردہ لٹکا لو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا، اس سے کچھ بھی نہ لیا۔
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: جمیل بن زید اس حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہیں اور اس حدیث میں ان سے روایت کرنے والوں میں اضطراب ہے۔ ان سے اسی طرح (ابن عمر سے) بیان کیا گیا ہے، اور اسماعیل بن زکریا نے بھی جمیل بن زید سے، انہوں نے ابن عمر سے اسی مفہوم میں روایت کی ہے۔ اور ان سے سعید بن زید سے بھی بیان کیا گیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، اور ان سے عبداللہ بن کعب سے، اور کعب سے، اور کعب بن زید یا زید بن کعب سے بھی بیان کیا گیا ہے۔ امام بخاری کہتے ہیں: اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14221]
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: جمیل بن زید اس حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہیں اور اس حدیث میں ان سے روایت کرنے والوں میں اضطراب ہے۔ ان سے اسی طرح (ابن عمر سے) بیان کیا گیا ہے، اور اسماعیل بن زکریا نے بھی جمیل بن زید سے، انہوں نے ابن عمر سے اسی مفہوم میں روایت کی ہے۔ اور ان سے سعید بن زید سے بھی بیان کیا گیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، اور ان سے عبداللہ بن کعب سے، اور کعب سے، اور کعب بن زید یا زید بن کعب سے بھی بیان کیا گیا ہے۔ امام بخاری کہتے ہیں: اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14221]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 14222
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ فَمَسَّهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا وَذَلِكَ لِزَوْجِهَا غُرْمٌ عَلَى وَلِيِّهَا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اور وہ عورت مجنون، کوڑھ والی یا برص کی بیمار ہو، پھر اگر ہمبستری کر لی تو حقِ مہر ادا کرے اور شوہر اس عورت کے ولی پر چٹی ڈال سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14222]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14223
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَضَى أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ وَبِهَا شَيْءٌ مِنْ هَذَا الدَّاءِ فَلَمْ يَعْلَمْ حَتَّى مَسَّهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَيَغْرُمُ وَلِيُّهَا لِزَوْجِهَا مِثْلَ مَهْرِهَا".
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ جس عورت کو ان بیماریوں میں سے کوئی بیماری ہو اور مرد جانتا نہ ہو لیکن ہمبستری کر لی، تو اس کے عوض اس کے لیے حق مہر ہے اور شوہر اس عورت کے ولی پر حق مہر کے برابر چٹی ڈال سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14223]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14224
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَبِهَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ، أَوْ قَرْنٌ فَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَسِّهِ إِيَّاهَا، وَهُوَ لَهُ عَلَى الْوَلِيِّ".
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے پاگل، کوڑھی اور پھلبہری والی یا قرن (شرمگاہ میں ہڈی یا گوشت کی رکاوٹ) والی عورت سے شادی کی، پھر اگر اس سے مجامعت کر لی تو حق مہر ادا کرنا ہے اور وہ اس کے ولی کے ذمہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14224]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14225
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ:" أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي بَيْعٍ وَلَا ⦗٣٥٠⦘ نِكَاحٍ إِلَّا أَنْ تُسَمَّى، فَإِنْ سُمِّيَ جَازَ: الْجُنُونُ، وَالْجُذَامُ، وَالْبَرَصُ، وَالْقَرْنُ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِلَّا أَنْ يَمَسَّ فَإِنْ مَسَّ فَقَدْ جَازَ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
ابوالشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار چیزوں کو نکاح و بیع میں مجمل رکھنا جائز نہیں ہے، اگر تعیین کر دے تو ٹھیک ہے ورنہ درست نہیں، وہ چار چیزیں یہ ہیں: دیوانگی، کوڑھ، برص اور قرن۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14225]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي في الام 5/ 85»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14226
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ:" أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي بَيْعٍ وَلَا نِكَاحٍ: الْمَجْنُونَةُ، وَالْمَجْذُومَةُ، وَالْبَرْصَاءُ، وَالْعَفْلَاءُ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عُمَرَ.
جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار چیزیں بیع و نکاح میں جائز نہیں ہیں: دیوانگی، کوڑھ والی، پھلبہری والی اور ایسی عورت جس کی شرمگاہ میں غدود ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14226]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 825»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14227
وَمِنْ قَوْلِ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ إِلَّا أَنْ يَمَسَّهُنَّ.
ایضاً، اور اس میں یہ اضافہ ہے: ”مگر یہ کہ وہ ان سے مجامعت کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14227]
حدیث نمبر: 14228
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ:" أَرْبَعٌ لَا يَجُزْنَ فِي بَيْعٍ وَلَا نِكَاحٍ: الَمَجْنُونَةُ، وَالْمَجَذْومَةُ، وَالْبَرْصَاءُ، وَالْعَفْلَاءُ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ مَرْفُوعًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چار عیوب بیع و نکاح میں جائز نہیں ہیں: (۱) دیوانگی، (۲) کوڑھ، (۳) پھلبہری، (۴) ایسی عورت جس کی شرمگاہ میں غدود ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14228]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن