🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2952. -- باب: ما يجوز أن يكون مهرا
-- باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14388
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا ابن نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْبَصِيرِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ: حَدِيثُ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" لَا مَهْرَ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ" فَقَالَ سُفْيَانُ: دَاوُدُ مَا زَالَ هَذَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ قُلْتُ: إِنَّ شُعْبَةَ رَوَى عَنْهُ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ وَقَالَ: دَاوُدُ دَاوُدُ.
شعبی رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دس درہموں سے کم حق مہر نہیں ہے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: داؤد، داؤد؟ اور وہ اس کا انکار ہی کرتے رہے، میں نے کہا: شعبہ رحمہ اللہ ان سے نقل فرماتے ہیں، تو انہوں نے اپنی پیشانی پر مارا اور کہا: داؤد، داؤد؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14388]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14389
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَيَّارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: لَقَّنَ غِيَاثُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دَاوُدَ الْأَوْدِيَّ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا يَكُونُ مَهْرٌ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ" فَصَارَ حَدِيثًا.
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غیاث بن ابراہیم نے داؤد اودی کو یہ بات سکھا دی (تلقین کی) کہ شعبی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حق مہر دس درہم سے کم نہ ہو، تو یہ حدیث بن گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14389]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للامام احمد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14390
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: غِيَاثٌ كَذَّابٌ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَلَا مَأْمُونٍ، قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: هُوَ غِيَاثُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى يَقُولُ: دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ لَيْسَ بِشَيْءٍ.
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غیاث بہت جھوٹا ہے، نہ ثقہ ہے اور نہ قابلِ اعتماد۔ ابو الفضل کہتے ہیں: یہ غیاث بن ابراہیم بصری ہے۔ وہ کہتے ہیں: اور میں نے یحییٰ کو فرماتے ہوئے سنا کہ داؤد اودی «لَيْسَ بِشَيْءٍ» ”کچھ بھی نہیں“ کے درجے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14390]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14391
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٌّ أَنْبَأَ السَّاجِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُثَنَّى، يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، وَلَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ، شَيْئًا قَطُّ وَبِمَعْنَاهُ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ⦗٣٩٤⦘ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
ابن مثنیٰ فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمن بن مہدی کو کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے ہمیں سفیان کے واسطے سے داؤد بن یزید سے کوئی روایت بیان کی ہو، اور عمرو بن علی نے بھی اسی معنی کی بات کہی ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14391]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14392
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الصَّدَاقُ مَا تَرَاضَى بِهِ الزَّوْجَانِ".
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حق مہر وہ ہے جس پر میاں بیوی راضی ہوجائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14392]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14393
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ قَالَ: بُشِّرَ رَجُلٌ بِجَارِيَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ: هَبْهَا لِي فَذُكِرَ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ:" لَمْ تَحِلَّ الْمَوْهُوبَةُ لِأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَصْدَقَهَا سَوْطًا فَمَا فَوْقَهُ جَازَ" وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ:" وَلَوْ أَصْدَقَهَا سَوْطًا أُحِلَّتْ لَهُ".
یزید بن عبداللہ بن قسیط رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو بیٹی (کی پیدائش) کی خوشخبری دی گئی تو ایک دوسرے آدمی نے کہا: اسے مجھے ہبہ کر دو۔ اس کا تذکرہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے سامنے ہوا تو وہ فرمانے لگے: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہبہ کی گئی عورت کسی کے لیے حلال نہیں ہے، اگر مرد عورت کو ایک کوڑا یا اس سے زیادہ حقِ مہر دے دے تو وہ جائز ہے۔“ اور دوسری جگہ پر ہے کہ ”اگر ایک کوڑا حقِ مہر دے دے تو وہ اس کے لیے حلال ہو جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14393]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافي في الام 5/60»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14394
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى قَالَ: سَأَلْتُ رَبِيعَةَ كَمْ أَقَلُّ الصَّدَاقِ؟ فَقَالَ:" مَا تَرَاضَى بِهِ الْأَهْلُونَ"، قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ دِرْهَمًا؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَ نِصْفَ دِرْهَمٍ" قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ؟ قَالَ:" وَلَوْ كَانَ قَبْضَةً مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ حَبَّةَ حِنْطَةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ".
ابن ابی یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ربیعہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ حق مہر کتنا کم ہونا چاہیے؟ فرماتے ہیں: جتنے پر گھر والے راضی ہو جائیں، میں نے کہا: اگرچہ ایک درہم ہی ہو۔ فرمانے لگے: اگرچہ نصف درہم ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے کہا: اگر اس سے بھی کم ہو؟ فرماتے ہیں: اگرچہ ایک مٹھی گندم یا گندم کے دانے ہی کیوں نہ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14394]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں