🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2962. -- باب: الشروط في النكاح
-- باب: نکاح میں شرائط عائد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14430
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوَفَّى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
(١٤٤٣٠) عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ پورا کرنے کے قابل وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعہ تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14430]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2721»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14431
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ أَبُو الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ إِنَّمَا يُوَفَّى مِنَ الشُّرُوطِ بِمَا سُنَّ أَنَّهُ جَائِزٌ وَلَمْ تَدُلَّ سُنَّةٌ عَلَى أَنَّهُ غَيْرُ جَائِزٍ.
(١٣١٣١) عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ پورا کرنے کے قابل وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا: مسنون شرطیں پوری کرنی جائز ہیں جبکہ غیر مسنون شروط کو پورا کرنا درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14431]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلِيَّ فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى سَبْعَةِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَنَفِسَتْ فِيهَا:" ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِيَهُمْ ذَلِكَ جَمِيعًا وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ"، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ مِنْهَا ⦗٤٠٦⦘ ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" فَفَعَلَتْ وَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالَى، وَلَا سُنَّةِ نَبِيِّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَى عَنْهُ:" الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا"، وَمُفَسَّرُ حَدِيثِهِ يَدُلُّ عَلَى جُمْلَتِهِ.
(١٤٤٣٢) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس بریرہ آئی اور کہنے لگی: اے عائشہ! میں نے اپنے گھر والوں سے ساٹھ اوقیوں پر مکاتبت کی ہے اور ایک اوقیہ سال میں ادا کرنا ہے، آپ میری مدد کریں اور کتابت کی رقم باقی نہ رہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا، وہ اس میں رغبت بھی رکھتی تھی کہ اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں تو میں ساری رقم اکٹھی ادا کردیتی ہوں اور ولاء میری ہوگی تو بریرہ نے جا کر یہ بات اپنے گھر والوں پر پیش کی تو انھوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے: اگر وہ تیرے اوپر احسان کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن ولاء ہماری ہوگی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کوئی چیز نہ روکے خرید کر آزاد کرو۔ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے تو انھوں نے ایسا کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد بیان کی پھر فرمایا: لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں اور جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہو، اللہ کی قضا کو پورا کرنا زیادہ درست ہے اور اللہ کی شرط زیادہ قوی ہے اور ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں مگر وہ شرط جو حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14432]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14433
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خُرَيْمٍ الْقَزَّازُ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ عَنْ كَثِيرٍ وَرُوِيَ مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
(١٤٤٣٣) کثیر بن عبداللہ مزنی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں، مگر جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14433]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14434
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ فِيمَا وَافَقَ الْحَقَّ" لَفْظُ سُفْيَانَ بْنِ حَمْزَةَ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ ثَالِثٍ ضَعِيفٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوعًا.
(١٤٤٣٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں جو حق کے موافق ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14434]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14435
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَارَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ ⦗٤٠٧⦘ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ".
(١٤٤٣٥) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں جو حق کے موافق ہوں۔
(ب) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں جو ان میں سے حق کے موافق ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14435]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14436
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَنْبَغِي لِامْرَأَةٍ أَنْ تَشْتَرِطَ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ إِنَاءَهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى.
(١٤٤٣٦) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی بہن کی طلاق کا سوال کرے تاکہ اس کے برتن کو انڈیل دے، یعنی اس کا رزق حاصل کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14436]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5109»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14437
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّابِقِ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَشَرَطَ لَهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا فَوَضَعَ عَنْهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الشَّرْطَ، وَقَالَ:" الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا" وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
(١٤٤٣٧) سعید بن عبید بن سباق فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شادی کی اور شرط رکھی کہ وہ اس کو ساتھ نہ نکالے گا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شرط ختم کروائی اور فرمایا: عورت خاوند کے ساتھ ہی ہوتی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14437]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14438
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّفَّارِ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ:" لَهَا دَارُهَا" قَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذًا يُطَلِّقْنَنَا قَالَ:" إِنَّ مَقَاطِعَ الْحُقُوقِ عِنْدَ الشُّرُوطِ" الرِّوَايَةُ الْأُولَى أَشْبَهُ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَقَوْلِ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
(١٤٤٣٨) عبدالرحمن بن غنم فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر تھا، اس بارے میں سوال کیا گیا تو فرمانے لگے: اس کے لیے اس کا گھر ہے تو ایک شخص نے کہا: اے امیرالمومنین! تب وہ ہمیں طلاق دے دیں گے کہ حقوق کو قطع کرنا شروط کے ذریعے ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14438]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14439
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالُوا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" شَرْطُ اللهِ قَبْلَ شَرْطِهَا".
(١٤٤٣٩) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی شرطیں اس عورت کی شرط سے پہلے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14439]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں