السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2969. -- باب: من قال من أغلق بابا أو أرخى سترا فقد وجب الصداق وما روي في معناه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس نے دروازہ بند کر لیا یا پردہ گرا دیا تو مہر واجب ہو گیا“ اور اس معنی میں وارد ہونے والی دیگر روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14479
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَضَى فِي الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ أَنَّهُ إِذَا أُرْخِيَتِ السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ".
(١٤٤٧٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں فیصلہ دیا جس سے کسی مرد نے شادی کی تو جب پردے لٹکا دیے جائیں تو حق مہر واجب ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14479]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14480
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ فَأُرْخِيَتْ عَلَيْهِمَا السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ".
(١٤٤٨٠) ابن شہاب حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مرد عورت کو لے کر داخل ہوگیا پردے لٹکا لیے تو حق مہر واجب ہوگیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14480]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14481
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أُجِيفَ الْبَابُ وَأُرْخِيَتِ السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الْمَهْرُ".
(١٤٤٨١) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دروازہ بند کرلیا جائے اور پردہ لٹکا دیا جائے تو مہر واجب ہوجاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14481]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14482
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ⦗٤١٧⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ عُمَرَ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا:" إِذَا أَغْلَقَ بَابًا وَأَرْخَى سِتْرًا فَلَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ".
(١٤٤٨٢) اخنف بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب دروازہ بند کرلیا جائے اور پردہ لٹکا دیا جائے تو مہر مکمل ادا کرنا ہوگا اور عورت پر عدت بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14482]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عن عمر فقط»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14483
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ عَبَّادٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيَّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أَغْلَقَ بَابًا وَأَرْخَى سِتْرًا فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ".
(١٤٤٨٣) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے دروازہ بند کرلیا اور پردہ لٹکا لیا تو حق مہر واجب ہوگیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14483]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُمَيْرَوَيْهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عَوْفٌ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى قَالَ:" قَضَاءُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ أَنَّهُ مَنْ أَغْلَقَ بَابًا وَأَرْخَى سِتْرًا فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ وَالْعِدَّةُ" هَذَا مُرْسَلٌ، زُرَارَةُ لَمْ يُدْرِكْهُمْ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَوْصُولًا.
(١٤٤٨٤) زرارہ بن اوفی کہتے ہیں کہ خلفاء راشدین فرماتے تھے کہ جب اس نے دروازہ بند کرلیا اور پردہ لٹکا دیا تو حق مہر اور عدت واجب ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14484]
حدیث نمبر: 14485
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ" فِي رَجُلٍ يَخْلُو بِالْمَرْأَةِ فَيَقُولُ: لَمْ أَمَسَّهَا وَتَقُولُ قَدْ مَسَّنِي قَالَ: الْقَوْلُ قَوْلُهَا".
(١٤٤٨٥) سلیمان بن یسار حضرت زید بن ثابت سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے عورت سے خلوت اختیار کی، لیکن مجامعت نہ کی اور عورت نے کہا: اس نے مجامعت کی ہے۔ فرماتے ہیں: بات عورت کی مانی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14485]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 14486
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: تَزَوَّجَ الْحَارِثُ بْنُ الْحَكَمِ امْرَأَةً فَقَالَ عِنْدَهَا، فَرَآهَا خَضْرَاءَ فَطَلَّقَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا، فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ زَيْدٌ:" لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا" قَالَ: إِنَّهُ مِمَّنْ لَا يُتَّهَمُ قَالَ: أَرَأَيْتَ يَا مَرْوَانُ لَوْ كَانَتْ حُبْلَى أَكُنْتَ مُقِيمًا عَلَيْهَا الْحَدَّ؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَلَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ وَذَكَرَ فِي الْقِصَّةِ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ أَطَأْهَا وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: قَدْ وَطِئَنِي ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِهَا: فَكَذَلِكَ تُصَدَّقُ الْمَرْأَةُ مِثْلَ هَذَا ظَاهِرُ مَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمَا جَعَلَا الْخَلْوَةَ كَالْقَبْضِ فِي الْبُيُوعِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مَا ذَنْبُهُنَّ إِنْ جَاءَ الْعَجْزُ مِنْ قِبَلِكُمْ، وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُقْضَى بِالْمَهْرِ وَإِنْ لَمْ تَدَّعِ الْمَسِيسَ ⦗٤١٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَنْهُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَا يُوجِبُهُ بِنَفْسِ الْخَلْوَةِ لَكِنْ يُجْعَلُ الْقَوْلُ قولها فِي الْإِصَابَةِ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ.
(١٤٤٨٦) حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حارث بن حکم نے ایک عورت سے نکاح کیا تو حارث نے کچھ نقص دیکھ کر بغیر چھوئے طلاق دے دی تو مروان نے زید بن ثابت سے پوچھنے کے لیے کسی کو روانہ کیا تو زید نے کہا: اس کے لیے مکمل حق مہر ہے، وہ کہنے لگے: اس پر کسی قسم کی تہمت نہیں لگائی گئی تو زید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگرچہ وہ حاملہ ہو تو کیا پھر آپ اس پر حد قائم کریں گے؟ تو مروان نے کہا: نہیں، تو زید نے کہا: پھر نہیں۔
(ب) سلیمان نے ایسا قصہ زکر کیا کہ مرد نے کہہ دیا: میں نے مجامعت نہیں کی جبکہ عورت کہتی ہے کہ اس نے وطی کی ہے اس کے آخر میں ہے کہ عورت کو مہر مثل دیا جائے گا۔
(ج) حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تنہائی میں عورت کو لے جانا یہ ویسے ہے جیسے بیوع میں قبضہ کرنا ہوتا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان عورتوں کا کیا گناہ، جب وہ عاجز آجائے تو اس لیے مہر کا فیصلہ کیا جائے گا اگرچہ مجامعت کا دعویٰ نہ بھی کرے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں: خالی خلوت سے حق مہر واجب نہ ہوگا لیکن مجامعت کے بارے میں عورت کی بات معتبر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14486]
(ب) سلیمان نے ایسا قصہ زکر کیا کہ مرد نے کہہ دیا: میں نے مجامعت نہیں کی جبکہ عورت کہتی ہے کہ اس نے وطی کی ہے اس کے آخر میں ہے کہ عورت کو مہر مثل دیا جائے گا۔
(ج) حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تنہائی میں عورت کو لے جانا یہ ویسے ہے جیسے بیوع میں قبضہ کرنا ہوتا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان عورتوں کا کیا گناہ، جب وہ عاجز آجائے تو اس لیے مہر کا فیصلہ کیا جائے گا اگرچہ مجامعت کا دعویٰ نہ بھی کرے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں: خالی خلوت سے حق مہر واجب نہ ہوگا لیکن مجامعت کے بارے میں عورت کی بات معتبر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14486]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14487
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَشَفَ امْرَأَةً فَنَظَرَ إِلَى عَوْرَتِهَا فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ" قَالَ: وَبَلَغَنَا ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي الزِّنَادِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ. وَرَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا:" مَنْ كَشَفَ خِمَارَ امْرَأَةٍ وَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ" وَلَمْ يَذْكُرْ مَذْهَبَ هَؤُلَاءِ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَبَعْضُ رُوَاتِهِ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٤٤٨٧) محمد بن ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عورت کا پردہ اٹھا کر دیکھ لیا تو حق مہر واجب ہوگیا۔
(ب) محمد بن عبدالرحمن محمد بن ثوبان سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے عورت کا دوپٹہ اٹھا کر دیکھ لیا تو اس کے ذمہ حق مہر ہے دخول کیا یا نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14487]
(ب) محمد بن عبدالرحمن محمد بن ثوبان سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے عورت کا دوپٹہ اٹھا کر دیکھ لیا تو اس کے ذمہ حق مہر ہے دخول کیا یا نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14487]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14488
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ غِفَارٍ فَدَخَلَ بِهَا فَأَمَرَهَا فَنَزَعَتْ ثَوْبَهَا فَرَأَى بِهَا بَيَاضًا مِنْ بَرَصٍ عِنْدَ ثَدْيِهَا فَانْمَازَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خُذِي ثَوْبَكِ فَأَصْبَحَ وَقَالَ لَهَا:" الْحَقِي بِأَهْلِكِ" فَأَكْمَلَ لَهَا صَدَاقَهَا".
(١٤٤٨٨) سعید بن زید انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ غفار کی عورت سے شادی کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو کپڑے اتارنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پستانوں کے قریب پھلبہری کے سفید نشان دیکھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزر گئے اور فرمایا: اپنے کپڑے لے لو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی اور فرمایا: اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا مکمل حق مہر ادا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14488]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف