السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2989. -- باب: ما يستحب من إجابة من دعاه إلى طعام وإن لم يكن له سبب
-- باب: جو شخص کھانے کی دعوت دے اس کی دعوت قبول کرنے کے مستحب ہونے کا بیان اگرچہ اس دعوت کا کوئی (خاص) سبب نہ ہو۔
حدیث نمبر: Q14592
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ أُهْدِيَ إِلِيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے (بکری کا) ایک دست ہدیہ کیا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا، اور اگر مجھے (بکری کے) ایک پائے (کی دعوت) پر بلایا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: Q14592]
حدیث نمبر: 14592
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ نا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَاشَانِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلِيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ" وَلَمْ يَذْكُرْ وَكِيعٌ قَوْلَهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدَانَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے پائے کھانے کی دعوت دی جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر دستی یا بازو مجھے تحفے میں دیا جائے تو میں قبول کروں گا۔“ لیکن وکیع نے «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14592]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2568۔ 5178»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14593
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السَّرِيُّ، نا ابْنُ أَبِي ⦗٤٤٦⦘ أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتْ بِهِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْ تَحْتَ يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ أَوْ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" الطَّعَامُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ:" قُومُوا" قَالَ: فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ، قَالَتْ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ" فَأَتَتْهُ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدْمَتْهُ يَعْنِي الْإِدَامَ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ: ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ" فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ" فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ..
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمزور سی آواز سنی ہے جس سے میں نے پہچان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جی ہاں، تو انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنا خمار نکالا، اس کے ایک حصے میں روٹیاں لپیٹ کر میرے ہاتھ کے نیچے چھپا دیں اور اس کا کچھ حصہ مجھے اوڑھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیج دیا۔ راوی کہتے ہیں: جب میں وہ لے کر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں لوگوں کے ساتھ موجود تھے، میں وہاں کھڑا رہا یا میں نے سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کھانے کے لیے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھو۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چل رہا تھا یہاں تک کہ میں نے آ کر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو خبر دے دی۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ام سلیم رضی اللہ عنہا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر آگئے ہیں اور ہمارے پاس ان کو کھلانے کے لیے کھانا بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے لے آؤ۔“ تو وہ روٹیاں لے کر آگئیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو روٹیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئیں اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے سالن والی تھیلی نچوڑ دی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جو اللہ نے چاہا کیا، پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو اجازت دو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دس آدمیوں کو بلایا، انہوں نے سیر ہو کر کھایا اور چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمی اور بلاؤ۔“ انہوں نے بھی سیر ہو کر کھایا، اسی طرح تمام لوگوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا اور لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14593]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 2040»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14594
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ دَسَّتْ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا.
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ پر پڑھا تو انہوں نے اس کی مثل حدیث کو پڑھا کہ اس نے میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور کچھ مجھے ویسے دے دیا۔
(ب) سعد بن سعید، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں اضافہ ہے کہ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا اس کھانے کے پاس آئیں جب تمام لوگ کھا کر چلے گئے تو کھانا ویسے کا ویسا ہی تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14594]
(ب) سعد بن سعید، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں اضافہ ہے کہ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا اس کھانے کے پاس آئیں جب تمام لوگ کھا کر چلے گئے تو کھانا ویسے کا ویسا ہی تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14594]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14595
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ هُوَ ابْنُ أَبِي الْحُنَيْنِ نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الطُّوسِيُّ نا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا ⦗٤٤٧⦘ دَعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ لَهُ قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ بَعْدَ يَوْمَئِذٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ مَالِكٍ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جَو کی روٹی اور شوربہ لایا گیا، جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ پلیٹ کے کناروں سے کدو تلاش کر رہے تھے۔ میں بھی اس دن کے بعد کدو کو پسند کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14595]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2041»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14596
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، نا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، نا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، نا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، نا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" قُومُوا فَقَدْ صَنَعَ جَابِرٌ سُورًا" قَالَ أَبُو الْفَضْلِ وَهُوَ الدُّورِيُّ: وَإِنَّمَا يُرَادُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ سُوَرٌ عُرْسٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ بِطُولِهِ، وَسِيَاقُهُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ فِي دَعْوَةٍ إِلَى طَعَامٍ فِي غَيْرِ عُرْسٍ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ، جابر رضی اللہ عنہما نے دعوت پکائی ہے۔“
(ب) حجاج بن شاعر، ابو عاصم رحمہما اللہ سے ایک لمبی حدیث ذکر کرتے ہیں اور اس حدیث کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ یہ کھانے کی دعوت شادی کے علاوہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14596]
(ب) حجاج بن شاعر، ابو عاصم رحمہما اللہ سے ایک لمبی حدیث ذکر کرتے ہیں اور اس حدیث کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ یہ کھانے کی دعوت شادی کے علاوہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14596]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3070»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14597
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالَا: نا أَبُو عَاصِمٍ، نا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، نا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، نا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ أَصَابَ النَّاسُ خَمَصًا شَدِيدًا قَالَ: فَقُلْتُ لِأَهْلِي هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ حَتَّى نَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: مَا عِنْدَنَا إِلَّا صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: اطْحَنِيهِ، قَالَ: وَذَبَحْتُ عَنَاقًا عِنْدَنَا قَالَ: فَفَرَغْتُ إِلَى فَرَاغِي فَانْطَلَقْتُ أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدَنَا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ وَعِنْدَنَا عَنَاقٌ أَوْ شَاةٌ فَذَبَحْنَاهَا قَالَ: فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ:" قُومُوا فَقَدْ صَنَعَ جَابِرٌ سُورًا" قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَمَامَ الْقَوْمِ فَأَتَيْتُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ لَا تَفْضَحْنِي الْيَوْمَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ضَعُوا بُرْمَتَكُمْ" قَالَ: فَوَضَعُوا فِيهَا اللَّحْمَ فَبَسَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ قَالَ: انْظُرُوا خَابِزَةً تَخْبِزُ لَكُمْ قَالَ: فَجَعَلَتِ الْخَابِزَةُ تَخْبِزُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ادْخُلُوا عَشَرَةً عَشَرَةً" قَالَ: فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُمْ فَيَأْكُلُونَ حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِهِمْ وَإِنَّا لَنَقْدَحُ فِي بُرْمَتِنَا وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ وَإِنَّ قِدْرَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب خندق کے دن لوگوں کو سخت بھوک لگی تو میں نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دوں؟ تو کہنے لگی کہ ہمارے پاس صرف ایک صاع جو کا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: تو اس کو پیس لے اور میں نے بکری کا بچہ جو ہمارے پاس تھا ذبح کر ڈالا۔ کہتے ہیں: میرے فارغ ہونے تک وہ بھی فارغ ہو گئی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دے دی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس جَو کا ایک صاع اور بکری کا بچہ تھا جو ذبح کر ڈالا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں اعلان کروا دیا: ”چلو! جابر نے دعوت پکائی ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں لوگوں کے آگے آگے چلتا ہوا اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ کہنے لگی کہ آج ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رسوا نہ کرا دینا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ہنڈیا رکھو۔“ کہتے ہیں: انہوں نے اس میں گوشت رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ”روٹی پکانے والیوں سے کہو کہ وہ روٹی پکائیں۔“ انہوں نے روٹی پکانی شروع کر دی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس دس آدمی آتے جاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو (کھانا) ڈال کر دے رہے تھے۔ وہ کھاتے گئے یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی آیا اور ہماری ہنڈیا اور آٹا ویسے کا ویسا ہی تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14597]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2040»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14598
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُسْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَرَّ بِأَبِيهِ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ فَأَتَاهُ فَأَخَذَ بِلِجَامِهَا فَقَالَ: انْزِلْ عَلَيَّ قَالَ: فَنَزَلَ عَلَيْنَا فَأَتَى بِتَمْرٍ وَسَوِيقٍ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ ثُمَّ يَضَعُ النوَى عَلَى ظَهْرِ السَّبَّابَةِ أَوِ الْوُسْطَى أَوْ عَلَيْهِمَا جَمِيعًا ثُمَّ يَرْمِي بِهِ قَالَ: وَصُنِعَ لَهُ طَعَامٌ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ أَوْ سَوِيقٍ ⦗٤٤٨⦘ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَاهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ فَأَرَادَ أَنْ يَسِيرَ أَوْ يَرْتَحِلَ فَقَالَ ادْعُ لَنَا فَقَالَ:" اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے۔ انہوں نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام کو پکڑ لیا اور کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اتریں۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس پڑاؤ کیا تو کھجور اور ستو لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھا رہے تھے اور گٹھلی کو شہادت یا درمیان والی انگلی کے اوپر یا دونوں کے اوپر رکھ کر پھینک دیتے۔ راوی کہتے ہیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا۔ پھر اس کے بعد دودھ یا ستو کا پیالہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر اس کو دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلنے یا کوچ کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: ”ہمارے لیے دعا کیجیے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! ان کے رزق میں برکت دے اور ان کو معاف کر اور ان پر رحم فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14598]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2042»
الحكم على الحديث: صحيح