السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3021. -- باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول
-- باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14696
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْحَسَنُ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً سِرًّا فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْهَا فَرَآهُ جَارٌ لَهَا فَقَذَفَهُ بِهَا فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَيِّنَتُكَ عَلَى تَزْوِيجِهَا، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَانَ أَمْرٌ دُونَ فَأَشْهَدْتُ عَلَيْهِ أَهْلَهَا فَدَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ عَنْ قَاذِفِهِ، وَقَالَ:" حَصِّنُوا فَرُوجَ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَأَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَنَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے پوشیدہ طور پر ایک عورت سے شادی کر لی، وہ اپنی عورت کے پاس آتا جاتا تھا تو اس کے ہمسائے نے اس عورت کو دیکھ لیا، اس نے تہمت لگا دی اور اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی شادی پر تمہارا کون گواہ ہے؟ تو اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ایک پوشیدہ معاملہ تھا یا چھوٹا سا کام تھا، میں نے اس کے گھر والوں کو گواہ بنا لیا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تہمت لگانے والے پر حد نہ لگائی اور فرمایا: تم ان عورتوں کی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور نکاح کا اعلان کیا کرو، اور آپ نے متعہ سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14696]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14697
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتًا، أَوْ دُفًّا قَالَ: مَا هَذَا؟ فَإِنْ قَالُوا: عُرْسٌ أَوْ خِتَانٌ صَمَتَ.
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب کوئی آواز یا دف بجتا سنتے تو پوچھتے: یہ کیا ہے؟ اگر وہ کہتے کہ شادی یا ختنہ کی محفل ہے تو وہ خاموش ہو جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14697]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14698
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَصْبَغُ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَظْهِرُوا النِّكَاحَ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ" كَذَا قَالَ: وَإِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ضَعِيفٌ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نکاح کو ظاہر کرو اور اس پر دف بجایا کرو۔“
اس کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14698]
اس کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14698]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14699
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ، وَلْيُولِمْ أَحَدُكُمْ وَلَوْ بِشَاةٍ، فَإِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً وَقَدْ خَضَبَ بِالسَّوَادِ فَلْيُعْلِمْهَا وَلَا يَغُرَّنَّهَا" عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نکاح کا اعلان کیا کرو اور نکاح مسجدوں میں کیا کرو اور اس پر دف بجایا کرو اور ولیمہ کیا کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے اور اس نے (بالوں کو) سیاہ خضاب لگایا ہو تو اس عورت کو بتا دے، دھوکا نہ دے۔“
عیسیٰ بن میمون ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14699]
عیسیٰ بن میمون ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14699]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14700
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي شِمْرُ بْنُ نُمَيْرٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِبَنِي زُرَيْقٍ فَسَمِعُوا غِنَاءً وَلَعِبًا فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالُوا: نِكَاحُ فُلَانٍ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" كَمَّلَ دِينَهُ هَذَا النِّكَاحُ لَا السِّفَاحُ، وَلَا نِكَاحُ السِّرِّ حَتَّى يُسْمَعَ دُفٌّ أَوْ يُرَى دُخَانٌ" قَالَ حُسَيْنٌ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِالدُّفِّ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بنو زریق کے پاس سے گزرے تو انہوں نے گانے اور کھیل کی آواز کو سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فلاں کا نکاح ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح دین کو مکمل کرنے والا ہے نہ کہ زنا اور نکاح پوشیدہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ دف کی آواز سنی جائے یا دھواں دیکھا جائے۔“
(ب) عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ نکاح کرنا ناپسند کرتے تھے حتیٰ کہ اس پر دف بجایا جائے۔
حسین بن عبداللہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14700]
(ب) عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ نکاح کرنا ناپسند کرتے تھے حتیٰ کہ اس پر دف بجایا جائے۔
حسین بن عبداللہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14700]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع