السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3059. -- باب: الرجل ينالها بضرب في بعض ما تمنعه من الحق ثم يخالعها
-- باب: اس شخص کا بیان جو بیوی کو اس کے ذمے کسی حق کی ادائیگی نہ کرنے پر مارے، پھر اس سے خلع کر لے۔
حدیث نمبر: 14857
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ تَزَوَّجَتْ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ فَأَصْدَقَهَا حَدِيقَتَيْنِ لَهُ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا اخْتِلَافٌ فَضَرَبَهَا حَتَّى بَلَغَ أَنْ كَسَرَ يَدَهَا فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَجْرِ فَوَقَفَتْ لَهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ قَالَ:" وَمَنْ أَنْتِ؟" قَالَتْ: حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَالَ:" مَا شَأْنُكِ تَرِبَتْ يَدَاكِ؟" قَالَتْ: ضَرَبَنِي فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَذَكَرَ ثَابِتُ مَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاذَا أَعْطَيْتَهَا؟" قَالَ: قِطْعَتَيْنِ مِنْ نَخْلٍ أَوْ حَدِيقَتَيْنِ قَالَ:" فَهَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ بَعْضَ مَالِكَ وَتَتْرُكَ لَهَا بَعْضَهُ؟" قَالَ: هَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَأَخَذَ إِحْدَاهُمَا فَفَارَقَهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الشَّامِ فَتُوُفِّيَتْ هُنَالِكَ.
عمرہ رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما سے شادی کی تو انہوں نے دو باغ حق مہر میں دیے۔ ان کے درمیان اختلاف تھا جس کی بنا پر ثابت رضی اللہ عنہ نے مار کر حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ توڑ ڈالا۔ وہ فجر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو کہنے لگیں: یہ مقامِ پناہ ہے ثابت بن قیس سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ کہتی ہیں: حبیبہ بنت سہل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا معاملہ ہے؟“ کہتی ہیں: اس نے مجھے مارا ہے، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا تو ثابت رضی اللہ عنہ نے آپس کا معاملہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے اسے کیا دیا ہے؟“ تو ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: دو باغ کھجور کے یا دو باغ ہی کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ مال لے لو اور کچھ چھوڑ دو۔“ تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو اس نے ایک باغ لے لیا اور اسے جدا کر دیا۔ اس کے بعد اس سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے شادی کی اور انہیں لے کر شام چلے گئے تو وہ وہیں فوت ہو گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14857]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف