🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3071. -- باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات
-- باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q14950
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229] وَقَالَ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] ⦗545⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَالْقُرْآنُ وَاللهُ أَعْلَمُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ مَنْ طَلَّقَ زَوْجَةً لَهُ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ ”طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔“ [سورة البقرة: 229]
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس قرآن، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، خواہ اس سے دخول کر چکا ہو یا نہ کیا ہو، تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: Q14950]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14950
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، نا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ الْمَكِّيُّ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةً أَوْ أَكْثَرَ إِذَا ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: وَاللهِ لَا أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي، وَلَا أُؤْوِيكِ إِلِيَّ، قَالَتْ: وَكَيْفَ ذَاكَ، قَالَ: أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ ارْتَجَعْتُكِ ثُمَّ أُطَلِّقُكِ وَأَفْعَلُ هَكَذَا فَشَكَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلَاقَ مَنْ شَاءَ طَلَّقَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُطَلِّقْ" وَرَوَاهُ أَيْضًا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَالْحُمَيْدِيُّ عَنْ يَعْلَى بْنِ شَبِيبٍ وَكَذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ بِمَعْنَاهُ وَرُوِيَ نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مرد اپنی عورت کو جب چاہتا طلاق دے دیتا، اگرچہ سو یا اس سے زیادہ ہوتیں۔ جب عدت گزرنے سے پہلے بیوی کو واپس لاتا تو اپنی بیوی سے کہہ دیتا: نہ تو طلاق دے کر تجھے اپنے سے دور کروں گا اور نہ ہی اپنے پاس جگہ دوں گا۔ اس عورت نے کہا: وہ کیسے؟ کہتا: میں تجھے طلاق دوں گا جب تیری عدت ختم ہونے کے قریب ہوگی، پھر میں تجھ سے رجوع کر لوں گا پھر میں تجھے طلاق دوں گا اور اس طرح کرتا رہوں گا۔ اس عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، کچھ نہیں فرمایا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] تو لوگوں نے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی، جو چاہے طلاق دے دے جو چاہے طلاق نہ دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14950]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14951
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ لَهُ فَطَلَّقَهَا ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا ارْتَجَعَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا وَقَالَ: وَاللهِ لَا أُؤْوِيكِ إِلِيَّ وَلَا تَخْلِينَ أَبَدًا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مِنْ يَوْمِئِذٍ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ طَلَّقَ أَوْ لَمْ يُطَلِّقْ" هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ الصَّحِيحُ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دیتا، پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیتا تو یہ اسی کی ہوتی، اگرچہ ہزار طلاقیں بھی دے دے۔ تو ایک شخص نے اپنی بیوی کا قصد کر کے اسے طلاق دے دی، پھر مہلت دی، جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوئی تو رجوع کر کے پھر طلاق دے دی اور اس نے کہا: نہ تو اپنے پاس رکھوں گا اور نہ ہی تجھے چھوڑوں گا؛ تو اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] تو لوگوں نے اس دن سے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی، جس نے طلاق دی تھی یا نہ دی تھی۔
یہ روایت مرسل ہے اور یہی صحیح ہے، امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14951]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14952
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ ⦗٥٤٦⦘ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ" وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ إِلَى مَا تَهْجُرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَغَيْرِهِ.
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر کے ساتھ شادی کی اور اس کے ساتھ (معاملہ) کپڑے کی جھالر کی مانند ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے؟ نہیں، یہاں تک کہ تو اس کا ذائقہ چکھے اور وہ تیرا ذائقہ چکھے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے اجازت کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے آواز دی: اے ابوبکر! سن رہے ہو یہ کس بات کا اظہار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کر رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14952]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14953
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ، نا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ:" لَا حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَحْيَى، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَيْضًا بِحَدِيثِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُمَا.
سیدنا قاسم رحمہ اللہ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے تین طلاقیں دے دیں، تو اس عورت نے شادی کی، تو دوسرے خاوند نے طلاق دے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کیا یہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ تو اس کا ذائقہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14953]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً يُحَدِّثُنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهِيَ حَائِضٌ فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَجَعَلْتُ لَا أَتَّهِمُهُمْ وَلَا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا غَلَّابٍ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ وَكَانَ ذَا ثَبْتٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا"، قَالَ: فَقُلْتُ أَفَحُسِبَتْ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں 20 سال ٹھہرا رہا، مجھے وہ لوگ بیان کرتے رہے جن پر میں تہمت نہیں لگاتا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دے دیں تو انہیں رجوع کا حکم دیا گیا۔ میں ان پر تہمت بھی نہیں لگاتا تھا اور اس حدیث کو پہچانتا بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میری ملاقات ابوغلاب یونس بن جبیر سے ہوئی جو ثقہ تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دی تھی تو انہیں رجوع کا حکم دیا گیا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ کیا اس کو طلاق شمار کیا گیا؟ فرمایا: تو اور کیا، اگرچہ وہ عاجز رہا اور بیوقوفی کر بیٹھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14954]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14955
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ، نا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ، أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٥٤٧⦘ فَقَالَ:" يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قُرْءٍ" قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ لِي:" إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ أَمْسِكْ" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا كَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا؟ قَالَ:" لَا كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ وَتَكُونُ مَعْصِيَةً".
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی اور باقی دو طلاقوں کو دینے کا بھی ارادہ کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عمر! کیا اس طرح اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے؟ آپ نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور سنت طریقہ یہ ہے کہ آپ ہر طہر میں طلاق دیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رجوع کرنے کا حکم دیا، پھر مجھے فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے تو اس وقت طلاق دے دینا یا روک لینا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اس کو تین طلاقیں دے دوں، کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اس سے رجوع کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ تجھ سے جدا ہو جائے گی اور تو نے نافرمانی کی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14955]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14956
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي يَعْنِي الْبَتَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِينَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَ امْرَأَتَهُ لِطَلَاقٍ بَقِيَ لَهُ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَكَ مَا تَرْتَجِعُ بِهِ امْرَأَتَكَ".
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاقِ بتہ دے دی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو جدا کر لیا۔“ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا تھا جس وقت اپنی بیوی کو جدا کر لیا کہ وہ رجوع کرے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رجوع کا حکم طلاق کے باقی ہونے کی وجہ سے دیا تھا تو آپ کی طلاق کوئی باقی نہیں کہ آپ اپنی بیوی کو واپس لا سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14956]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ بَطَّالًا كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّمَا كُنْتُ أَلْعَبُ فَعَلَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّرَّةِ وَقَالَ:" إِنْ كَانَ لَيَكْفِيكَ ثَلَاثٌ".
زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بیکار (فضول) آدمی تھا، اس نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو اس نے کہا: میں تو کھیل رہا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے سے مارا اور فرمایا: تین طلاقیں ہی تجھ سے کفایت کر جاتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14957]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14958
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ شَقِيقٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ:" هِيَ ثَلَاثٌ لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" وَكَانَ إِذَا أُتِيَ بِهِ أَوْجَعَهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں جس نے دخول کرنے سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، فرمایا: یہ تینوں ہی واقع ہو گئیں، یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، جب ان کے پاس کسی کو لایا جاتا تو وہ سزا دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14958]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں