السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3073. -- باب: ما جاء في موضع الطلقة الثالثة من كتاب الله عز وجل
-- باب: اللہ عزوجل کی کتاب میں تیسری طلاق کے مقام کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14991
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ فِهْرٍ الْمِصْرِيُّ الْمُقِيمُ بِمَكَّةَ نا الْقَاضِي أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الذُّهْلِيُّ نا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، نا لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَسْمَعُ اللهَ يَقُولُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: ٢٢٩] فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ؟ ⦗٥٥٧⦘ قَالَ:" {فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ} [البقرة: ٢٢٩] بِإِحْسَانٍ هِيَ الثَّالِثَةُ" كَذَا قَالَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالصَّوَابُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا كَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اللہ رب العزت کا یہ فرمان سنتا ہوں ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [سورة البقرة: 229] کہ طلاق دو مرتبہ ہے۔ تیسری طلاق کہاں ہے؟ فرمایا: ” ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] یہ تیسری طلاق ہے۔“
اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا ہے، جبکہ درست یہ ہے کہ یہ اسماعیل بن سمیع سے، وہ ابو رزین سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت ہے، ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسماعیل سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14991]
اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا ہے، جبکہ درست یہ ہے کہ یہ اسماعیل بن سمیع سے، وہ ابو رزین سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت ہے، ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسماعیل سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14991]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14992
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: ٢٢٩] فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ؟ قَالَ:" {فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] " وَرُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
ابو رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [سورة البقرة: 229] طلاقیں دو ہیں، تیسری کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] اچھائی کے ساتھ روکے رکھنا ہے یا احسان سے چھوڑ دینا ہے۔“
یہ روایت قتادہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن وہ کچھ بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14992]
یہ روایت قتادہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن وہ کچھ بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14992]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف