🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3085. -- باب: من قال: مالي علي حرام لا يريد جواريه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”میرا مال مجھ پر حرام ہے“ اور اس کا ارادہ اپنی لونڈیوں کا نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15080
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا الْمَنِيعِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، نا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ"، فَنَزَلَتْ {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ} [التحريم: ٤] لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: ٣] لِقَوْلِهِ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ⦗٥٨٠⦘ كِلَاهُمَا عَنْ حَجَّاجٍ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ" وَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ وَلَا تُخْبِرِي بِذَلِكَ أَحَدًا" قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَهِ الْقِصَّةِ" وَاللهِ لَا أَشْرَبُهُ" فَأَخْبَرَ أَنَّهُ حَلَفَ عَلَيْهِ فَأَشْبَهَ أَنْ يَكُونَ وُجُوبُ الْكَفَّارَةِ تَعَلَّقَ بِالْيَمِينِ لَا بِالتَّحْرِيمِ، وَقَدْ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ يُخَالِفُهُ فِي بَعْضِ الْأَلْفَاظِ وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الْآيَةِ فِيهِ.
عبید بن عمیر رحمہ اللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پینے کے لیے رک جاتے تو میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ جس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں، وہ کہہ دے: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے کہ آپ سے اس کی بو آ رہی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی کہ اس کی بو آ رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے زینب کے پاس شہد پیا ہے، لیکن آئندہ نہ پیوں گا۔“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”کیوں آپ حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے؟“ اور ﴿إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے لیے فرمایا، اور ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾ [سورة التحريم: 3] ”اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں کو پوشیدہ بات کہی کہ میں نے تو شہد پیا تھا۔“
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ عطاء رحمہ اللہ سے اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہرگز دوبارہ نہ پیوں گا۔ میں قسم اٹھاتا ہوں، لیکن کسی کو خبر نہ دینا۔“
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما اس قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہ پیوں گا۔“ اس نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی تو کفارہ کا وجوب قسم کے متعلق ہے نہ کہ تحریم کے متعلق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15080]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15081
وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي فَوَائِدِ الْأَصَمِّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَاءَ، وَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَغِرْتُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ فَسَقَتْهُ مِنْهَا شَرْبَةً فَقُلْتُ: إِنَّا وَاللهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ، فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: إِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ؟ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةً مِنْ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكَ، وَقُولِي أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ذَاكَ، قَالَ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُنَادِيَهُ بِمَا أَمَرْتِنِي فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهَا قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ:" لَا" قَالَتْ: فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ؟ قَالَ:" سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ" فَقَالَتْ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَارَ إِلِيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى صَفِيَّةَ قَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، تَعْنِي فَلَمَّا دَارَ إِلَى حَفْصَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ؟ قَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ" قَالَ: تَقُولُ لَهَا سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ حَرَّمْنَاهُ، قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ أَبِي الْمَغْرَاءِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیز کو پسند فرماتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تو سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے پاس زیادہ دیر رکتے جتنا دوسری بیویوں کے پاس نہ رکتے تھے۔ میں نے غیرت کھائی تو اس بارے میں پوچھا، مجھے کہا گیا کہ کسی نے انہیں شہد کا تحفہ دیا ہے وہ شہد پلا دیتی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی تدبیر کریں گی، تو میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے قریب آئیں اور گھر میں داخل ہوں تو آپ سے کہہ دینا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے «مَغَافِيرَ» بوٹی کھائی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے فرمائیں گے: ”نہیں۔“ تو پھر کہہ دینا: یہ جو بو آپ سے آ رہی ہے یہ کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: ”حفصہ نے شہد پلایا ہے۔“ تو پھر کہہ دینا کہ شہد کی مکھی نے «عُرْفُطٍ» بوٹی کا رس چوسا ہوگا۔ عنقریب میں بھی یہ بات کہوں گی۔ اے صفیہ رضی اللہ عنہا! آپ نے بھی یہ بات کہنی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ہی کھڑے تھے کہ میں نے آپ کے ڈر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بات پکار کر کہنے کا ارادہ کیا، جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے قریب ہوئے تو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے «مَغَافِيرَ» کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو فرماتی ہیں: یہ بو کیسی ہے جو میں آپ سے محسوس کر رہی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حفصہ نے مجھے شہد پلایا تھا۔“ فرمانے لگی: شاید مکھی نے «عُرْفُطٍ» بوٹی کو چوسا ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی۔ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کہہ دیا۔ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ شہد نہ پیئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے اس کو حرام کر دیا ہے، میں نے اس سے کہا: خاموش رہو۔ [صحیح۔ متفق علیہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15081]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15082
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ⦗٥٨١⦘ السَّلَامِ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللهِ بِضَرْعٍ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْنُوَا فَأَخَذُوا يَطْعَمُونَهُ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَاحِيَةً فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: ادْنُ فَقَالَ: إِنِّي لَا أُرِيدُهُ فَقَالَ: لِمَ قَالَ: لِأَنِّي حَرَّمْتُ الضَّرْعَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" هَذَا مِنْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ"، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة: ٨٧] إِذَنْ فَكُلْ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ فَإِنَّ هَذَا مِنْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس (جانور کا) تھن لایا گیا تو وہ لوگوں سے کہنے لگے: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ۔ انہوں نے کھانا شروع کر دیا۔ ایک شخص کونے میں تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب ہو جاؤ۔ اس نے کہا: میں ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: کیونکہ میں نے تھن کو اپنے اوپر حرام کیا ہوا ہے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ شیطان کے نقش قدم میں سے ہے، اللہ کا فرمان ہے: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰھُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ اِنَّ اللّٰھَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ﴾ [سورة المائدة: 87] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم اللہ کی پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور تم حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ رب العزت حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔“ قریب ہو کر کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ دو، یہ شیطان کے نقش قدم میں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15082]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں