السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3100. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: {وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فأمسكوهن بمعروف أو سرحوهن بمعروف ولا تمسكوهن ضرارا}
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو، اور انہیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15154
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا} [البقرة: 231] .
باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا﴾ ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی مدت (کے قریب) پہنچ جائیں تو انہیں دستور کے مطابق روک لو یا دستور کے مطابق رخصت کر دو، اور انہیں تکلیف پہنچانے کے لیے نہ روکو۔“ [سورة البقرة: 231] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: Q15154]
حدیث نمبر: 15154
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: إِذَا شَارَفْنَ بُلُوغَ أَجَلِهِنَّ فَرَاجِعُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ دَعُوهُنَّ تَنْقَضِي عِدَّتُهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُمْ أَنْ يُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِيَعْتَدُوا فَلَا يَحِلُّ إِمْسَاكُهُنَّ ضِرَارًا.
امام شافعی رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب ان کی مدت پوری ہونے کے قریب ہو تو ان سے اچھائی کے ساتھ رجوع کرو یا چھوڑ دو، تاکہ ان کی عدت پوری ہو جائے اور تکلیف دینے کی غرض سے روکنے سے منع فرمایا ہے، کوئی بھی اس غرض سے نہ روکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15154]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15155
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا} [البقرة: ٢٣١] قَالَ:" الضِّرَارُ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ تَطْلِيقَةً ثُمَّ يُرَاجِعَهَا عِنْدَ آخِرِ يَوْمٍ يَبْقَى مِنَ الْأَقْرَاءِ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا ثُمَّ يُرَاجِعَهَا عِنْدَ آخِرِ يَوْمٍ يَبْقَى مِنَ الْأَقْرَاءِ يُضَارُّهَا بِذَلِكَ".
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا﴾ [سورة البقرة: 231] ”تکلیف دینے کی غرض سے تم ان کو مت روکو“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ ضرار یہ ہے کہ خاوند بیوی کو طلاق دے کر عدت کے ختم ہونے سے ایک دن پہلے رجوع کر کے طلاق دے دے، اسی طرح وہ کرتے رہے، یہ تکلیف دینا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15155]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15156
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ٢٠ {وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا} [البقرة: ٢٣١] قَالَ:" هُوَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَإِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا أَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَإِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا أَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا يُرِيدُ أَنْ يُطَوِّلَ عَلَيْهَا" وَرُوِّينَا عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ مَعْنَى هَذَا.
حضرت حسن رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا﴾ [سورة البقرة: 231] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور تم ان کو تکلیف دینے کی غرض سے نہ روکو“، فرماتے ہیں کہ خاوند بیوی کو طلاق دے کر عدت کے ختم ہونے سے پہلے رجوع کر کے پھر طلاق دے دیتا، جب عدت پوری ہونے کے قریب ہوتی تو رجوع پر گواہ بن کر طلاق دے دیتا تاکہ اس کی مدت زیادہ لمبی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15156]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح