السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3104. -- باب: الرجل يشهد على رجعتها ولم تعلم بذلك حتى تزوج زوجا آخر
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی سے رجوع کرنے پر گواہ بنا لے اور عورت کو اس کا علم نہ ہو یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 15186
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ فِي مَسْكَنِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَكَانَ طَرِيقُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَكَانَ يَسْلُكُ الطَّرِيقَ الْآخَرَ مِنْ أَدْبَارِ الْبُيُوتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ عَلَيْهَا حَتَّى رَاجَعَهَا" وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُمَا قَالَا:" لَا يَحِلُّ لَهُ مِنْهَا شَيْءٌ مَا لَمْ يُرَاجِعْهَا".
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی جب وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں، یہ مسجد کی جانب ان کا راستہ تھا تو وہ دوسرے راستے گھروں کے پیچھے سے چلے گئے، اس سے اجازت کو مکروہ جانتے ہوئے یہاں تک کہ اس سے رجوع کر لیا۔
(ب) عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ رجوع نہ کرے مرد کے لیے کچھ بھی اس سے جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15186]
(ب) عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ رجوع نہ کرے مرد کے لیے کچھ بھی اس سے جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15186]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح