🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3161. -- باب: عدة الوفاة
-- باب: وفات کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15460
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ الشَّافِعِيُّ: حَفِظْتُ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ قَبْلَ نُزُولِ آيِ الْمَوَارِيثِ وَأَنَّهَا مَنْسُوخَةٌ وَأَنَّ اللهَ أَثْبَتَ عَلَيْهَا عِدَّةَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا لَيْسَ لَهَا الْخِيَارُ فِي الْخُرُوجِ مِنْهَا وَلَا النِّكَاحُ قَبْلَهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک (گھر سے) نکالے بغیر سامانِ زندگی دینے کی وصیت کر جائیں، پھر اگر وہ (خود) نکل جائیں تو جو کچھ وہ اپنے بارے میں (دستور کے مطابق) کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سورة البقرة: 240] “
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے قرآن کا علم رکھنے والے کئی اہلِ علم سے یہ بات محفوظ کی ہے کہ یہ آیت میراث کی آیات کے نزول سے پہلے نازل ہوئی تھی اور یہ منسوخ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیوہ) پر چار مہینے دس دن کی عدت لازم کر دی ہے، اس میں نہ اسے عدت سے نکلنے کا اختیار ہے اور نہ اس سے پہلے نکاح کرنے کا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: Q15460]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15460
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، نا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قُلْتُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: ٢٣٤] قَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى فَلَمْ تَكْتُبْهَا أَوْ تَدَعْهَا قَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ" وَفِي رِوَايَةِ عَلِيٍّ لَمْ تَكْتُبْهَا وَقَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ بِسْطَامٍ.
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ [سورة البقرة: 240] اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے تو آپ اسے کس لیے لکھ رہے ہیں یا اسے کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں کسی چیز کو اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کر سکتا۔ اور علی (بن المدینی) کی روایت میں ہے کہ آپ اسے کیوں لکھ رہے ہیں حالانکہ اسے دوسری آیت ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] ”اور وہ تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں یعنی عدت گزاریں۔“ نے منسوخ کر دیا ہے۔
اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں امیہ بن بسطام سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15460]
تخریج الحدیث: «صحيح4530»

الحكم على الحديث: صحيح4530
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمَوَارِيثِ مَا فَرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ، وَنَسَخَ أَجَلَ الْحَوْلِ بِأَنْ جَعَلَ أَجَلَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] یہ آیت وراثت کی آیات سے منسوخ ہو چکی ہے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے «الرُّبُعُ» اور «الثُّمُنُ»، یعنی ”چوتھا حصہ“ اور ”آٹھواں حصہ“ اور سال کی عدت کو منسوخ کر دیا گیا ہے اس کے ساتھ کہ اس کی عدت چار ماہ اور دس دن مقرر کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15461]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ وَتَرَكَ امْرَأَتَهُ اعْتَدَّتِ السَّنَةَ فِي بَيْتِهِ يُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ مَالِهِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ بَعْدَ ذَلِكَ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] فَهَذِهِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا فَعِدَّتُهَا أَنْ تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، وَقَالَ فِي مِيرَاثِهَا {وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ} [النساء: ١٢] فَبَيَّنَ اللهُ مِيرَاثَ الْمَرْأَةِ وَتَرَكَ الْوَصِيَّةَ وَالنَّفَقَةَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اسی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: جب آدمی فوت ہوجاتا ہے اور اپنی بیوی کو چھوڑ جاتا ہے تو وہ ایک سال اسی کے گھر میں عدت گزارتی، وہ اس پر خرچ کرتے ہیں اسی کے مال سے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: ﴿وَالَّذِيْنُ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] نازل فرمائی: ”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں۔“
یہ عدت اس عورت کی مقرر ہوئی جس کا خاوند فوت ہوجائے، مگر حاملہ عورت کی عدت وہ ہے کہ جو اس کے پیٹ میں ہے اس کو جن دے۔
اس کی وراثت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ﴾ [سورة النساء: 12] ”اور ان کے لیے چوتھائی حصہ ہے، اگر تمہاری کوئی اولاد نہیں اور اگر تمہاری اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کی وراثت کو بیان کر دیا اور وصیت اور نفقے کو چھوڑ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15462]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15463
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ هَاهُنَا" فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَبَيَّنَ لَهُمْ مِنْهَا فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ} [البقرة: ١٨٠] فَقَالَ نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: ٢٣٤] إِلَى قَوْلِهِ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] فَقَالَ وَهَذِهِ الْآيَةُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو وہاں خطاب کیا اور سورہ بقرہ کی ان پر تلاوت کی اور ان کے لیے کھول کر بیان کیا اور جب اس آیت پر پہنچے: ﴿اِنْ تَرَکَ خَیْرَا۟ ۖ اِلْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ﴾ [سورة البقرة: 180] ”اگر وہ مال چھوڑیں تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت ہے۔“ فرمایا: یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔ پھر تلاوت کی حتیٰ کہ اس آیت پر پہنچے: ﴿وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِھِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] پھر فرمایا: یہ آیت بھی منسوخ ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15463]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15464
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، نا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَرَمَدَتْ فَخَشَوْا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْتَحِلْ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَبْنِيَتِهَا فَإِذَا كَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَلَا حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے نقل فرماتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئیں۔ انہوں نے اس کی آنکھوں کے بارے میں خوف محسوس کیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ کیا وہ سرمہ ڈال سکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سرمہ نہ لگائے۔ تم میں سے کوئی (عورت جاہلیت میں) ایک برے کمبل اور بدترین گھر میں ٹھہری رہتی اور جب سال ہو جاتا تو ایک کتا گزرتا وہ اس کی لید اس کو مارتی، تو وہ سرمہ نہ لگائے جب تک اس پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔“
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے آدم سے روایت کیا ہے اور مسلم رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے نقل فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15464]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ زَوْجَ ابْنَتِهَا تُوُفِّيَ وَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَأَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ فَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ دونوں ذکر کر رہی تھیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے ذکر کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ایک تو سال کے اختتام پر لید سے رمی کی جاتی تھی اور یہ تو صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔“
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15465]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15466
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٧٠٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَمَا رَأْسُ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا هَلَكَ زَوْجُهَا عَمَدَتْ إِلَى شَرِّ بَيْتٍ لَهَا فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى إِذَا مَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ خَرَجَتْ وَرَمَتْ بِبَعْرَةٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حمید بن نافع انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے اور اس میں کچھ اضافہ کیا ہے۔ حمید نے کہا: میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: سال کی ابتدا کیا ہے؟ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جاہلیت میں جب عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ بدترین گھر کا قصد کرتی جو اس کے لیے ہوتا، وہ اس میں بیٹھ جاتی یہاں تک کہ جب اس پر سال گزر جاتا تو وہ نکلتی اور لید کا ٹکڑا مارتی، یعنی اپنے جسم سے لگا کر پھینکتی اور اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15466]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں