🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3182. -- باب: استبراء من ملك الأمة
-- باب: جو شخص کسی لونڈی کا مالک بنے اس کے لیے استبراءِ رحم کے احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15587
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ" لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً" وَرَوَاهُ الشَّعْبِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کی قیدی عورتوں کے بارے میں فرمایا: ”حاملہ عورت سے جماع نہ کیا جائے حتیٰ کہ وہ وضع حمل کر دے اور غیر حمل والی سے بھی صحبت نہ کی جائے، حتیٰ کہ وہ ایک حیض گزار لے۔“ اور اس کو شعبی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15587]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15588
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ح وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا النُّفَيْلُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَامَ فِينَا خَطِيبًا قَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ: قَالَ" لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى ⦗٧٣٨⦘ وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يَقْسِمَ" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ سَلَمَةَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي رُوَيْفِعٍ الْأَنْصَارِيِّ فَذَكَرَهُ وَقَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَزَادَ" أَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ ثَيِّبَةً" وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ.
رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے کہا: سنو! میں تمہارے لیے صرف وہی بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یومِ حنین میں فرماتے ہوئے سنا کہ: ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں، جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ اپنا پانی کسی دوسرے کی کھیتی کو پلائے (یعنی حاملہ عورتوں سے صحبت کرے)، اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں، جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ قیدی عورتوں میں سے کسی عورت سے صحبت کرے یہاں تک کہ اس کا استبراءِ رحم کر لے، اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں، جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ غنیمت کے مال کو تقسیم کیے جانے سے پہلے فروخت کرے۔“ یہ ابن سلمہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن بکیر کی روایت میں ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے ابو رویفع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ کیا۔ انہوں نے اس کا ذکر کیا اور فرمایا: ”خیبر کے دن“، اور یہ اضافہ کیا کہ ”وہ قیدی عورتوں میں سے کسی ثیبہ کے پاس آئے۔“
اور صحیح محمد بن سلمہ کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15588]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15589
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ:" حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا بِحَيْضَةٍ" قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: وَالْحَيْضَةُ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي فِي حَدِيثِ رُوَيْفِعٍ.
ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حتی کہ وہ ایک حیض کے ساتھ استبرائے رحم کرلے۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک حیض کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رویفع رضی اللہ عنہ کی حدیث میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15589]
تخریج الحدیث: «حسن دون قول (بحيضه)»

الحكم على الحديث: حسن دون قول (بحيضه)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15590
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ أَوْ قَالَ: خِبَاءٍ فَقَالَ:" لَعَلَّ صَاحِبَ هَذِهِ يُلِمُّ بِهَا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَرِقُّهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَالْمُجِحُّ الْحَامِلُ الْمُقْرِبُ وَهَذَا لِأَنَّهُ قَدْ يَرَى أَنَّ بِهَا حَمْلًا وَلَيْسَ بِحَمْلٍ فَيَأْتِيهَا فَتَحْمِلُ مِنْهُ فَيَرَاهُ مَمْلُوكًا وَلَيْسَ بِمَمْلُوكٍ وَإِنَّمَا يُرَادُ مِنْهُ أَنَّهُ نَهَى عَنْ وَطْءِ السَّبَايَا قَبْلَ الِاسْتِبْرَاءِ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو بابِ بسطاط یا بابِ خباء پر حالتِ حمل میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید اس کا صاحب (مالک) اس کے ساتھ جماع (صحبت) کرتا ہے؟ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہو، وہ کیسے اسے اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے؟ اور وہ کیسے اس کو غلام بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں؟“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد بن بشار سے، انہوں نے ابوداؤد سے روایت کیا ہے، اور «الْمُجِحُّ» کا معنیٰ حاملہ ہونا یا بوجھ اٹھانا ہے، اور یہ اس لیے ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ حاملہ ہے اور وہ حاملہ نہیں ہوتی (یعنی اس وقت تک اس کے نطفے سے حاملہ نہیں ہوئی)، پھر وہ اس کے پاس آتا ہے (یعنی صحبت کرتا ہے) تو وہ اس سے حاملہ ہوجاتی ہے، وہ اسے غلام سمجھتا ہے حالانکہ وہ غلام نہیں ہوتا، اور اس سے مراد یہ لیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استبراءِ رحم سے پہلے قیدی عورتوں سے وطی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15590]
تخریج الحدیث: «صحيح 1441»

الحكم على الحديث: صحيح 1441
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15591
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، نا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَتِيقٍ الْعَبْسِيُّ بِدِمَشْقَ، نا مَرْوَانُ الدِّمَشْقِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَبْرَأَ صَفِيَّةَ بِحَيْضَةٍ" ⦗٧٣٩⦘ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حیض کے ساتھ صفیہ رضی اللہ عنہا سے استبراءِ رحم کروایا۔ اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15591]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15592
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ الْمَشَّاطُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا مَاتَ سَيِّدُهَا وَالْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ أَوْ وُهِبَتْ حَيْضَةٌ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: تُسْتَبْرَأُ الْأَمَةُ بِحَيْضَةٍ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ وَابْنِ سِيرِينَ وَعِكْرِمَةَ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَسْتَبْرِئُهَا وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام ولد کی عدت جب اس کا سردار فوت ہو جائے یا جب لونڈی کو آزاد کر دیا جائے یا اس کو ہبہ کر دیا جائے، اسے کسی کو تحفہ میں دیا جائے، اس کی عدت ایک حیض ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ لونڈی ایک حیض کے ساتھ استبراء رحم کرے۔
حسن، عطاء، ابن سیرین اور عکرمہ رحمہم اللہ سے ہمیں حدیث بیان کی گئی، وہ سب کہتے ہیں کہ وہ استبراء رحم کرے اگرچہ کنواری ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15592]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15593
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَابْنِ سِيرِينَ فِي الرَّجُلِ يَسْتَبْرِئُ الْأَمَةَ الَّتِي لَا تَحِيضُ قَالَ:" كَانَا لَا يَرَيَانِ أَنَّ ذَلِكَ يَتَبَيَّنُ إِلَّا بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ".
ابو قلابہ اور ابن سیرین رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایسی لونڈی سے استبراءِ رحم کرواتا جس کو حیض نہیں آتا تھا۔ وہ دونوں فرماتے ہیں کہ وہ تین ماہ کے ساتھ واضح ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15593]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15594
قَالَ: وَنا أَبُو بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ قَالَا:" وَإِنْ كَانَتْ لَا تَحِيضُ فَثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ".
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں ابوبکر رحمہ اللہ نے ابن علیہ رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی، وہ لیث رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ طاؤس رحمہ اللہ اور عطاء رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ اگر (لونڈی) کو حیض نہ آتا ہو تو تین ماہ اس کی عدت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15594]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15595
قَالَ: وَنا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ:" ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ" وَرُوِّينَا أَيْضًا، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَإِبْرَاهِيمَ.
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں ابوبکر نے معتمر سے حدیث بیان کی، وہ صدقہ بن یسار سے روایت کرتے ہیں اور وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ تین ماہ ہے اور اسی طرح ہمیں مجاہد رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی روایت نقل کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15595]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں