السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. -- باب: تخليل الأصابع
-- باب: انگلیوں کے خلال کا بیان
حدیث نمبر: 359
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ؟ فَقَالَ:" أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا". ⦗١٢٤⦘ وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ فِي صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَلَّلَ أَصَابِعَ قَدْمَيْهِ.
(الف) اسماعیل بن کثیر کہتے ہیں: میں نے عاصم بن لقیط بن صبرہ کو اپنے والد سے حدیث نقل کرتے ہوئے سنا کہ میں بنی منتفق کے لشکر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل وضو کر، انگلیوں کے درمیان خلال کر اور ناک میں خوب اچھی طرح پانی چڑھا مگر روزے کی حالت میں نہ کر۔“
(ب) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدموں کی انگلیوں کا بھی خلال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 359]
(ب) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدموں کی انگلیوں کا بھی خلال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 142»
الحكم على الحديث: صحيح
80. -- باب: كيفية التخليل
-- باب: خلال کے طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 360
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، قَالَا: سَمِعْتُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدَلِّكُ بِخِنْصَرِهِ مَا بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ".
یزید بن عمرو معافری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو عبد الرحمن حبلی رحمہ اللہ سے سنا کہ مستورد بن شداد قرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھوٹی انگلی کے ساتھ اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 360]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطحاوي في شرح المعاني 1/36»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ بِالرِّيِّ، أنا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكًا يُسْأَلُ عَنْ تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ فِي الْوُضُوءِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ. قَالَ: فَتَرَكْتُهُ حَتَّى خَفَّ النَّاسُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدَ اللهِ، سَمِعْتُكَ تُفْتِي فِي مَسْأَلَةِ تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ، زَعَمْتَ أَنْ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، وَعِنْدَنَا فِي ذَلِكَ سُنَّةٌ، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ فَقُلْتُ: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدَلِّكُ بِخِنْصَرِهِ مَا بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ". فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمَا سَمِعْتُ بِهِ قَطُّ إِلَّا السَّاعَةَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَمَرَ بِتَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ. قَالَ عَمِّي: مَا أَقَلَّ مَنْ يَتَوَضَّأُ إِلَّا وَيُحِيطُهُ الْخَطُّ الَّذِي تَحْتَ الْإِبْهَامِ فِي الرِّجْلِ، فَإِنَّ النَّاسَ يُثْنُونَ إِبْهَامَهُمْ عِنْدَ الْوُضُوءِ، وَمَنْ تَفَقَّدَ ذَلِكَ سَلِمَ".
ابن عبد الرحمٰن بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے چچا سے سنا اور انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے سنا کہ ان سے وضو میں پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ لوگوں پر (فرض) نہیں ہے۔“ وہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی بھیڑ چھٹ گئی تو میں نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ! میں نے آپ کے متعلق سنا ہے کہ آپ پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ لوگوں پر (ضروری) نہیں ہے، جبکہ ہمارے پاس اس بارے میں ایک سنت (حدیث) موجود ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: مستورد بن شداد قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ”اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اپنی چھوٹی انگلی سے خلال کرتے تھے۔“ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ اچھی حدیث ہے“، اور میں نے اس سے پہلے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔ پھر میں نے اس کے بعد سنا کہ جب ان سے پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا حکم دیا۔ میرے چچا فرماتے ہیں: بہت کم ایسے لوگ ہیں جو وضو کرتے ہوں اور ان کے پاؤں کے انگوٹھے کی نچلی جانب بال برابر جگہ خشک نہ رہ جائے، کیونکہ عام لوگ وضو کرتے ہوئے اپنے انگوٹھے موڑ لیتے ہیں، تو جس نے اس کا خلال کیا وہ اس غلطی سے بچ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ابي حاكم في مقدمة الجرح والتحديل 1/31»
الحكم على الحديث: ضعيف
81. -- باب: استحباب الإشراع في الساق
-- باب: پنڈلی تک پانی لے جانے (دھونے) کے استحباب کا بیان
حدیث نمبر: 362
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: ⦗١٢٥⦘ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ، ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ".
نعیم بن عبداللہ مجمر فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور مکمل وضو کیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو دھویا یہاں تک کہ بازو کے اوپر والے حصے تک پہنچ گئے، پھر اپنا بایاں ہاتھ بازو کے اوپر والے حصے تک دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں پنڈلی تک دھویا، پھر اپنا بایاں پاؤں پنڈلی تک دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 246»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 363
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ.
اسی سند سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مکمل وضو کرنے سے تمہارے ہاتھ اور پاؤں چمکیں گے، جو تم میں سے طاقت رکھے کہ وہ اپنی چمک اور پاؤں کی سفیدی کو لمبا کرے تو وہ ایسا کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 6410»
الحكم على الحديث: صحيح
82. -- باب: في نزع الخضاب عند الوضوء إذا كان يمنع الماء
-- باب: وضو کے وقت خضاب (یا مہندی) دور کرنے کا بیان جب وہ پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنے
حدیث نمبر: 364
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، نا هُشَيْمٌ، وَمُعَاذٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ ابْنِ أَخِي أُمِّ الْمُؤْمِنْينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْمَرْأَةِ تَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهَا الْخِضَابُ، قَالَتِ:" اسْلُتِيهِ وَأَرْغِمِيهِ" قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: قَوْلُهَا أَرْغِمِيهِ، تَقُولُ: أَهِينِيهِ وَارْمِي بِهِ عَنْكِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس عورت کے بارے میں جو وضو کرتی ہے اور اس پر خضاب ہو، فرماتی ہیں کہ وہ اس کو اتار دے اور اس کو مجبور کر دے۔
(ب) ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے ارشاد ”اس کو مجبور کر دے“ سے ان کی مراد یہ ہے کہ اسے اپنے سے دور کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 364]
(ب) ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے ارشاد ”اس کو مجبور کر دے“ سے ان کی مراد یہ ہے کہ اسے اپنے سے دور کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 364]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 365
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنْينَ، تَقُولُ:" بَلَغَنِي أَوْ ذُكِرَ لِي أَنَّ نِسَاءً يَخْتَضِبْنَ، ثُمَّ تَمْسَحُ إِحْدَاهُنَّ عَلَى خِضَابِهَا إِذَا تَوَضَّأَتْ لِلصَّلَاةِ، لَأَنْ تُقْطَعَ يَدِيَّ بِالسَّكَاكِينِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ".
ابن ابی نجیح فرماتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے یا مجھے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ عورتیں خضاب لگاتی ہیں، پھر کوئی اپنے خضاب پر مسح کرتی ہے جب وہ نماز کے لیے وضو کرتی ہے، میرا ہاتھ چھریوں کے ساتھ کاٹ دیا جائے، یہ مجھ کو اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں یہ کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 365]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدارمي 1901»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 366
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْعَالِيَةَ حَدَّثَهُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرَ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْخِضَابِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أُخْبِرُكَ كَيْفَ تَخْتَضِبُ نِسَاؤُنَا يُصَلِّيَنَّ يَعْنِي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْكَبْنَ الْخِضَابَ فَيَنَمْنَ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ نَزَعْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ ثُمَّ رَكِبْنَهُ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الظُّهْرِ نَزَعْنَهُ بِأَحْسَنِ خِضَابٍ فَلَا يُشْغَلْنَ عَنْ وُضُوءٍ، فَإِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْتَضِبْنَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ".
ابوالعالیہ یا کسی اور شخص نے حدیث بیان کی کہ اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خضاب کے بارے میں سوال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں آپ کو بتلاؤں گا کہ ہماری عورتیں کس طرح خضاب لگاتی تھیں، وہ عشاء کی نماز پڑھتی تھیں، پھر خضاب لگاتیں، پھر وہ سو جاتیں۔ جب صبح کی نماز ہوتی اس کو اتار دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھتیں، پھر اس کو لگا لیتیں، جب ظہر کی نماز کا وقت ہوتا تو اس کو اچھے خضاب کے ساتھ اتار دیتیں۔ یہ چیز ان کو وضو سے مشغول نہیں کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات بھی عشاء کی نماز کے بعد خضاب لگاتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق 3930»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، أنا ⦗١٢٦⦘ رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْخِضَابِ، فَقَالَ:" أَمَّا نِسَاؤُنَا فَيَخْتَضِبْنَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ يُنَظِّفَنَّ أَيْدِيَهُنَّ، فَيَتَطَهَّرْنَ، ثُمَّ يَعُدْنَ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ بِأَحْسَنِ خِضَابٍ، وَلَا يَمْنَعُهُنَّ ذَلِكَ مِنَ الصَّلَاةِ".
لاحق بن حمید فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے خضاب کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”ہماری عورتیں عشاء کی نماز سے صبح کی نماز تک خضاب لگاتی تھیں، پھر اپنے ہاتھوں کو صاف کرتیں، پھر وضو کرتیں اور صبح کی نماز سے ظہر کی نماز تک دوبارہ اپنے خضاب کے ساتھ لوٹ آتیں اور یہ چیز ان کو نماز سے نہیں روکتی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 367]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
83. -- باب: ما يقول بعد الفراغ من الوضوء
-- باب: وضو سے فارغ ہونے کے بعد کیا پڑھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 368
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْحِمْصِيُّ، قَاضِي أَنْدَلُسَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِيِّ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: وَحَدَّثَهُ أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِيِّ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ، فَحَانَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَ لَهُ الْجَنَّةُ". قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدِيَّ يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا قَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةَ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے ذمہ اونٹ چرانا تھا، ایک بار میری باری آگئی، میں نے اس کو کھانے کے لیے چھوڑ دیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے باتیں کر رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سیکھی کہ ”جو مسلمان اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کرتا ہے اور اپنے چہرے اور دل کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے تو جنت اس کے لیے واجب ہوجاتی ہے۔“ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: یہ کیا خوب ہے۔
میرے سامنے بھی ایک شخص کہہ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے اس سے زیادہ عمدہ بات کہی تھی۔
میں نے دیکھا، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: میں نے تم کو ابھی آتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے پھر کہتا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“
تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 368]
میرے سامنے بھی ایک شخص کہہ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے اس سے زیادہ عمدہ بات کہی تھی۔
میں نے دیکھا، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: میں نے تم کو ابھی آتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے پھر کہتا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“
تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 234»
الحكم على الحديث: صحيح