السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
173. -- باب: صفة ماء الرجل وماء المرأة اللذين يوجبان الغسل
-- باب: غسل واجب کرنے والے مرد اور عورت کے پانی (منی) کی صفات کا بیان
حدیث نمبر: 798
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ، نا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدَ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: لِمَ دَفَعْتَنِي؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الْيَهُودِيُّ إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا اسْمِي الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي مُحَمَّدٌ"، قَالَ الْيَهُودِيُّ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ حَدَّثْتُكَ"، قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنِي، فَنَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" سَلْ" فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ ⦗٢٦٢⦘ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ"، قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً؟ قَالَ:" فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ" قَالَ الْيَهُودِيُّ: فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ:" زِيَادَةُ كَبِدِ النُّونِ" قَالَ: فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا؟ قَالَ:" يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا"، قَالَ: فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا" فَقَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ، عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ، قَالَ:" أَيَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ" قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنِي، قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ، فَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى، وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللهِ" فَقَالَ: صَدَقْتَ، وَإِنَّكَ لِنَبِيٌّ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْهُ وَمَا لِي بِشَيْءٍ مِنْهُ عَلِمٌ حَتَّى آتَانِي اللهُ بِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا تھا، ایک یہودی عالم آیا اور کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ» ”السلام علیکم یا محمد!“ راوی کہتا ہے کہ میں نے اس کو زور سے ہٹایا، قریب تھا کہ وہ گر جاتا۔ یہودی نے کہا: تو نے مجھے کیوں ہٹایا ہے؟ میں نے کہا: تو یا رسول اللہ کیوں نہیں کہتا؟ یہودی نے کہا: ہم اس کو اسی نام سے پکاریں گے جو نام ان کے گھر والوں نے رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر والوں نے جو میرا نام رکھا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“ یہودی نے کہا: میں آپ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تجھ کو کوئی بات بتاؤں تو تجھ کو فائدہ دے گی؟“ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے سنوں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے ساتھ کریدا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر فرمایا: ”سوال کر۔“ یہودی نے کہا: لوگ (اس وقت) کہاں ہوں گے ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ [سورة إبراهيم: 48] جب زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط کے علاوہ اندھیرے میں ہوں گے۔“ اس نے کہا: کن لوگوں کو سب سے پہلے (جنت جانے کی) اجازت دی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقیر مہاجرین کو۔“ یہودی نے کہا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا تحفہ کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مچھلی کے جگر سے مہمان نوازی۔“ اس نے کہا: اس کے بعد ان کی غذا کیا ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے لیے جنت کا بیل ذبح کیا جائے گا جو اس جنت کے مختلف حصوں میں کھاتا پیتا ہے۔“ اس نے کہا: ان کا پینا کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چشمہ جس کا نام «سَلْسَبِيل» ”سلسبیل“ ہوگا۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ پھر اس نے کہا: اور میں آپ سے ایسی چیز کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں جس کو اہل زمین میں سے کوئی نہیں جانتا، مگر نبی یا ایک یا دو آدمی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آپ کو کوئی بات بتاؤں کیا آپ کو وہ فائدہ دے گی؟“ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے سنوں گا اور کہا: میں آپ سے بچے کے متعلق سوال کرنے کے لیے آیا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، جب آدمی کی منی عورت کی منی پر غالب آجاتی ہے تو دونوں اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا کرتے ہیں اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آجاتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکی پیدا ہوتی ہے۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا، بیشک آپ سچے نبی ہیں، پھر وہ واپس چلا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ جن چیزوں کے متعلق اس نے مجھ سے سوال کیا میرے پاس اس کا کوئی علم نہیں تھا، پھر اللہ نے مجھے ان کا علم دے دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 798]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 3315»
الحكم على الحديث: صحيح
174. -- باب: المذي والودي لا يوجبان الغسل
-- باب: مذی اور ودی سے غسل واجب نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 799
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا نَضَحْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی، میں غسل کرتا تھا یہاں تک کہ میری کمر میں زخم ہو گیا۔ راوی کہتا ہے: میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایسے نہ کر جب تو مذی کو دیکھے تو اپنی شرم گاہ کو دھو اور نماز جیسا وضو کر اور جب تو زور سے پانی بہائے (یعنی منی خارج ہو) تو غسل کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 799]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 800
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ، أنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ زُرْعَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" الْمَنِيُّ وَالْوَدْيُ وَالْمَذْيُ، أَمَّا الْمَنِيُّ: فَهُوَ الَّذِي مِنْهُ الْغُسْلُ، وَأَمَّا الْوَدْيُ وَالْمَذْيُ فَقَالَ: اغْسِلْ ذَكَرَكَ أَوْ مَذَاكِيرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ". وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْمَذْيِ نَحْوَهُ.
زرعہ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو منی، مذی اور ودی کے متعلق کہتے ہوئے سنا: منی سے غسل ہے اور ودی اور مذی کے متعلق فرمایا کہ اپنی شرمگاہ کو دھو اور نماز جیسا وضو کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 800]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن أبي شيبة 984»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
175. -- باب: الرجل يجد في ثوبه منيا ولا يذكر احتلاما
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنے کپڑے پر منی پائے لیکن اسے احتلام یاد نہ ہو
حدیث نمبر: 801
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى الْجُرْفِ فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ قَدِ احْتَلَمَ وَصَلَّى وَلَمْ" يَغْتَسِلْ، فَقَالَ:" وَاللهِ مَا أُرَانِي إِلَّا قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ، وَصَلَّيْتُ، وَمَا اغْتَسَلْتُ، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ، وَنَضَحَ مَا لَمْ يَرَ، وَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى مُتَمَكِّنًا". لَفْظُ ابْنِ بُكَيْرٍ.
زبید بن صلت سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جرف کی طرف نکلا، انہوں نے دیکھا کہ ان کو احتلام ہوا تھا، انہوں نے نماز پڑھی لیکن غسل نہیں کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے احتلام کا علم نہیں ہوا اور میں نے نماز پڑھ لی جب کہ میں نے غسل نہیں کیا تھا، پھر انہوں نے غسل کیا اور اس جگہ کو دھویا جو انہوں نے اپنے کپڑوں میں دیکھی تھی اور (اس جگہ) چھینٹے مارے جو انہوں نے نہیں دیکھا اور اذان دی اور اقامت کہی، سورج بلند ہونے کے بعد اسی جگہ نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك111»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 802
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ غَدَا إِلَى أَرْضِهِ بِالْجُرْفِ، فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا، فَقَالَ:" إِنَّا لَمَّا أَصَبْنَا الْوَدَكَ لَانَتِ الْعُرُوقُ"، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ مِنَ الِاحْتِلَامِ، وَأَعَادَ الصَّلَاةَ".
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی، پھر اپنی زمین جرف کی طرف گئے تو اپنے کپڑوں میں احتلام پایا، پھر کہا: جب ہم نے چکنائی والا کھانا کھانا شروع کیا تو رگیں نرم ہو گئیں۔
پھر انہوں نے غسل کیا اور احتلام کو اپنے کپڑوں سے دھویا اور نماز دوبارہ لوٹائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 802]
پھر انہوں نے غسل کیا اور احتلام کو اپنے کپڑوں سے دھویا اور نماز دوبارہ لوٹائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه مالك 113»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
176. -- باب: الحائض تغتسل إذا طهرت
-- باب: حائضہ کے پاک ہونے پر غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، وَكَانَتِ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ. مُخَرَّجٌ فِي كِتَابِ الْبُخَارِيِّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَفِي كِتَابِ مُسْلِمٍ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْهُمَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سات سال استحاضہ والی رہیں اور وہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، غسل کر اور نماز پڑھ۔“ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 804
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ، وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، وَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ⦗٢٦٤⦘ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي" قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُوَ الْمَاءَ. قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَذْكُرْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ الْأَوْزَاعِيِّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سات سال مستحاضہ رہیں اور یہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ ایک رگ ہے، جب خون آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب رک جائے تو غسل کر، پھر نماز ادا کر۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ایک ٹب میں بیٹھتی تھیں جو ان کی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا تھا اور خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ «فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ» ”پس جب حیض آئے“ امام زہری کے شاگرد اوزاعی کے علاوہ کوئی بیان نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 804]
(ب) شیخ فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ «فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ» ”پس جب حیض آئے“ امام زہری کے شاگرد اوزاعی کے علاوہ کوئی بیان نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
177. -- باب: الكافر يسلم فيغتسل
-- باب: کافر کے اسلام لانے پر غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أنا عُبَيْدُ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ ابْنَا عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِيَّ أُسِرَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَيْهِ فَيَقُولُ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ" فَيَقُولُ: إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ نُعْطِكَ مِنْهُ مَا شِئْتَ وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ، وَيَقُولُونَ: مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا فَمَرَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَسْلَمَ فَحَلَّهُ، وَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ أَخِيكُمْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ثمامہ حنفی قید کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس جاتے تو فرماتے: ”اے ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟“ وہ کہتا: اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے (یعنی جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا) کو قتل کریں گے اور آپ احسان کریں گے تو شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو جو چاہیں گے وہی ہم دیں گے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فدیہ کو پسند کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم اس کو قتل کر کے کیا کریں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اس کے پاس سے گزرے تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھول دیا اور ابوطلحہ کے باغ کی طرف بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ غسل کرے، اس نے غسل کیا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی کا اسلام بہترین ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة 253»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أَثَالٍ سَيِّدُ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ" فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ الْغُسْلُ قَبْلَ ⦗٢٦٥⦘ الشَّهَادَةِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَسْلَمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اغْتَسَلَ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاظْهَرَ الشَّهَادَةَ جَمْعًا بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ.
سعید بن ابوسعید مقبری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا تو وہ بنو حنیفہ قبیلے سے ایک شخص کو لے آئے جو ثمامہ بن اثال یمامہ کا سردار تھا، صحابہ نے انہیں مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو چھوڑ دو۔“ تو وہ مسجد کے قریب کھجور کے درخت کی طرف گیا، اس نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔“ اور باقی حدیث ذکر کی۔
(ب) صحیح بخاری میں ہے کہ غسل شہادت سے پہلے ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام قبول کیا، پھر غسل کیا اور مسجد میں داخل ہوا اور شہادت کا اقرار کیا، یہ بات دونوں روایات میں تطبیق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 806]
(ب) صحیح بخاری میں ہے کہ غسل شہادت سے پہلے ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام قبول کیا، پھر غسل کیا اور مسجد میں داخل ہوا اور شہادت کا اقرار کیا، یہ بات دونوں روایات میں تطبیق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 450»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 807
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ" أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ". هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَرَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ.
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل کرنے“ کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي 605»
الحكم على الحديث: صحيح