السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
318. -- باب: المعتادة لا تميز بين الدمين
-- باب: اس عادت والی عورت کا بیان جو دو قسم کے خون (حیض اور استحاضہ) کے درمیان تمیز نہ کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1573
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا أَمَرَتْ أَسْمَاءَ أَوْ أَسْمَاءُ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا أَمَرَتْهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ أَنْ تَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْعُدَ الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَتْ تَقْعُدُ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ هَكَذَا رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ سُهَيْلٍ وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَاءَ فِي شَأْنِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ فَذَكَرَ قِصَّةً فِي كَيْفِيَّةِ غُسْلِهَا إِذَا رَأَتِ الصَّفَارَةَ فَوْقَ الْمَاءِ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ فَذَكَرَ اسْتِحَاضَتَهَا وَأَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا بِالْإِمْسَاكِ عَنِ الصَّلَاةِ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْأَسْوَدَ وَفِيهِ وَفِي رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُمَيِّزُ بَيْنَ الدَّمَيْنِ وَرِوَايَةُ سُهَيْلٍ فِيهَا نَظَرٌ وَفِي إِسْنَادِ حَدِيثِهِ، ثُمَّ فِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ عَنْهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْهَا كَمَا يَنْبَغِي.
(الف) سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہما کو حکم دیا، یا اسماء رضی اللہ عنہما نے ہی مجھے بتایا کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہما نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”ان دنوں بیٹھی رہے جن دنوں بیٹھا کرتی تھی (یعنی اپنے حیض کے ایام میں) پھر غسل کرے۔“
(ب) زہری رحمہ اللہ عن عروہ رحمہ اللہ عن اسماء رضی اللہ عنہما سے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے، انہوں نے ان کے غسل کی کیفیت کا واقعہ بیان کیا، اس میں ہے کہ جب وہ پانی پر زردی دیکھے۔
(ج) عروہ رحمہ اللہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے متعلق منقول ہے، انہوں نے ان کے استحاضہ کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سے رکنے کا حکم دیا جب وہ سیاہ خون دیکھے۔
(د) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ عن ابیہ رحمہ اللہ عن عائشہ رضی اللہ عنہما والی روایت اس بات پر دال ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہما دو خونوں کے درمیان تمیز کرنے والی تھیں، سہیل کی روایت محل نظر ہے اور اس کی حدیث کی سند بھی، پھر اس سے دوسری روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے اسے اس طرح یاد نہیں رکھا جیسے رکھنا چاہیے تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1573]
(ب) زہری رحمہ اللہ عن عروہ رحمہ اللہ عن اسماء رضی اللہ عنہما سے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے، انہوں نے ان کے غسل کی کیفیت کا واقعہ بیان کیا، اس میں ہے کہ جب وہ پانی پر زردی دیکھے۔
(ج) عروہ رحمہ اللہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے متعلق منقول ہے، انہوں نے ان کے استحاضہ کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سے رکنے کا حکم دیا جب وہ سیاہ خون دیکھے۔
(د) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ عن ابیہ رحمہ اللہ عن عائشہ رضی اللہ عنہما والی روایت اس بات پر دال ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہما دو خونوں کے درمیان تمیز کرنے والی تھیں، سہیل کی روایت محل نظر ہے اور اس کی حدیث کی سند بھی، پھر اس سے دوسری روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے اسے اس طرح یاد نہیں رکھا جیسے رکھنا چاہیے تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 281»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1574
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ ⦗٤٩٢⦘ إِلَيْهِ الدَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قُرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي فَإِذَا مَرَّ الْقُرْءُ فَتَطَهَّرِي، ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ"" وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْهُ وَهُوَ سَمَاعُ عُرْوَةَ مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ فَقَدْ بَيَّنَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ إِنَّمَا سَمِعَ قِصَّةَ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ مِنْ عَائِشَةَ وَرِوَايَتُهُ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ قَتَادَةُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامِ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا قَالَ الشَّيْخُ: وَرِوَايَةُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ أُمِّ حَبِيبَةَ أَصَحُّ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَمَّا رِوَايَةُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ فَاطِمَةَ فَإِنَّهَا ضَعِيفَةٌ وَسَيَرِدُ بَيَانُ ضَعْفِهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى وَكَذَلِكَ حَدِيثُ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ فَاطِمَةَ ضَعِيفٌ.
(الف) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور خون کی شکایت کی۔ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے تو انتظار کر، جب تیرا حیض آئے تو نماز نہ پڑھ، جب حیض گزر جائے تو پاک ہو جا، پھر طہر سے طہر تک نماز ادا کر۔“
(ب) اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ اس (منذر) نے اسے یاد نہیں رکھا، اور وہ عروہ کا سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے سماع کا ذکر ہے، کیونکہ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ ان کے والد نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کا قصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، اور ہشام کی روایت متن اور سند کے اعتبار سے منذر بن مغیرہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
(ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا استحاضہ والی تھیں، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قتادہ کا عروہ سے سماع ثابت نہیں۔
(د) شیخ کہتے ہیں: عراک بن مالک کی روایت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق جو عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے ہے، اس روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ حبیب بن ابی ثابت کی روایت جو عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کے متعلق ہے وہ ضعیف ہے، اس کا ضعف جلد آگے آ رہا ہے۔ اس طرح عثمان بن سعد بن کاتب کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، وہ بھی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1574]
(ب) اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ اس (منذر) نے اسے یاد نہیں رکھا، اور وہ عروہ کا سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے سماع کا ذکر ہے، کیونکہ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ ان کے والد نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کا قصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، اور ہشام کی روایت متن اور سند کے اعتبار سے منذر بن مغیرہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
(ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا استحاضہ والی تھیں، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قتادہ کا عروہ سے سماع ثابت نہیں۔
(د) شیخ کہتے ہیں: عراک بن مالک کی روایت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق جو عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے ہے، اس روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ حبیب بن ابی ثابت کی روایت جو عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کے متعلق ہے وہ ضعیف ہے، اس کا ضعف جلد آگے آ رہا ہے۔ اس طرح عثمان بن سعد بن کاتب کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، وہ بھی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1574]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 3482»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1575
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِّ أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ بُهَيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ يَعْنِي عَنْ سَبَبِ حَيْضَتِهَا لَا تَدْرِي كَيْفَ تُصَلِّي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضَتُهَا وَأُهْرِيقَتْ دَمًا لَا تَدْرِي كَيْفَ تُصَلِّي؟ قَالَتْ:" فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ فَلْتَعْتَدَّ" وَفِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ فَلْتَقْعُدْ وَتُقَدِّرْ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي، ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ بِقَدْرِهِنَّ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ وَلْتَحْسُنْ طُهْرَهَا، ثُمَّ تَسْتَدْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّي فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَأَنْ يُذْهِبَهُ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى قَالَتْ: فَأَمَرْتُهَا فَفَعَلَتْ، فَأَذْهَبَهَا اللهُ عَنْهَا فَمُرِي صَاحِبَتَكِ بِذَلِكَ. ⦗٤٩٣⦘ لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيٍّ.
سیدہ بھیتہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت سے سنا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حیض کے متعلق سوال کر رہی تھی، وہ نہیں جانتی تھی کہ کس طرح نماز پڑھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کے متعلق سوال کیا جس کا حیض خراب ہو گیا اور وہ خون بہائے جا رہی ہے اور وہ نہیں جانتی تھی کیسے نماز پڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو کہوں کہ ”وہ انتظار کرے اتنا جتنا وہ ہر ماہ میں حیض گزارتی تھی اور اس کا صحیح حیض یہی ہے، پھر وہ یہی عادت بنا لے۔“
اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ ”وہ بیٹھے اور اپنے دنوں اور راتوں کا اندازہ لگا لے اور نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور اچھی طرح طہارت حاصل کر لے، پھر کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے، پھر نماز پڑھے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور ان شاء اللہ! اللہ تجھ سے لے جائے گا۔“ فرماتی ہیں: میں نے اس کو حکم دیا، اس نے ایسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بیماری دور کر دی۔ لہٰذا تو بھی اپنی سہیلیوں کو اس کا حکم دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1575]
اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ ”وہ بیٹھے اور اپنے دنوں اور راتوں کا اندازہ لگا لے اور نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور اچھی طرح طہارت حاصل کر لے، پھر کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے، پھر نماز پڑھے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور ان شاء اللہ! اللہ تجھ سے لے جائے گا۔“ فرماتی ہیں: میں نے اس کو حکم دیا، اس نے ایسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بیماری دور کر دی۔ لہٰذا تو بھی اپنی سہیلیوں کو اس کا حکم دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه أبو داؤد 284»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1576
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّ" لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ أَوْدَعَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ الْمُوَطَّأَ وَأَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ إِلَّا أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
(الف) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خون بہاتی جاتی تھی، اس کے لیے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنوں اور راتوں کی گنتی کو دیکھے جو مہینے پہلے میں اسے حیض آتا تھا اور مہینے کی اتنی مقدار وہ نماز چھوڑ دے، جب (وہ مقدار) گزر جائے تو غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھے، پھر نماز پڑھے۔“ (ب) یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ یہی حدیث امام مالک بن انس نے مؤطا میں اور امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں ذکر کی ہے۔
لیکن سلیمان بن یسار نے یہ حدیث سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1576]
لیکن سلیمان بن یسار نے یہ حدیث سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أبو داؤد 275»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1577
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا ابْنُ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا، أَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ بِهَا الَّذِي كَانَ بِهَا وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ فَتُتْرَكِ الصَّلَاةَ لِذَلِكَ فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْتَغْتَسِلْ وَتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّي" تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ وَصَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ وَجُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ نَافِعٍ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خون بہاتی جاتی تھی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنوں اور راتوں کی گنتی کو دیکھے جو مہینے میں اس کو پہلے حیض آتا تھا، اس کی وجہ سے نماز چھوڑ دے اور جب وہ چلا جائے تو نماز کے وقت غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھے اور نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1578
أَمَّا حَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ثنا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ وَقَالَ:" فَإِذَا خَلَّفَتْهُنَّ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْتَغْتَسِلْ" وَسَاقُ مَعْنَاهُ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت مسلسل خون بہاتی تھی، انہوں نے لیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور فرماتے ہیں: ”جب وہ مقدار گزر جائے اور نماز کا وقت ہو تو وہ غسل کرے“، باقی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1579
وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ: سَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ بِهَا الَّذِي كَانَ بِهَا وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبِهَا، ثُمَّ تُصَلِّي".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلسل خون بہاتی تھی، اسے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنوں اور راتوں کی گنتی کو دیکھے جو مہینے میں پہلے اس کو حیض آتا تھا اتنے دن نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1580
وَأَمَّا حَدِيثُ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ فَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ ابْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ ثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ:" فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّي".
نافع رحمہ اللہ، لیث رحمہ اللہ کی سند کے ساتھ ہم معنی نقل فرماتے ہیں کہ اتنی مدت نماز چھوڑ دے، پھر جب نماز کا وقت ہو تو غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1580]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1581
وَأَمَّا حَدِيثُ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ بِهَا الَّذِي كَانَ وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الْأَشْهُرِ فَتُتْرَكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَدْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّي" وَرُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَرْجَانَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خون بہاتی تھی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دنوں اور راتوں کی گنتی کو دیکھے جو مہینے میں اس کو پہلے حیض آتا تھا اس کی وجہ سے نماز چھوڑ دے اور جب وہ چلا جائے اور نماز کا وقت ہو تو غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1582
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَبَّانَ الْأَصْفَهَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ثنا خَالِدُ بْنُ نِزَارِ الْأَيْلِيُّ، ⦗٤٩٥⦘ وَكَانَ ثِقَةً ثنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ طَهْمَانَ، وَهُوَ ثَبْتٌ فِي الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ وَكَانَ مَالِكٌ يُمْلِي عَلَيْهِ، ثنا نَافِعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَرْجَانَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ لَهَا الَّذِي كَانَ وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَدْفِرْ بِثَوْبِهَا وَتُصَلِّي" وَرَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ إِلَّا أَنَّهُ سَمَّى الْمُسْتَحَاضَةَ فِي الْحَدِيثِ فَقَالَ: فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خون بہاتی جاتی تھی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دنوں اور راتوں کی گنتی کو دیکھے جو مہینے میں اس کو پہلے حیض آتا تھا، اس کی وجہ سے نماز چھوڑ دے اور جب وہ (وقت) چلا جائے تو وہ غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح