🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
325. -- باب: المستحاضة تغسل عنها أثر الدم وتغتسل وتستثفر بثوب وتصلي ثم تتوضأ لكل صلاة
-- باب: مستحاضہ خون کا اثر دھو لے گی، غسل کرے گی، کپڑے کا لنگوٹ کس کر باندھے گی اور نماز پڑھے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1633
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ثنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي".
عدی بن ثابت اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی، روزے رکھے گی اور نماز پڑھے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه أبو داؤد 297»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1634
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو ثنا إِبْرَاهِيَمُ ثنا يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَحْيَى: وَجَدُّهُ اسْمُهُ دِينَارٌ قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: فَرَدَدْتُهُ أَنَا عَلَى يَحْيَى فَقَالَ: هُوَ هَكَذَا اسْمُهُ دِينَارٌ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ هَذَا ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ وَرَوَاهُ أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ.
عدی بن ثابت کے والد (ثابت) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ (ب) عدی بن ثابت اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ان کے دادا کا نام دینار ہے۔ (ج) ابو فضل کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ پر رد کیا تو انہوں نے کہا: اس کا نام دینار ہے۔ (د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عدی بن ثابت کی یہ حدیث ضعیف ہے، صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1635
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ أَبُو يَعْلَى: قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَخْبَرَكَ أَبُو يُوسُفَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَةَ أَنْ تَتَوَضَّأَ لِكُلِّ صَلَاةٍ" تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ وَأَبُو يُوسُفَ ثِقَةٌ إِذَا كَانَ يَرْوِي عَنْ ثِقَةٍ وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتُهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَمَا إِنَّا رُوِّينَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَةَ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ رَوَيْتُمْ ذَلِكَ وَبِهِ نَقُولُ قِيَاسًا عَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِمَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرٍ أَوْ ذَكَرٍ أَوْ فَرْجٍ قَالَ: وَلَوْ كَانَ هَذَا مَحْفُوظًا عِنْدَنَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنَ الْقِيَاسِ.
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے استحاضہ والی کو حکم دیا کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“
(ب) ابو یوسف عبداللہ بن علی ابو ایوب افریقی سے نقل کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) ابو یوسف ثقہ ہے جب ثقہ سے نقل کرے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کہا گیا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کو ”ہر نماز کے لیے وضو“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: ہاں، تم نے یہ روایت کیا ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر قیاس کرتے ہوئے جو وضو کے متعلق ہے کہ دبر، ذکر یا فرج سے کوئی چیز خارج ہو تو وضو ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر یہ روایت ہمارے نزدیک محفوظ ہوتی تو ہمیں قیاس سے زیادہ پسند ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الطبراني في الاوسط 1597»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1636
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَقَالَ:" إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ" ⦗٥١٣⦘ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَرَهُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ لَا دُخُولَ وَقْتٍ أَوْ خُرُوجَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے، کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب لایا گیا، صحابہ نے آپ کو پانی پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے وضو کا حکم تب دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں۔“ ابوبکر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے انہیں وضو کا حکم دیا جب نماز کے لیے کھڑے ہوں نہ کہ (نماز کا) وقت داخل ہونے یا نکلنے پر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أبو داؤد 3760»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
326. -- باب: غسل المستحاضة
-- باب: مستحاضہ کے غسل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1637
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّهَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي" لَفْظَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ وَفِي حَدِيثِ حَرْمَلَةَ أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثْنَا بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ: رَحِمَ اللهُ هِنْدًا لَوْ كَانَتْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا وَاللهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي لِأَنَّهَا كَانَتْ لَا تُصَلِّي وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ بِطُولِهِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ دُونَ قِصَّةِ هِنْدَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْهُمَا جَمِيعًا ⦗٥١٤⦘.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، وہ سات سال تک استحاضہ والی رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ ہے لہٰذا غسل کر۔“
اور حرملہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ ہے لہٰذا غسل کر اور نماز پڑھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ٹب میں ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ہم نے یہ بات ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ ہند پر رحم فرمائے، کاش وہ یہ فتویٰ سن لیتیں، اللہ کی قسم! وہ روتی تھیں کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1638
وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيَمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَرُبَّمَا، قَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ عَنْهُمَا جَمِيعًا.
ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ نے اس کو زہری سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔
یہ حدیث ان دونوں (عروہ اور عمرہ) سے صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1639
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتِ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي" فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ اللَّيْثُ: فَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ أَنْ تَغْتَسِلَ يَعْنِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ وَذَكَرَ كَلَامَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَبِمَعْنَاهُ قَالَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَيْضًا وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَا أَشُكُّ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى أَنَّ غُسْلَهَا كَانَ تَطَوُّعًا غَيْرَ مَا أُمِرْتَ بِهِ وَذَلِكَ وَاسِعٌ لَهَا، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَكِنْ رَوَاهُ، عَنْ عَمْرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَالسِّيَاقِ وَالزُّهْرِيُّ أَحْفَظُ مِنْهُ وَقَدْ رَوَى فِيهِ شَيْئًا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحَدِيثَ غَلَطٌ قَالَ: تَتْرُكُ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَعَائِشَةُ تَقُولُ الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهَ أَعْلَمُ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں استحاضہ والی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے پس غسل کر اور نماز پڑھ۔“ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ لیث کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، بلکہ یہ ایک کام تھا جو وہ خود کرتی تھیں۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اس میں یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا۔ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ مجھے شک نہیں ہے کہ انہیں غسل کا حکم استحبابی تھا، ان پر فرض نہیں کہا گیا تھا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہری کے علاوہ دوسرے ائمہ نے یہ حدیث بیان کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا۔ لیکن ائمہ نے عمرہ سے اسے سند اور سیاق سے روایت کیا ہے، امام زہری کی روایت اس سے زیادہ محفوظ ہے، اس میں ایک ایسی چیز بیان ہوئی ہے جو حدیث کے غلط ہونے پر دلالت ہے کہ وہ اپنے حیض کی مقدار نماز چھوڑے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ «الأَقْرَاءُ» سے مراد طہر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هو بهذا اللفظ في مسلم 334»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1640
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرٍ ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ فَذَكَرَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِحَيْضَةٍ وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فَتُتْرَكِ الصَّلَاةَ ثُمَّ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ بَعْضُ مَشَائِخِنَا خَبَرُ ابْنُ الْهَادِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَسَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، انہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، لیکن رحم میں ایک چوکا ہے تو اپنے حیض کی مقدار انتظار کرے، جتنی مقدار تو حیض گزارتی تھی اور نماز کو چھوڑ دے، پھر ہر نماز کے لیے غسل کر اور نماز پڑھ۔“ (ب) ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ کا ابن ہاد کی حدیث محفوظ نہیں۔ (ج) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کو محمد بن اسحاق بن یسار نے زہری سے وہ عروہ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1640]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 209»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1641
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا هَنَّادٌ عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ ⦗٥١٦⦘ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ" وَقَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ" وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ وَالْقَوْلُ قَوْلُ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ الشَّيْخُ: وَرِوَايَةُ أَبِي الْوَلِيدِ أَيْضًا غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ فَقَدْ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ كَمَا رَوَاهُ سَائِرُ النَّاسِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مستحاضہ ہو گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے لیے غسل کر۔“ (ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے نقل کیا ہے: ”ہر نماز کے لیے وضو کر۔“ یہ عبدالصمد کا وہم ہے، اور صحیح بات ابو ولید کی ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں: ابو ولید کی روایت بھی محفوظ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1641]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1642
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي ثنا مُسْلِمٌ ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اسْتُحِيضَتْ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ فَكَانَتْ تَمْلَأُ مِرْكَنًا لَهَا مَاءً ثُمَّ تَدْخُلُهُ حَتَّى تَعْلُوَ الْمَاءَ حُمْرَةُ الدَّمِ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا:"" إِنَّهُ لَيْسَ بِحَيْضَةٍ وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"" وَلَيْسَ فِيهِ الْأَمْرُ بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَهَذَا أَوْلَى لِمُوَافَقَتِهِ سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرِوَايَةُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ غَلَطٌ لِمُخَالَفَتِهَا سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَمُخَالَفَتِهَا الرِّوَايَةَ الصَّحِيحَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن سات سال مستحاضہ رہیں، وہ اپنا ٹب پانی سے بھر لیتی تھیں پھر (نہانے کے لیے) داخل ہوتیں تو خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ یہ ایک رگ ہے، غسل کر اور نماز پڑھ۔“ (ب) اس روایت میں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم نہیں، یہ امام زہری کی تمام روایات کے موافق ہے۔
محمد بن اسحاق کی زہری سے روایت غلط ہے، کیونکہ یہ زہری کی باقی تمام روایات اور عراک بن مالک عن عروہ عن عائشہ کی صحیح روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں