السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
310. -- باب: ما روي في كفارة من أتى امرأته حائضا
-- باب: اس شخص کے کفارے کے بارے میں مروی احادیث کا بیان جس نے اپنی بیوی سے حالتِ حیض میں صحبت کی
حدیث نمبر: 1513
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَنَّهُ" يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ هَكَذَا" رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ مِقْسَمٍ وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْحَكَمَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ مِقْسَمٍ إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ مِقْسَمٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے متعلق فرمایا جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی پر واقع ہو جائے کہ: ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
شعبہ کی حکم سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ حکم نے اسے مقسم سے نہیں سنا، بلکہ عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے سنا ہے، انہوں نے مقسم سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1513]
شعبہ کی حکم سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ حکم نے اسے مقسم سے نہیں سنا، بلکہ عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے سنا ہے، انہوں نے مقسم سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ. فَفَسَّرَهُ قَتَادَةُ قَالَ: إِنْ كَانَ وَاحِدًا فَدِينَارٌ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ ⦗٤٧١⦘ لَمْ يَسْمَعْهُ قَتَادَةُ عَنْ مِقْسَمٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کریں۔“ قتادہ نے تفسیر بیان کی ہے کہ اگر ایک دینار پائے تو ایک کر دے اور اگر زیادہ نہ پائے تو آدھا دینار تو کر ہی دے۔
قتادہ نے اسے مقسم سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1514]
قتادہ نے اسے مقسم سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1515
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُبَادَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ. وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَيْضًا مِنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ“ کرنے کا حکم دیا۔ عبدالحمید سے اس کا سماع ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1516
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ثنا حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ ثنا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ أَنَّ مِقْسَمًا حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَعَمَ أَنَّهُ أَتَى يَعْنِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفِ دِينَارٍ" كَذَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَكَمِ مَرْفُوعًا وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ مَوْقُوفٌ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّقَرِيَّ مَوْقُوفًا إِلَّا أَنَّهُ أَسْقَطَ عَبْدَ الْحَمِيدِ مِنْ إِسْنَادِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ وہ اپنی بیوی کے پاس حیض کی حالت میں آیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ”ایک دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا، اگر وہ نہ پائے تو آدھا دینار (صدقہ کرے)“۔ (ب) قتادہ نے حکم سے مرفوعاً نقل کیا ہے، شعبہ حکم سے موقوفاً بیان کرتا ہے، اسی طرح ابو عبداللہ اشقری نے موقوفاً بیان کیا ہے، صرف اس کی سند میں عبدالحمید راوی ساقط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1517
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثنا عَارِمٌ ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّقَرِيُّ، أُرَاهُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْحَائِضِ إِذَا وَقَعَ عَلَيْهَا. الْحَدِيثُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حائضہ کے متعلق منقول ہے کہ جب اس کا خاوند اس پر واقع ہو جائے، (پھر راوی نے پوری) حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، وَرَوَى الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَظُنُّهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِخُمُسَيْ دِينَارٍ. وَهَذَا اخْتِلَافٌ ثَالِثٌ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ رَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ تَكْرَهُ الرِّجَالَ ⦗٤٧٢⦘ فَكَانَ كُلَّمَا أَرَادَهَا اعْتَلَّتْ لَهُ بِالْحَيْضَةِ فَظَنَّ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا صَادِقَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِخُمُسَيْ دِينَارٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ فَذَكَرَهُ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَعُمَرَ.
(الف) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے (راوی کے گمان کے مطابق) روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کی سند اور متن میں اختلاف ہے۔
(ب) اوزاعی اسی سند کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی ایک بیوی مردوں کو ناپسند کرتی تھی۔ جب بھی وہ اس کے پاس آنا چاہتے تو وہ حیض کا عذر کر دیتی، انہوں نے سمجھا: وہ جھوٹی ہے۔ وہ اس کے پاس آئے تو اسے سچا پایا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو خمس دینار صدقہ کرنے“ کا حکم دیا۔
یہ روایت عبدالحمید اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1518]
(ب) اوزاعی اسی سند کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی ایک بیوی مردوں کو ناپسند کرتی تھی۔ جب بھی وہ اس کے پاس آنا چاہتے تو وہ حیض کا عذر کر دیتی، انہوں نے سمجھا: وہ جھوٹی ہے۔ وہ اس کے پاس آئے تو اسے سچا پایا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو خمس دینار صدقہ کرنے“ کا حکم دیا۔
یہ روایت عبدالحمید اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1519
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ثنا شَرِيكٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَقَعَ الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَلْيَتَصَدَّقْ بِنِصْفِ دِينَارٍ" قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ شَرِيكٌ مَرَّةً فَشَكَّ فِي رَفْعِهِ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ وَخُصَيْفٍ فَأَرْسَلَهُ.
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی پر واقع ہوجائے تو وہ نصف دینار صدقہ کرے۔“
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ شریک نے اس کو روایت کیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں شک کیا ہے۔ امام ثوری نے علی بن بذیمہ اور خصیف سے مرسلاً نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1519]
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ شریک نے اس کو روایت کیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں شک کیا ہے۔ امام ثوری نے علی بن بذیمہ اور خصیف سے مرسلاً نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1519]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 1266»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1520
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ بَذِيمَةَ، وَخُصَيْفٌ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ. الْحَدِيثَ. خُصَيْفٌ الْجَزَرِيُّ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
مقسم رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق نقل فرماتے ہیں جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس آجاتا ہے، (پھر راوی نے پوری) حدیث ذکر کی۔
خصیف جزری قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1520]
خصیف جزری قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1521
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، أنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ فِي الدَّمِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ وَإِذَا وَطِئَهَا وَقَدْ رَأَتِ الطُّهْرَ وَلَمْ تَغْتَسِلْ فَلْيَتَصَدَّقْ بِنِصْفِ دِينَارٍ" هَكَذَا فِي رِوَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ فَجَعَلَ التَّفْسِيرَ مِنْ قَوْلِ مِقْسَمٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنی بیوی کے پاس حالتِ حیض میں آئے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے اور اگر اس نے پاکی میں جماع کیا لیکن عورت نے غسل نہیں کیا تھا تو وہ نصف دینار صدقہ کرے۔“
ابن جریج کی روایت میں اسی طرح ہے، جبکہ ابن ابی عروبہ نے اسے عبدالکریم سے روایت کیا ہے اور اس تفسیر کو مقسم کا قول قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1521]
ابن جریج کی روایت میں اسی طرح ہے، جبکہ ابن ابی عروبہ نے اسے عبدالکریم سے روایت کیا ہے اور اس تفسیر کو مقسم کا قول قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1522
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ثنا سَعِيدٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ ⦗٤٧٣⦘ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ. وَفَسَّرَ ذَلِكَ مِقْسَمٌ فَقَالَ: إِنْ غَشِيَهَا فِي الدَّمِ فَدِينَارٌ وَإِنْ غَشِيَهَا بَعْدَ انْقِطَاعِ الدَّمِ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ فَنِصْفُ دِينَارٍ وَقِيلَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ”ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرنے“ کا حکم دیا۔ مقسم نے اس کی تفسیر بیان کی ہے کہ اگر اس نے خون جاری ہونے کی حالت میں جماع کیا ہے تو ایک دینار اور اگر خون ختم ہونے کے بعد غسل کرنے سے پہلے کیا تو آدھا دینار صدقہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر