السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
619. -- باب: الجهر بالقراءة في الركعتين الأوليين من المغرب والعشاء
-- باب: مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں بلند آواز سے قراءت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ طور پڑھتے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3064]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 3050»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3065
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ قَدْ جَاءَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ وَذَلِكَ أَوَّلُ مَا وَقَرَ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں اور وہ بدر کے قیدیوں میں آئے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ طور پڑھتے سنا اور یہی وہ پہلی دستکِ ایمانی تھی جو میرے دل پر پڑی اور وہ ان دنوں مشرک تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3065]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله واللفظ للبخاري 4023»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3066
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْجَلَّابُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِـ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ وَقِرَاءَةً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ مِسْعَرٍ وَغَيْرِهِ.
عدی بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کی نماز میں ﴿وَالتِّينِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھتے سنا۔ میں نے آپ سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3066]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 767»
الحكم على الحديث: صحيح
620. -- باب: الجهر بالقراءة في صلاة الصبح
-- باب: فجر کی نماز میں بلند آواز سے قراءت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3067
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التكوير: ١٧] " ⦗٢٧٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ مِسْعَرٍ.
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ﴾ [سورة التكوير: 17] کی قراءت کرتے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3067]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحميدي 567»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3068
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا" قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلَا رَآهُمُ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: قَدْ حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا وَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ وَقَالُوا: وَاللهِ هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَهُنَالِكَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ قَالُوا: يَا قَوْمَنَا {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} [الجن: ٢] فَأَنْزَلَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ} [الجن: ١] " وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں پر نہ قرآن پڑھا اور نہ ہی آپ نے انہیں دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ بازارِ عکاظ کی طرف جا رہے تھے۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمانوں کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگاروں کی مار ہونے لگی تھی۔ شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا: ”کیا خبر ہے؟“ وہ کہنے لگے: ”آسمانوں کی خبریں ہم سے روک دی گئی ہیں اور ہم پر انگارے برسائے گئے۔“ وہ کہنے لگے: ”یہ جو آسمانوں کی خبریں تم سے روک دی گئی ہیں اس کی وجہ کوئی نئی بات معلوم ہوتی ہے، ذرا زمین کے مشرق و مغرب میں گھوم پھر کر دیکھو کہ کون سی نئی بات ہوئی؟ جس کی وجہ سے آسمان کی خبریں تم سے روک دی گئیں۔“ یہ سن کر وہ چاروں طرف پھیل گئے۔ ان میں سے جو جنات تہامہ کی طرف نکلے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپہنچے۔ اس وقت آپ وادی ”نخلہ“ میں تھے اور عکاظ کی منڈی کو جانے کا ارادہ تھا۔ آپ صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو کان لگا لیے اور کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی ہے۔“ جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گئے تو کہنے لگے: ﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا﴾ [سورة الجن: 1-2] ”بھائیو! ہم ایک عجیب قرآن سن کر آئے ہیں وہ سیدھا راستہ بتاتا ہے، ہم تو اس پر ایمان لائے اور ہرگز اپنے مالک کا کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔“ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر سورہ جن نازل فرمائی اور آپ کی طرف جنوں کا قول ہی وحی کیا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3068]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 773»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3069
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكُنَّا نَتَذَاكَرُ الْعِلْمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَا تَتَحَدَّثُوا إِلَّا بِمَا فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ:" إِنَّكَ لَأَحْمَقُ أَوَجَدْتَ فِي الْقُرْآنِ صَلُّوا الظُّهْرَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَالْعَصْرَ أَرْبَعًا لَا تَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي شَيْءٍ مِنْهَا، وَالْمَغْرِبَ ثَلَاثًا تَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنْهَا، وَلَا تَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَةٍ، وَالْعِشَاءَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَتَيْنِ مِنْهَا وَلَا تَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَتَيْنِ وَالْفَجْرَ رَكْعَتَيْنِ تَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ".
ابو نضرہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس علمی مذاکرہ کر رہے تھے۔ ایک شخص بولا کہ ”قرآن کے علاوہ کوئی بات نہ کرو۔“ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”تو واقعی بیوقوف اور احمق ہے، کیا تجھے قرآن سے یہ بات ملی ہے کہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھو، عصر کی بھی چار پڑھو اور ان میں قراءت اونچی نہ کرو اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھو، دو میں جہری قراءت اور ایک میں سری قراءت کرو اور عشا کی چار رکعتیں ادا کرو، دو میں اونچی اور دو میں آہستہ قراءت کرو اور فجر کی دو رکعتیں پڑھو اور دونوں رکعتوں میں اونچی قراءت کرو؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3069]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 20474»
الحكم على الحديث: ضعيف
621. -- باب: كيفية الجهر
-- باب: بلند آواز سے قراءت کرنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 3070
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ" إِذَا صَلَّى رَفَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا ⦗٢٧٨⦘ الْقُرْآنَ وَمَنْ نَزَلَ بِهِ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] أَسْمِعْ أَصْحَابَكَ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ میں چھپ کر عبادت کرتے تھے۔ آپ جب نماز پڑھتے تو اونچی قراءت کرتے۔ جب مشرکوں نے قرآن سنا تو انھوں نے قرآن کو برا بھلا کہا اور قرآن نازل کرنے والے اور لے کر آنے والے کو بھی برا بھلا کہا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”کہ اے نبی! نہ اپنی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کر اور نہ ہی بالکل آہستہ پڑھ۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ صرف اپنے ساتھیوں کو سناؤ۔ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے ساتھی قرآن سن کر یاد کر لیں۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اپنی نماز میں اونچی قراءت نہ کر۔“ تاکہ مشرکین آپ کی قراءت نہ سن لیں ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور نہ ہی بہت زیادہ آہستہ۔“ بلکہ اپنے ساتھیوں کو قرآن سناؤ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کر۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے صحابہ آپ سے سن کر یاد کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3070]
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اپنی نماز میں اونچی قراءت نہ کر۔“ تاکہ مشرکین آپ کی قراءت نہ سن لیں ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور نہ ہی بہت زیادہ آہستہ۔“ بلکہ اپنے ساتھیوں کو قرآن سناؤ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کر۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے صحابہ آپ سے سن کر یاد کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3070]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 7490»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3071
وَعَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ هُشَيْمٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَقَالَ اللهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: ١١٠] " فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ قِرَاءَتَكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ وَلَا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ: يَقُولُ: بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا هُشَيْمٌ، فَذَكَرَهُ.
ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3071]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ و قد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3072
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ" يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَإِنَّ قِرَاءَتَهُ كَانَتْ تُسْمَعُ عِنْدَ دَارِ أَبِي جَهْمٍ بِالْبَلَاطِ" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هُوَ الْبُوشَنْجِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، الْبَلَاطُ مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ قَرِيبٌ مِنَ السُّوقِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَكُنْ فِي الْوَقْتِ الَّذِي جَهَرَ فِيهِ عُمَرُ هَذَا الْجَهْرَ مَا كَانَ فِي وَقْتِ نُزُولِ الْآيَةِ مِنْ خَوْفِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يَنَالُوا مِنْهُ.
(ا) ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز میں جہری قراءت کیا کرتے تھے اور ان کی قراءت کی آواز ”بلاط“ میں ابو جہم کے گھر کے پاس سنی جاسکتی تھی۔
(ب) ابو عبداللہ بوشنجی بیان کرتے ہیں کہ بلاط مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جو بازار کے قریب ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ جہری قراءت کرتے تھے اس وقت مشرکین کی طرف سے وہ خوف نہیں تھا جو آیت کے نزول کے وقت تھا کہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3072]
(ب) ابو عبداللہ بوشنجی بیان کرتے ہیں کہ بلاط مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جو بازار کے قریب ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ جہری قراءت کرتے تھے اس وقت مشرکین کی طرف سے وہ خوف نہیں تھا جو آیت کے نزول کے وقت تھا کہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3072]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 180»
الحكم على الحديث: صحيح
622. -- باب: في سكتتي الإمام
-- باب: امام کے دو سکتوں (خاموشیوں) کے بیان میں
حدیث نمبر: 3073
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيَّةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَكَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ؟ قَالَ:" أَقُولُ: اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر (تحریمہ) کہتے تو قراءت سے تھوڑی دیر پہلے خاموش رہتے۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ جو سکوت کرتے ہیں اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پڑھتا ہوں: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ» ”اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈال دی۔ اے باری تعالیٰ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ الٰہی! میرے گناہ مجھ سے دھو ڈال برف، پانی اور اولوں کے ساتھ۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3073]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 744»
الحكم على الحديث: صحيح