السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
637. جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها
نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النَّهْيُ عَنْ أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى مَعَ ضِيقٍ مُسْتَلْقِيًا مِنْ أَجْلِ انْكِشَافِ الْعَوْرَةِ؛ لِأَنَّ الْمُسْتَلْقِيَ إِذَا رَفَعَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى مَعَ ضِيقِ الْإِزَارِ، لَمْ يَسْلَمْ مِنْ أَنْ يَنْكَشِفَ شَيْءٌ مِنْ فَخِذَيْهِ وَالْفَخِذُ عَوْرَةٌ، فَأَمَّا إِذَا كَانَ الْإِزَارُ سَابِغًا أَوْ كَانَ لَابِسُهُ عَنِ التَّكَشُّفِ مُتَوَقِّيًا فَلَا بَأْسَ بِهِ، قَالَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ اسْتِدْلَالًا بِمَا.
(ا) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» ”اشتمال صما“ سے، ایک کپڑے میں گوٹ مارنے سے اور کمر کے بل لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے“۔
(ب) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی کے لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھنے کی ممانعت ستر کے کھلنے کی وجہ سے ہو، کیونکہ لیٹنے والا آدمی جب تنگ تہہ بند میں ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھے تو اس کے ایسا کرنے سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلے گا وہ سلامت نہ رہے گا اور ران خود ستر ہے۔ پس اگر تہہ بند کشادہ ہو یا اس کو پہننے والا ستر کھلنے سے بچتا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بات ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3209]
(ب) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی کے لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھنے کی ممانعت ستر کے کھلنے کی وجہ سے ہو، کیونکہ لیٹنے والا آدمی جب تنگ تہہ بند میں ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھے تو اس کے ایسا کرنے سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلے گا وہ سلامت نہ رہے گا اور ران خود ستر ہے۔ پس اگر تہہ بند کشادہ ہو یا اس کو پہننے والا ستر کھلنے سے بچتا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بات ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3209]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3210
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى" قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: وَعَمُّهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ ⦗٣١٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَجَمَاعَةٌ كُلُّهُمْ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے پاؤں پر پاؤں رکھے ہوئے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3210]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري ص463»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى" قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، يَعْنِي عَنْ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ بِذَلِكَ وَكَانَ لَا يُحْصِي ذَلِكَ مِنْهُمَا قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَجَاءَ النَّاسُ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں سیدھے لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھے ہوئے دیکھا۔
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں بھی یہی بتایا، اور ان دونوں سے ایسا اتنی بار دیکھا گیا کہ وہ اس کا شمار نہیں کر سکتے تھے۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگ بہت بڑی بات لے آئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3211]
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں بھی یہی بتایا، اور ان دونوں سے ایسا اتنی بار دیکھا گیا کہ وہ اس کا شمار نہیں کر سکتے تھے۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگ بہت بڑی بات لے آئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3211]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقد، في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى الْأُمَوِيِّ.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک پتھر اٹھائے ہوئے آیا اور میرے اوپر ایک ہلکی سی چادر تھی، وہ کھل گئی۔ میرے پاس پتھر ہونے کی وجہ سے میں اس کو اٹھا نہ سکتا تھا۔ میں نے پتھر کو اپنی جگہ پہنچا دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جا کر اپنا کپڑا اٹھاؤ اور تہہ بند باندھ لو، ننگے بدن مت چلا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3212]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 341»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3213
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ:" احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ" قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ؟ قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا" قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟ قَالَ:" اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ" أَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي التَّرْجَمَةِ.
بہز بن حکیم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ (رضی اللہ عنہ) سے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم کس سے اپنا ستر چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی یا لونڈی کے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں تو پھر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تجھ سے ہو سکے کہ تیرا کوئی ستر نہ دیکھے تو ایسا ہی کر۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص گھر میں اکیلا ہو تو پھر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ شرم کرنی چاہیے، وہ حیا کا زیادہ مستحق ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3213]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3213]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود 4017»
الحكم على الحديث: حسن
638. -- باب: عورة المرأة الحرة
-- باب: آزاد عورت کے ستر کا بیان
حدیث نمبر: Q3214
قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا} [سورة: النور، آية رقم: 31] .
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ ”اور وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے خود ظاہر ہو جائے۔“ [سورة النور: 31] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3214]
حدیث نمبر: 3214
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ ⦗٣١٩⦘ هُرْمُزَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا} [النور: ٣١] قَالَ:" مَا فِي الْكَفِّ وَالْوَجْهِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] میں زینت سے مراد ہاتھ اور چہرہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3214]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن ابي شبية 17018»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ} [النور: ٣١] الْآيَةُ قَالَ:" الْكُحْلُ وَالْخَاتَمُ".
سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3215]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطبري 9/302»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 3216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، أنبأ خُصَيْفٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهْرَ مِنْهَا} [النور: ٣١] قَالَ:" الْكُحْلُ وَالْخَاتَمُ" وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِثْلُ هَذَا.
عکرمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] ”اور وہ اپنی زینت کو زیبائش کو ظاہر نہ کریں مگر جو ظاہر ہو“ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3216]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 3217
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" مَا ظَهَرَ مِنْهَا الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ:" الزِّينَةُ الظَّاهِرَةُ:" الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ" وَرُوِّينَا مَعْنَاهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ.
عطاء بن ابی رباح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ﴿مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] سے مراد چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد ظاہری زیبائش چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں اور اس کے معنیٰ میں عطاء بن ابی رباح اور سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3217]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد ظاہری زیبائش چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں اور اس کے معنیٰ میں عطاء بن ابی رباح اور سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3217]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف