السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
647. -- باب: الدليل على أنه إنما يلتحف به إذا كان واسعا وإذا كان ضيقا اتزر به وجازت صلاته
-- باب: اس بات کی دلیل کہ اگر کپڑا کشادہ ہو تو اسے اوڑھ لے گا اور اگر تنگ ہو تو اسے تہبند کے طور پر باندھ لے گا اور اس کی نماز جائز ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3288
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ أَتَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَنَفَرًا قَدْ سَمَّاهُمْ قَالَ: فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَجَدْنَاهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ قَرِيبًا ⦗٣٣٨⦘ مِنْهُ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاهُ، عَنْ صَلَاتِهِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ: أَفْعَلُ هَذَا لِيَرَانِيَ الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ فَيُفْشُونَ عَنْ جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُهُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" مَا السُّرَى يَا جَابِرُ؟" فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي قَالَ:" يَا جَابِرُ مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ ثَوْبًا وَاحِدًا ضَيِّقًا، فَقَالَ:" إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ" قَالَ الشَّيْخُ: فِي كِتَابِي: سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ بِخَطِّ الشِّيرَازِيِّ، وَالصَّوَابُ سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ، عَنْ فُلَيْحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ.
سعید بن حارث بیان کرتے ہیں کہ ہم جماعت کی صورت میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ایک ہی کپڑا لپیٹے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر ان کے پاس ہی پڑی تھی، اگر وہ اس کو لینا چاہتے تو لے سکتے تھے۔ جب انہوں نے نماز سے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے ان کے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں ایسا اس لیے کرتا ہوں تاکہ تم جیسے بے وقوف مجھے دیکھیں اور جابر کے حوالے سے اس رخصت کو عام کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دی تھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا تو میں رات کے وقت کسی ذاتی کام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا اور مجھ پر ایک ہی کپڑا تھا، تو میں نے اس کپڑے کو لپیٹ لیا اور ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے جابر! رات کے وقت کیسے آنا ہوا؟“ تو میں نے اپنی حاجت آپ کے سامنے بیان کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! یہ کیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کپڑا ایک تھا اور تنگ بھی تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اس حالت میں نماز پڑھے کہ تیرے پاس صرف ایک کپڑا ہو، اگر وہ بڑا ہو تو اس کو لپیٹ لے اور اگر وہ تنگ ہو تو تہبند باندھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3288]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 3006»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3289
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْأَدَمِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكُ اللهُ أَتُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَهَذَا إِزَارُكَ إِلَى جَنْبِكَ؟ فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُكَ فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ، فذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَهَا ذُبَابٌ: فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عََنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ، عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَقَالَ:" هَكَذَا" يَعْنِي شُدَّ وَسَطَكَ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا جَابِرُ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوَتِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَغَيْرِهِ.
عبادہ بن ولید بن صامت روایت کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مسجد میں آئے۔ وہ ایک کپڑے کو لپیٹے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا ان کے پاس جا پہنچا اور ان کے اور قبلے کے درمیان جا بیٹھا اور میں نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، کیا آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں جب کہ آپ کا تہبند یہ رہا آپ کے پہلو میں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس تمہارے جیسے نادان آئیں تو وہ مجھے دیکھیں کہ میں کیسے کرتا ہوں اور وہ بھی اس طرح کریں۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر جہاد میں) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور میرے اوپر ایک دھاری دار چادر تھی۔ میں اس کے کنارے الٹنے لگا (تاکہ گردن سے باندھ لوں)، لیکن وہ وہاں تک نہ پہنچ سکی۔ میں نے اسے الٹ دیا۔ پھر میں نے اس کے کناروں کو مخالف سمت کر لیا (یعنی داہنے کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو داہنی طرف)۔ پھر میں نے اسے (گرنے سے بچانے کے لیے) جھک کر گردن سے روکے رکھا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑ کر گھمایا اور اپنی داہنی طرف کھڑا کر دیا۔
اتنے میں ابن صخر رضی اللہ عنہ آگئے اور آپ کے بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسلسل دیکھ رہے تھے، لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ پھر میں سمجھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا یعنی تہبند باندھ لو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جابر!“ میں نے عرض کیا: ”حاضر ہوں اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کپڑا وسیع ہو تو دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ داہنے کندھے پر ڈال لیا کرو اور اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اسے کمر پر باندھ لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3289]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر جہاد میں) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور میرے اوپر ایک دھاری دار چادر تھی۔ میں اس کے کنارے الٹنے لگا (تاکہ گردن سے باندھ لوں)، لیکن وہ وہاں تک نہ پہنچ سکی۔ میں نے اسے الٹ دیا۔ پھر میں نے اس کے کناروں کو مخالف سمت کر لیا (یعنی داہنے کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو داہنی طرف)۔ پھر میں نے اسے (گرنے سے بچانے کے لیے) جھک کر گردن سے روکے رکھا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑ کر گھمایا اور اپنی داہنی طرف کھڑا کر دیا۔
اتنے میں ابن صخر رضی اللہ عنہ آگئے اور آپ کے بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسلسل دیکھ رہے تھے، لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ پھر میں سمجھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا یعنی تہبند باندھ لو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جابر!“ میں نے عرض کیا: ”حاضر ہوں اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کپڑا وسیع ہو تو دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ داہنے کندھے پر ڈال لیا کرو اور اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اسے کمر پر باندھ لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3289]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحميدي 313»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3290
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، ⦗٣٣٩⦘ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ وَبَعْضُهُ عَلَيْهِ وَأَنَا حَائِضٌ وَكَذَلِكَ ثَبَتَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِالصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.
(ا) ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار ایک بڑی چادر میں نماز پڑھتے، اس کا کچھ حصہ مجھ پر ہوتا اور کچھ حصہ آپ پر ہوتا، اگرچہ میں حائضہ بھی ہوتی۔
(ب) اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ثابت ہے۔
(ج) اس حدیث میں ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ آدمی کے کندھوں پر اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3290]
(ب) اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ثابت ہے۔
(ج) اس حدیث میں ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ آدمی کے کندھوں پر اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3290]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 633»
الحكم على الحديث: ضعيف
648. -- باب: الصلاة في القميص
-- باب: قمیص میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3291
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَوْمَلٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ".
محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ہمیں ایک قمیص میں امامت کروائی۔ آپ رضی اللہ عنہما پر کوئی اور چادر نہ تھی۔ جب انہوں نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3291]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود 4026»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3292
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ:" مَا كَانَ شَيْءٌ مِنَ الثِّيَابِ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَمِيصِ".
(ا) عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے زوجہ رسول، ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں میں قمیص سے زیادہ محبوب کوئی لباس نہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3292]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 3293
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو تُمَيْلَةَ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ السَّدُوسِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَمِيصِ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي تُمَيْلَةَ وَقِيلَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَيُّ ثَوْبٍ وَاحِدٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ؟ قَالَ:" الْقَمِيصُ".
(ا) عبداللہ بن بریدہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ”قمیص سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی لباس زیادہ محبوب نہ تھا۔“
(ب) ایک قول کے مطابق «عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ» رضی اللہ عنہا بھی ہے۔
(ج) مجاہد کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آپ کے نزدیک کون سا لباس زیادہ محبوب ہے جس میں میں نماز پڑھا کروں؟“ انہوں نے فرمایا: ”قمیص۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3293]
(ب) ایک قول کے مطابق «عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ» رضی اللہ عنہا بھی ہے۔
(ج) مجاہد کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آپ کے نزدیک کون سا لباس زیادہ محبوب ہے جس میں میں نماز پڑھا کروں؟“ انہوں نے فرمایا: ”قمیص۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3293]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 622۔ النسائي 765»
الحكم على الحديث: ضعيف
649. -- باب: الدليل على أنه يزره إن كان جيبه واسعا ويدعه إن كان ضيقا
-- باب: اس بات کی دلیل کہ اگر قمیص کا گریبان کشادہ ہو تو اس کے بٹن لگا لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
حدیث نمبر: 3294
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَزِرَّهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ" ⦗٣٤٠⦘ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ.
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں شکار کھیلتا ہوں تو کیا میں ایک قمیص میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پڑھ سکتے ہو۔ اسے باندھ لو اگرچہ ایک کانٹے سے ہی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3294]
حدیث نمبر: 3295
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ" وَرَوَى عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي قَمِيصٍ مَحْلُولَةٍ أَزْرَارُهُ مَخَافَةَ أَنْ يُرَى فَرْجُهُ إِذَا رَكَعَ حَتَّى يَزُرَّهُ قَالَ يَحْيَى: إِذْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَزْرَارٌ وَهَذَا إِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا فَهُوَ مُوَافِقٌ لِلْمَوْصُولِ قَبْلَهُ.
(ا) یزید بن خمیر سے روایت ہے کہ میں نے قریش کے ایک غلام کو کہتے ہوئے سنا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز پڑھنے سے منع فرمایا جب تک کہ کمر پر پٹی نہ باندھ لی جائے“۔
(ب) عبداللہ بن مبارک ابن جریج سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسی قمیص میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے جس کے بٹن کھلے ہوں“، اس لیے تاکہ رکوع کرتے وقت اس کی شرمگاہ نہ دیکھی جا سکے، اسے چاہیے کہ باندھ لے۔
یہ روایت اگرچہ منقطع ہے، لیکن اپنے سے پہلے والی متصل روایت کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3295]
(ب) عبداللہ بن مبارک ابن جریج سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسی قمیص میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے جس کے بٹن کھلے ہوں“، اس لیے تاکہ رکوع کرتے وقت اس کی شرمگاہ نہ دیکھی جا سکے، اسے چاہیے کہ باندھ لے۔
یہ روایت اگرچہ منقطع ہے، لیکن اپنے سے پہلے والی متصل روایت کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3295]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن سعد في الطبقات 4/ 175»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3296
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي مَحْلُولٌ أَزْرَارُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ حَدِيثِ زُهَيْرٍ هَذَا، فَقَالَ: أَنَا أَتَّقِي هَذَا الشَّيْخَ كَأَنَّ حَدِيثَهُ مَوْضُوعٌ وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي بِزُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ هَذَا الشَّيْخَ وَيَقُولُ: هَذَا شَيْخٌ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونُوا قَلَبُوا اسْمَهُ، وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى بَعْضِ هَذَا فِي التَّارِيخِ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَوْجُهٍ دُونَ السَّنَدِ.
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھتے دیکھا اور ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں زہیر بن محمد منفرد ہیں۔ امام ترمذی سے مجھے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے زہیر کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں اس شیخ سے بچتا ہوں، گویا اس کی حدیث موضوع ہے، اور میرے نزدیک یہ زہیر بن محمد نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل اس شیخ کو ضعیف قرار دیتے اور فرماتے: یہ ایسا شیخ ہے کہ لگتا ہے لوگوں نے اس کا نام الٹ دیا ہے۔ امام بخاری نے التاریخ میں اس میں سے کچھ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3296]
اس روایت کو بیان کرنے میں زہیر بن محمد منفرد ہیں۔ امام ترمذی سے مجھے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے زہیر کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں اس شیخ سے بچتا ہوں، گویا اس کی حدیث موضوع ہے، اور میرے نزدیک یہ زہیر بن محمد نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل اس شیخ کو ضعیف قرار دیتے اور فرماتے: یہ ایسا شیخ ہے کہ لگتا ہے لوگوں نے اس کا نام الٹ دیا ہے۔ امام بخاری نے التاریخ میں اس میں سے کچھ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ وله طريق آخر عند البخاري في تاريخ 8/ 174۔ وسنده ايضا ضعيف»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3297
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ:" مَا رَأَيْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا مَحْلُولَ الْأَزْرَارِ" قَالَ سَعِيدٌ: وَحَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ وَأَبَا حَازِمٍ وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُصَلُّونَ وَأَزْرَارُ قُمُصِهِمْ مُطْلَقَةٌ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَفْسِهِ وَهُوَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا لَوْ كَانَ الْجَيْبُ ضَيِّقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سعید بن ابی ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے عبیداللہ بن عمر کو ہمیشہ قمیص کے بٹن کھولے ہوئے ہی دیکھا۔
سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے زہرہ بن معبد قرشی رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے ابن مسیب رحمہ اللہ، ابو حازم رحمہ اللہ اور محمد بن منکدر رحمہ اللہ کو دیکھا، یہ حضرات نماز پڑھتے اور ان کی قمیصوں کے بٹن کھلے ہوتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بھی ہمیں روایت بیان کی گئی جس طرح کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
اور وہ جب نماز میں ہوتے، ہمارے نزدیک یہ اس صورت پر محمول ہوگا جب گریبان تنگ ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3297]
سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے زہرہ بن معبد قرشی رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے ابن مسیب رحمہ اللہ، ابو حازم رحمہ اللہ اور محمد بن منکدر رحمہ اللہ کو دیکھا، یہ حضرات نماز پڑھتے اور ان کی قمیصوں کے بٹن کھلے ہوتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بھی ہمیں روایت بیان کی گئی جس طرح کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
اور وہ جب نماز میں ہوتے، ہمارے نزدیک یہ اس صورت پر محمول ہوگا جب گریبان تنگ ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 4/ 23»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره