السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
366. -- باب: زوال العقل بالسكر لا يكون عذرا في سقوط الفرض عنه
-- باب: نشے کی وجہ سے عقل کا زائل ہو جانا اس پر سے فرض کے ساقط ہونے کا عذر نہیں بن سکتا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْأَهْوَازِ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْقَلَانِسِيُّ بِالرَّمْلَةِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ" تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرٌ هَكَذَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ان کی نیکی (آسمان پر) چڑھتی ہے: بھگوڑا غلام یہاں تک کہ اپنے مالک کے پاس واپس آ جائے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دے، اور وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو اور نشے والا یہاں تک کہ صحیح ہو جائے۔“
اسے اس طرح بیان کرنے میں زہیر متفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1830]
اسے اس طرح بیان کرنے میں زہیر متفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن حبان 5355»
الحكم على الحديث: ضعيف
367. -- باب: بدء الأذان
-- باب: اذان کی ابتدا کا بیان
حدیث نمبر: 1831
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَتَّخِذُ نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَفَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ يَا بِلَالُ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ" ⦗٥٧٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس وقت مسلمان مدینہ میں آئے تو وہ جمع ہوتے اور نمازوں کا انتظار کرتے اور کوئی بھی اعلان کرنے والا نہیں تھا۔ انہوں نے ایک دن اس کے متعلق بات کی۔ بعض نے کہا: ہم نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا: بلکہ یہودیوں کی طرح ایک سینگ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہ تم کسی آدمی کو بھیجو جو نماز کا اعلان کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کا اعلان کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1831]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 579»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ثنا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ فَيَعْرَفُونَهُ فَذَكَرُوا أَنْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا أَوْ يُنَوِّرُوا نَارًا، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مشورہ کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے اوقات کو جانیں اور پہچانیں۔ بعض نے ذکر کیا کہ ایک ناقوس بجائیں یا آگ روشن کریں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان جفت کہیں اور اقامت ایک مرتبہ کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1832]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 578»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1833
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ ثنا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ إِذَا حَضَرَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَنَادَى: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا نَاقُوسًا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ:" ذَلِكَ لِلنَّصَارَى" فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا بُوقًا قَالَ:" ذَلِكَ لِلْيَهُودِ" قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز کا وقت ہوتا تو ایک شخص راستے میں دوڑتا ہوا اعلان کرتا: ”نماز، نماز!“ لوگوں پر یہ بات مشکل ہو گئی تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر ہم ناقوس بنا لیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو نصاریٰ کا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”ہم ایک سینگ بنا لیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یہود کا ہے۔“ راوی کہتا ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان جفت کہیں اور اقامت ایک مرتبہ کہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1833]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن خزيمة 369»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ زِيَادٌ: أنا أَبُو بِشْرٍ عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: اهْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ يَعْنِي الشَّبُّورَ وَقَالَ زِيَادٌ: شَبُّورُ الْيَهُودِ فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ وَقَالَ:" هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ" قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ فَقَالَ:" هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى" فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ وَهُو مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُرِيَ الْأَذَانَ فِي مَنَامِهِ قَالَ: فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابٍ قَدْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنَا؟" فَقَالَ: سَبَقَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْهُ" قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ أَبُو بِشْرٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ أَنَّ الْأَنْصَارَ تَزْعُمُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنًا.
ابو عمیر بن انس اپنے انصار ماموؤں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اہتمام کیا کہ لوگوں کو کیسے جمع کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: نماز کے وقت جھنڈا گاڑ دیں، جب اس کو دیکھیں گے تو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو بتلا دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہ آئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبور کا ذکر کیا گیا، زیاد کہتے ہیں: یہودیوں کا شبور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی پسند نہ آیا بلکہ فرمایا: ”یہ یہود کا کام ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناقوس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نصاریٰ کا کام ہے۔“ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ پھرے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کا اہتمام کرنے والے تھے، انہیں نیند میں اذان دکھائی گئی، وہ صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سونے اور جاگنے کے درمیان تھا، اچانک کوئی میرے پاس آیا، اس نے مجھے اذان سکھلائی، یہی خواب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پہلے دیکھ لیا تھا، لیکن انہوں نے بیس دن اس کو چھپائے رکھا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے تجھ کو منع کیا تھا کہ تو ہم کو خبر دیتا؟“ انہوں نے عرض کیا: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ مجھ پر سبقت لے گئے ہیں، میں شرماتا رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور دیکھو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ تجھے کیا حکم دیتے ہیں، پھر وہی کرو۔“ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو بشر کہتے ہیں: ابو عمیر نے مجھ کو خبر دی کہ انصار گمان کرتے تھے کہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اگر ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مؤذن بنا دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1834]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 498»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1835
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيِّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ثنا عَمَّى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ فِي الْجَمْعِ لِلصَّلَاةِ أَطَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: تَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيِّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيِّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيِّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ مَا رَأَيْتُ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ" فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِلَّهِ الْحَمْدُ"..
محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ کو میرے باپ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو نماز کے جمع کرنے کے لیے بجایا جائے تو ایک شخص نے میرے پاس چکر لگایا اور میں سویا ہوا تھا، اس نے اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھایا ہوا تھا، میں نے اس سے کہا: ”اے اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس بیچے گا؟“ اس نے کہا: ”تو اس کا کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: ”ہم نماز کی طرف بلائیں گے۔“ اس نے کہا: ”کیا میں آپ کو وہ چیز نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ بہتر ہو؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا: ”تو کہہ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ پھر تھوڑی دیر پیچھے ہٹا اور کہا: ”جب تو اقامت کہے تو کہہ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، یقیناً نماز کھڑی ہوگئی، یقیناً نماز کھڑی ہوگئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ صبح کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی جو میں نے دیکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سچا خواب ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ تم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کہ اس کو سکھاؤ جو تم نے دیکھا تھا، وہ ان الفاظ کے ساتھ اذان دے وہ تجھ سے زیادہ بلند آواز والا ہے“، میں بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا، میں انھیں سکھاتا تھا اور وہ اذان دیتے تھے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو وہ اپنے گھر میں تھے، وہ نکلے اور اپنی چادر کو کھینچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اے اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے بھی ان کی طرح خواب دیکھا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 499»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1836
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا يَعْقُوبُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ التَّكْبِيرَ فِي صَدْرِ الْأَذَانِ مَرَّتَيْنِ وَكَذَلِكَ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
ہمیں یعقوب نے اسی سند کے ساتھ بیان کیا ہے، مگر انہوں نے اذان کے شروع میں تکبیر دو مرتبہ ذکر کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1836]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1837
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَكَذَا رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي قِصَّةَ الرُّؤْيَا فِي تَثْنِيَةِ الْأَذَانِ وَانْفِرَادِ الْإِقَامَةِ وَقَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، وَقَالَ فِيهِ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَمْ يُثَنِّيَا. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ الْإِمَامَ أَبَا بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى الْمُطَرِّزَ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: لَيْسَ فِي أَخْبَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ فِي قِصَّةِ الْأَذَانِ خَبَرٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا يَعْنِي حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ لِأَنَّ مُحَمَّدًا ⦗٥٧٦⦘ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَفِي كِتَابِ الْعِلَلِ لِأَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فَقَالَ: هُوَ عِنْدِي حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
(الف) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسی طرح زہری نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے خواب کا قصہ روایت کیا ہے، جس میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ ہیں۔
(ب) زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے: «اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ۔
(ج) زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے: «اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ» تثنیہ نہیں ہے۔
محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: قصۂ اذان کے بارے میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایات میں اس سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں، یعنی محمد بن اسحاق عن محمد بن ابراہیم تیمی عن محمد بن عبداللہ بن زید کی حدیث، کیونکہ محمد نے اپنے والد سے سنا ہے اور ابن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا۔ اور امام ترمذی کی کتاب العلل میں ہے کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث یعنی محمد بن ابراہیم تیمی کی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1837]
(ب) زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے: «اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ۔
(ج) زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے: «اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ» تثنیہ نہیں ہے۔
محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: قصۂ اذان کے بارے میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایات میں اس سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں، یعنی محمد بن اسحاق عن محمد بن ابراہیم تیمی عن محمد بن عبداللہ بن زید کی حدیث، کیونکہ محمد نے اپنے والد سے سنا ہے اور ابن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا۔ اور امام ترمذی کی کتاب العلل میں ہے کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث یعنی محمد بن ابراہیم تیمی کی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1837]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
368. ذكر جماع أبواب الأذان والإقامة -- باب: استقبال القبلة بالأذان والإقامة
اذان اور اقامت کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اذان اور اقامت میں قبلہ رخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1838
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا الْمَسْعُودِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَذَكَرَ أَوَلًا حَالَ الْقِبْلَةِ فَذَكَرَ آخِرًا حَالَ الْمَسْبُوقِ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ وَذَكَرَ بَيْنَ ذَلِكَ حَالَ الْأَذَانِ فَقَالَ: كَانُوا يَجْتَمِعُونَ لِلصَّلَاةِ يُؤْذِنُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا أَنْ يَنْقُسُوا، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَيْنَا أَنَا بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ رَأَيْتُ شَخْصًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ قَائِمٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْأَذَانِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: فِي آخِرِ أَذَانِهِ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ثُمَّ أَمْهَلَ شَيْئًا ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلِّمْهَا بِلَالًا" فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ بِهَا بِلَالًا وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ طَافَ بِي مِثْلَ الَّذِي طَافَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ سَبَقَنِي إِلَيْكَ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَسْعُودِيِّ غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَذْكُرْ مُعَاذًا فَهُوَ مُرْسَلٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کی تین حالتیں ہیں: پہلی قبلے کی حالت، دوسری مسبوق کی نماز اور تیسری اذان کی حالت کے درمیان۔ پھر فرمایا: لوگ نماز کے لیے جمع ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو اطلاع دے دیتے تھے، پھر انہوں نے ناقوس بنایا یا فرمایا: قریب تھا کہ وہ ناقوس بناتے، پھر ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلکی نیند میں تھا، میں نے ایک شخص کو دیکھا جس پر دو سبز کپڑے تھے وہ کھڑا ہوا اور قبلے کی طرف منہ کیا اور کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» ۔۔۔ یہاں تک کہ دو دو مرتبہ اذان سے فارغ ہوگیا، پھر اذان کے آخر میں کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» پھر کچھ دیر رکا رہا، پھر کھڑا ہوا اور اس کی مثل کہا لیکن «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کا اضافہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بلال (رضی اللہ عنہ) کو سکھا دے۔“ جس نے سب سے پہلے اذان دی وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس بھی ایک شخص نے چکر لگایا جس طرح عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس چکر لگایا تھا مگر وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔
ایک جماعت نے اسے اسی معنی میں مسعودی سے روایت کیا ہے، مگر عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا، لہٰذا یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1838]
ایک جماعت نے اسے اسی معنی میں مسعودی سے روایت کیا ہے، مگر عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا، لہٰذا یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1838]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 507»
الحكم على الحديث: ضعيف
369. -- باب: القيام في الأذان والإقامة
-- باب: اذان اور اقامت میں کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1839
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي بَدْءِ الْأَذَانِ وَفِي آخِرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسلمان جس وقت مدینہ میں آئے۔۔۔، پھر انہوں نے اذان کی ابتدا والی حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو کر نماز کے لیے اذان کہو!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح