السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
746. -- باب: سجدة ص
-- باب: سورہ ص کے سجدے کا بیان
حدیث نمبر: 3742
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فِي ص تَوْبَةُ نَبِيٍّ ذُكِرَتْ" قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ} [الأنعام: ٩٠] .
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورہ صٓ میں جو سجدہ مذکور ہے وہ ایک نبی علیہ السلام کی توبہ ہے۔ مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے، پس آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: «اخرجه عبدالرزاق 5873۔ وسيأتي تخريج قول ابن عباس في رقم 3746»
الحكم على الحديث: اخرجه عبدالرزاق 5873
حدیث نمبر: 3743
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَسْجُدُ فِي ص وَيَقُولُ إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ زِرٍّ هُوَ ابْنُ حُبَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ لَا يَسْجُدُ فِي ص وَرُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسْجُدُونَ فِي ص.
(الف) حضرت زر بن حبیش رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے: یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ نہیں کرتے تھے۔
(ج) صحابہ رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد سے ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ حضرات ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3743]
(ب) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ نہیں کرتے تھے۔
(ج) صحابہ رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد سے ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ حضرات ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3743]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن ابي شيبة 4268»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3744
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ ⦗٤٥٣⦘ مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنِ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص فَنَزَلَ فَسَجَدَ، ثُمَّ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ".
حضرت عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے منبر پر سورہ ﴿ص﴾ [سورة ص: 1] پڑھی، جب آیت سجدہ پر پہنچے تو منبر سے اتر کر سجدہ کیا، پھر منبر پر تشریف لے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الدار قطني في سننه 5»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3745
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَلِيٌّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ" أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ ص عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ".
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منبر پر سورت ص پڑھی تو اتر کر سجدہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3745]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني في سننه 6»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3746
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ السُّجُودِ فِي ص فَقَالَ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ} [الأنعام: ٩٠] .
حضرت مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ ص میں سجدہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، لہٰذا آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3746]
حدیث نمبر: 3747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِنْدَارٌ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَوَّامِ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ السَّجْدَةِ فِي ص، فَقَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ} [الأنعام: ٩٠] " وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْجُدُ فِيهَا".
حضرت عوام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سورہ ص میں سجدے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کریں“ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس میں سجدہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3747]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4806»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3748
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ بِنْدَارٍ وَزَادَ فِيهِ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" فَكَانَ دَاوُدُ مِمَّنْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ" أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِمَا دُونَ فِعْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ بِزَيَادَتِهِمَا.
ایک دوسری سند سے یہی روایت منقول ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں: داؤد علیہ السلام بھی ان (ہدایت یافتہ) لوگوں میں سے تھے جن کی اقتدا کا حکم تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے، لیکن اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عمل منقول نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3748]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3749
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ الْبَخْتَرِيِّ الْحِنَّائِيُّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ أَسَجَدُ فِي ص؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَقَالَ لِي: اسْجُدْ فِيهَا فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {" أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ"} [الأنعام: ٩٠] كَذَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، وَيُذْكَرُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" فِي ص سَجْدَةٌ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے فرمایا: ”کیا تم سورہ صٓ میں سجدہ کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اس میں سجدہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ اللہ کے ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔ آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کرو۔“”اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ سورہ صٓ میں سجدہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3749]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الطحاوي في مشكل الآثار 7/ 237»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3750
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَقْرَأُ سُورَةَ ص، فَلَمَّا أَتَيْتُ عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدَ كُلُّ شَيْءٍ رَأَيْتُ، الدَّوَاةُ وَالْقَلَمُ وَاللَّوْحُ، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَمَرَ بِالسُّجُودِ فِيهَا".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] پڑھ رہا ہوں۔ جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا تو ہر چیز سجدے میں گر گئی، حتیٰ کہ میں نے دوات، قلم اور لوح کو بھی سجدہ ریز دیکھا۔ صبح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وله شاهد، اخرجه محمد بن الحسن في الحجة 1/ 112»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ⦗٤٥٤⦘ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ، حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَقَرَأْتُ ص فَلَمَّا أَتَيْتُ عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ بِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ: اللهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذِكْرًا، وَاجْعَلْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَأَعْظِمْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا" قَالَ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ ص فَلَمَّا أَتَى عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ مَا أَخْبَرَ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ" بِسُجُودِي.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا تو دورانِ نماز میں نے ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 24] کی قراءت کی، جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا تو میں نے سجدہ کیا اور درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، میں نے اس درخت کو سجدے میں یہ دعا پڑھتے سنا: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذِكْرًا، وَاجْعَلْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَأَعْظِمْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا» ”اے اللہ! اس سجدہ کے بدلے میرے لیے اپنے ہاں ذکر لکھ دے اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے اور اس کا میرے لیے اپنے پاس سے بہت بڑا اجر بنا کر رکھ۔““ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 24] پڑھی جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے سجدے میں وہی دعا کرتے سنا جو اس شخص نے درخت کے بارے میں بتایا۔
یہ ابوبکر (بن اسحاق) کی حدیث کے الفاظ ہیں، مگر انہوں نے «بِسُجُودِي» (میرے سجدے کے ساتھ) کا لفظ نہیں کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3751]
یہ ابوبکر (بن اسحاق) کی حدیث کے الفاظ ہیں، مگر انہوں نے «بِسُجُودِي» (میرے سجدے کے ساتھ) کا لفظ نہیں کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3751]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف