🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
896. -- باب: من جعل قبل صلاة المغرب ركعتين
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مقرر کیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4498
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ:" كَانَ الْمُهَاجِرُونَ لَا يَرْكَعُونَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَرْكَعُونَهَا" قَالَ:" وَكَانَ أَنَسٌ يَرْكَعُهُمَا" كَذَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" كُنَّا نَرْكَعُهُمَا" وَكَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَكَأَنَّهُ أَرَادَ غَيْرَهُ أَوِ الْأَكْثَرِينَ مِنْهُمْ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مہاجر مغرب سے پہلے دو رکعت نہیں پڑھا کرتے تھے اور انصاری یہ دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ پڑھا کرتے تھے۔
(ب) دوسری روایت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہے، فرماتے ہیں کہ ہم مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھا کرتے تھے اور وہ مہاجرین میں سے تھے، تو گویا سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی مراد ان کے علاوہ دوسرے مہاجرین تھے یا ان میں سے اکثر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4498]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 3984»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4499
أَنْبَأَهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا ⦗٦٦٩⦘ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ:" كُنَّا نَرْكَعُهُمَا إِذَا قُمْنَا بَيْنَ الْأَذَانِ، وَالْإِقَامَةِ مِنَ الْمَغْرِبِ" وَفِي رِوَايَةِ السُّكَّرِيِّ:" إِذَا قُمْنَا" يَعْنِي بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَالْإِقَامَةِ مِنَ الْمَغْرِبِ.
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ان دو رکعتوں کو پڑھا کرتے تھے، جب ہم اذان اور اقامت کے درمیان مغرب کے وقت کھڑے ہوتے۔
(ب) سکری کی روایت میں ہے کہ جب ہم کھڑے ہوتے، یعنی مغرب کے وقت اذان اور اقامت کے درمیان۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4499]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4500
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ:" كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُصَلِّيَانِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ" قَالَ سُفْيَانُ: نَأْخُذُ بِقَوْلِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ:" كَانَ كِبَارُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ" يُرِيدُ سُفْيَانُ بِقَوْلِ إِبْرَاهِيمَ مَا رَوَاهُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: لَمْ يُصَلِّ أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ، وَلَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ.
زر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔
(ب) عمرو بن عامر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کبار صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد کے ستونوں کی طرف جلدی کرتے کیونکہ وہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مغرب سے پہلے دو رکعت نہیں پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4500]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطحاوي في مشكل الاثار 14/122»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4501
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ التَّاجِرُ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ سَهْلٍ التِّرْمِذِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُنَّا لَا نَدَعُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مغرب سے پہلے دو رکعت نہیں چھوڑتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4501]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4502
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ، عَنْ زُغْبَانَ مَوْلَى حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ:" رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُبُّونَ إِلَيْهَا كَمَا يَهُبُّونَ إِلَى الْمَكْتُوبَةِ" يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ.
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے غلام رغبان کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا، وہ مغرب سے پہلے دو رکعت کی یوں تیاری کرتے تھے جیسے وہ فرض نماز کے لیے تیار ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4502]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4503
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ:" أَشْهَدُ عَلَى خَمْسَةِ نَفَرٍ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ مِنْهُمْ مِرْدَاسٌ، أَوِ ابْنُ مِرْدَاسٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ".
راشد بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان پانچ آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں جنہوں نے درخت کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ ان میں مرداس یا ابن مرداس رضی اللہ عنہ بھی تھے، کہ وہ مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
[ضعیف۔ ابو نعیم فی معرفۃ الصحابہ: 6198] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4503]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4504
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ الَّذِي نَزَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى مَعَ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ صَلَّى ⦗٦٧٠⦘ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَفَرِقْتُ مِنْ عُمَرَ فَلَمْ أُصَلِّ مَعَهُ، وَصَلَّيْتُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ إِنَّهُ لَيِّنٌ" وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَرَاهُمَا، فَلَمْ يُصَلِّهِمَا أَبُو أَيُّوبَ مَعَهُ وَصَلَّاهُمَا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهَذَا مَعْنَى مَا رُوِيَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ أَنَّهُ قَالَ: ابْتَدَعْنَاهَا فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ، يَعْنِي بَعْدَمَا تَرَكُوهَا فِي عَهْدِ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، جن کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے تھے، وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غروبِ شمس کے بعد نماز سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہیں پڑھیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ اس بات کا تذکرہ ان کے سامنے ہوا تو وہ کہنے لگے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی، پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ پڑھی اور پھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ڈر گیا، اس لیے ان کے ساتھ میں نے نہیں پڑھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ دو رکعت پڑھی ہیں کیونکہ وہ نرم مزاج تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہ تو خود پڑھتے تھے اور نہ ہی ان کے پڑھنے کو صحیح سمجھتے تھے۔ اس لیے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی ان کے ساتھ نہیں پڑھیں۔
(ب) سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں چھوڑ دیا تھا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں دوبارہ شروع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4504]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4505
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَقَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ" قَالَ: أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: هُوَ شُعَيْبٌ، وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ قَالَ الشَّيْخُ: الْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ شَاهَدَ دُونَ مَنْ لَمْ يُشَاهِدْ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ فرمانے لگے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کی اجازت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4505]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
897. -- باب: من جعل بعد المغرب ركعتين، وبعد العشاء ركعتين
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو رکعتیں مقرر کیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4506
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ شَيْئًا حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيَسْجُدَ سَجْدَتَيْنِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے اور اس کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعت اور جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہیں پڑھتے تھے اور گھر میں دو رکعت پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4506]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري و مسلم۔ في غير موضع»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
898. -- باب: من جعل بعد العشاء أربع ركعات، أو أكثر
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے عشاء کے بعد چار یا اس سے زیادہ رکعتیں مقرر کیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4507
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ:" نَامَ الْغُلَيْمُ؟" أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا، ثُمَّ قَامَ، وَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي، عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، ان کے گھر رات گزاری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھائی اور گھر آ کر چار رکعت نماز پڑھی۔ پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو پوچھا: ”بچہ سو گیا؟“ یا اس سے ملتا جلتا کلمہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات ادا کیں، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4507]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 117»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں