السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
903. -- باب: كراهية الاشتغال بهما بعدما أقيمت الصلاة
-- باب: نماز کھڑی ہونے کے بعد ان دونوں (سنتوں) میں مشغول ہونے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 4548
رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَعَنِ الْحَسَنِ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَعَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ قَالَ ⦗٦٧٩⦘ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِي بِهِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِزِيَادَتِهِ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4548]
حدیث نمبر: 4549
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَخْزُومِيُّ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ عُمَرَ، وَأنبأ السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ الْحَسَنِيُّ، أنبأ أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ دَنُوقَاءُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" قَالَ زَكَرِيَّا، قَالَ حَمَّادٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ: حَدَّثَ بِهَذَا عَمْرٌو مَرَّةً فَرَفَعَهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ تَرْفَعُهُ قَالَ: بَلَى، قَالَ: لَا وَاللهِ، قَالَ: فَسَكَتَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَفَعَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سِوَى مَنْ ذَكَرْنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ وَجَمَاعَةٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرضی نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4549]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4550
أنبأ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ؟ قَالَ:" وَلَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: لَا أَعْلَمُ ذَكَرَ هَذِهِ الزِّيَادَةَ فِي مَتْنِهِ غَيْرُ يَحْيَى بْنِ نَصْرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَيَّارٍ، عَنْ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ، وَهُوَ وَهْمٌ، وَنَصْرُ بْنُ حَاجِبٍ الْمَرْوَزِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَابْنُهُ يَحْيَى كَذَلِكَ، وَفِيمَا احْتَجَجْنَا بِهِ مِنَ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ كِفَايَةٌ، عَنْ هَذِهِ الزِّيَادَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں“۔
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یحییٰ بن نصر کے علاوہ کسی نے مسلم بن خالد سے، انہوں نے عمرو سے، اس کے متن میں یہ اضافہ ذکر کیا ہو۔ احمد بن سیار سے نصر بن حاجب کے واسطے سے بھی بیان کیا گیا ہے، جو وہم ہے۔ نصر بن حاجب مروزی قوی نہیں ہیں اور ان کے بیٹے یحییٰ بھی ایسے ہی ہیں، اور جن صحیح احادیث سے ہم نے دلیل لی ہے وہ اس اضافے سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4550]
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یحییٰ بن نصر کے علاوہ کسی نے مسلم بن خالد سے، انہوں نے عمرو سے، اس کے متن میں یہ اضافہ ذکر کیا ہو۔ احمد بن سیار سے نصر بن حاجب کے واسطے سے بھی بیان کیا گیا ہے، جو وہم ہے۔ نصر بن حاجب مروزی قوی نہیں ہیں اور ان کے بیٹے یحییٰ بھی ایسے ہی ہیں، اور جن صحیح احادیث سے ہم نے دلیل لی ہے وہ اس اضافے سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4550]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4551
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، فَحَصَبَهُ وَقَالَ:" أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟" مَوْقُوفٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دو رکعتیں نماز پڑھتے ہوئے (دیکھا) جبکہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا تو انہوں نے اس کو کنکری ماری اور کہا: ”کیا تو صبح کی چار رکعتیں پڑھے گا؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4551]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 4006»
الحكم على الحديث: صحيح
904. -- باب: من أجاز قضاءهما بعد الفراغ من الفريضة
-- باب: اس قول کا بیان جس نے فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان کی قضا کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 4552
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ" فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى عَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلًا أَنَّ جَدَّهُمْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا، وہ صبح کی نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کی نماز دو رکعت ہیں۔“ اس شخص نے کہا: میں نے فجر سے پہلے دو رکعت نہیں پڑھی تھیں، میں وہ دو رکعت پڑھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4552]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن رجب في الفتح 3/318»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 4553
عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ جَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ فَصَلَّى مَعَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ له النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ؟" فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُهُمَا قَبْلَ الْفَجْرِ، فَسَكَتُ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا" أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ.
یحییٰ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور فجر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟“ تو انہوں نے کہا: میں نے فجر سے پہلے نہیں پڑھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور کچھ نہیں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4553]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم»
الحكم على الحديث: منكر
905. -- باب: من أجاز قضاءهما بعد طلوع الشمس إلى أن تقام الظهر
-- باب: اس قول کا بیان جس نے طلوعِ آفتاب کے بعد سے ظہر کھڑی ہونے تک ان کی قضا کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 4554
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كِيَانٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا الشَّيْطَانُ" ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ ⦗٦٨١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَرُوِّينَا فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا اور ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی سواریوں پر سوار ہو جاؤ کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں ہمارے ساتھ شیطان بھی حاضر ہو گیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر نماز کی اقامت کہہ دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی۔
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں کو قضا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4554]
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں کو قضا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4554]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 680»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4555
أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نُهَيْكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْغَدَاةِ فَلْيُصَلِّ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر کی دو رکعت نہیں پڑھیں، وہ سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4555]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه 1117»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4556
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ الْغُبَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ إِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُصَلِّهِمَا" تَفَرَّدَ بِهِ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَعَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ثِقَةٌ.
عمرو بن عاصم رحمہ اللہ نے اس طرح ذکر کیا ہے، لیکن وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر کی دو رکعت نہیں پڑھیں وہ سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھ لے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں عمرو بن عاصم منفرد ہیں، واللہ تعالیٰ اعلم، اور عمرو بن عاصم ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4556]
اس روایت کو بیان کرنے میں عمرو بن عاصم منفرد ہیں، واللہ تعالیٰ اعلم، اور عمرو بن عاصم ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4556]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4557
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
عبدالرحمن بن عبدالقاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے وظیفے یا اس کے کچھ حصے سے سو گیا اور پھر اسے فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لیا، تو اس کے لیے (ثواب) لکھ دیا جائے گا گویا کہ اس نے اسے رات کے وقت ہی پڑھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4557]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 747»
الحكم على الحديث: صحيح